عمر شریف کے علاج کے لیے ہر گزرتا دن اہم کیوں ہے؟

امریکی ویزا مل جانے کے باوجود ائیر ایمبولینس دستیاب نہ ہونے کے باعث کامیڈی کنگ کہلانے والے سینیئر اداکار عمر شریف ابھی تک بیرون ملک روانہ نہیں ہو پائے۔ عمر شریف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر گزرتا دن ان کی زندگی کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ڈاکٹرز نے ان کے دل کے آپریشن کے لئے 14 دن کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر ایمبولینس کا بندوبست ہونے میں ابھی دو تین روز اور بھی لگ سکتے ہیں جس کے بعد انہیں امریکہ لایا جا سکے گا۔
دوسری جانب امریکی ڈاکٹر اور اداکارہ ریما خان کے شوہر ڈاکٹر طارق شہاب نے عمر شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ انہیں عارضہ قلب کے علاوہ گردوں کے مسائل اور ذیابطیس بھی ہے۔ دراصل ڈاکٹر طارق شہاب نے ہی عمر شریف کو علاج کے لیے امریکا منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ڈاکٹر طارق کے مطابق انہیں عمر شریف کی اہلیہ زرین غزل نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے انہیں کہا ہے کہ عمر کے دل سے خون بہہ رہا ہے، ان کے پاس صرف 14 دن باقی ہیں اور ان کا علاج بھی امریکا میں ہی ممکن ہے۔ طارق شہاب کے مطابق عمر شریف کے دل کے ایک ’والو‘ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے جس سے دل میں جمع ہونے والا خون واپس پھیپھڑوں کی جانب جا رہا ہے چنانچہ انہیں سانس لینے میں مشکل درپیش ہے۔ عام زبان میں ڈاکٹر اس مسئلے کو دل سے خون بہنا ہی کہتے ہیں مگر درحقیقت اس سے خون نہیں بہتا بلکہ دل مکمل طریقے طرح سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
ڈاکٹر طارق شہاب کے مطابق عمر شریف کی ’اوپن ہارٹ سرجری‘ نہیں ہوگی بلکہ ان کے کمزور ’والو‘ کو دوسرے ’والو‘ سے جوڑا جائے گا جو کہ کافی پیچیدہ عمل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر انکے سمیت 4 سرجن، میڈیکل آلات چلانے اور ادویات فراہم کرنے والے طبی عملے کے 10 لوگ عمر شریف کا علاج کرنے والی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر شریف کے دل کے اندر ایک ’والو‘ کو دوسرے سے جوڑنے کا عمل 4 سے 6 گھنٹے کا ہے مگر مجموعی طور پر آپریشن میں زیادہ وقت لگے گا۔ ڈاکٹر طارق نے واضح کیا کہ عمر شریف کےعلاج کے لیے کیا جانے والا طبی عمل نیا ہے جو کہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں نہیں ہوتا جبکہ امریکا میں بھی چند بڑے ہسپتالوں میں ہی اس کی سہولت موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ عمر کے علاج کے لیے ہسپتال کا بل 70 سے 75 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی ایک کروڑ 10 لاکھ سے سوا کروڑ روپے تک کا ہو گا جبکہ سندھ حکومت نے عمر کے علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے اخراجات سے کہیں زیادہ رقم فراہم کی ہے اور انہیں اُمید ہے کہ تمام رقم سے اداکار کا علاج ممکن ہو سکے گا۔
ڈاکٹر طارق شہاب نے بتایا کہ اگر پیسوں کی کمی پڑ گئی تو وہ عمر شریف کے لیے آن لائن فنڈ کا پیج بنائیں گے کیوںکہ بہت سارے لوگوں نے ان سے مالی تعاون کے لیے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت کے رابطے کے بعد امریکی سفارت خانے کو عمر شریف کا ویزا جاری کرنے کے لیے خط لکھا اور اداکار کو ویزا مل چکا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ عمر شریف کی بیماری سے متعلق افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ انہیں کینسر کا ڈیمینشیا سمیت اور کوئی مرض لاحق نہیں۔ ڈاکٹر طارق شہاب نے تصدیق کی کہ عمر شریف عارضہ قلب میں مبتلا ہیں تاہم ان کا ایک گردہ کمزور ہے جب کہ انہیں ذیابطیس کا مسئلہ بھی ہے جس وجہ سے ان کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے علاج میں بھی کچھ مشکلات پیش آئیں گی۔
خیال رہے کہ سندھ حکومت نے 16 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ عمر شریف کے علاج کے لیے ان کا ویزا مل گیا اور دو دن کے اندر اداکار امریکا روانہ ہو جائیں گے تاہم تین دن گزر جانے کے باوجود اداکار کی منتقلی سے متعلق انتظامات مکمل نہیں ہو پائے۔سندھ حکومت نے 14 ستمبر کو عمر شریف کے علاج کے لیے 4 کروڑ روپے کے فنڈز بھی جاری کیے تھے۔عمر شریف گزشتہ ایک ماہ سے علیل ہیں اور وہ کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
