کیا کپتان واقعی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بات نہیں مانتا

اپوزیشن لیڈرز کی جانب سے جس شخص کو اسٹیبلشمنٹ کا تابعدار قرار دیا جا رہا ہے وہ اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ وزیر عظم بن جانے کے بعد پچھلے دو برس میں عمران خان مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ اب وہ اکثر اپنے سرپرستوں اور سہولت کاروں کی بھی بات نہیں مانتے۔ یہ دعویٰ سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے تجزیے میں کیا ہے۔
صافی کا کہنا ہے کہ بندہ واقعی تابعدار تھا، بہت تابعدار، حد سے زیادہ تابعدار، لیکن منزلِ مقصود پانے سے قبل، اب منزل حاصل کر لینے کے بعد کپتان شاطر کھلاڑی بن کر مسلسل کھیل رہا ہے اور من مرضی کے سٹروکس لگا رہا ہے۔ صافی کا کہنا یے کہ جن قوتوں کی تابع داری کی بات کی جاتی ہے اور جنہیں کہتان کا سرپرست یا سہولت کار کہا جاتا ہے، وہ پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ بنانا چاہ رہے تھے کیونکہ پرویز خٹک نے پانچ سال اُن قوتوں کو بہت خوش رکھا تھا لیکن نام نیاد تابعدار نے اپنی ذاتی انا یا خوف کی وجہ سے پرویز خٹک کو دوبارہ وزیراعلیٰ نہیں بنایا۔ تابع دار نہیں چاہتا تھا کہ پرویز خٹک جیسا صاحبِ حیثیت بندہ وزیراعلیٰ ہو جو کسی بھی معاملے میں اُن کو نہ کر سکے یا پھر براہِ راست سہولت کاروں سے رابطہ رکھے۔
اِس لئے اُس نے ایک گمنام اور نااہل شخص محمود خان کو وزیر اعلیٰ بنا دیا، حالانکہ کپتان کے سہولت کار اور سرپرست اِس نامزدگی پر خوش نہیں تھے اور آج بھی خوش نہیں۔
صافی کہتے ہیں اِسی لئے یہ کہنا غلط ہے کہ بندہ تابعدار ہے۔ بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے جو ”اُن“ سے کھیل رہا ہے۔ سرپرستوں اور سہولت کاروں کی خواہش تھی کہ پنجاب میں تگڑا وزیراعلیٰ ہو۔ پہلی ترجیح پرویز الٰہی اور دوسری ترجیح فواد چوہدری تھے لیکن کہتان نے عثمان بزدار کو میدان میں اُتار دیا۔ تب سب لوگ دنگ رہ گئے اور بعد میں اُنکی کارکردگی سے حیران اور پریشان ہونے لگے۔ بزدار سے سب سے زیادہ پریشان کپتان کے سرپرست اور سہولت کار ہیں۔ پچھلے دو برسوں میں اُنہوں نے ہر طریقے سے مشکل بزدار کو ہٹانے کے لئے دباؤ ڈالا لیکن تابعدار خان مصر ہے کہ وہ جادو کی چھڑی سے پنجاب کو ٹھیک کردیں گا۔ سہولت کار اور سرپرست کہہ کہہ کر تھک گئے بلکہ تھک ہار کر اب اُنہوں نے کہنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اِس لئے بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے جو ”اُن“ سے بھی کھیل رہا ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ پچھلی مرتبہ وزارتِ اطلاعات کی ٹیم بدلنے کا وقت آیا تو سرپرست اور سہولت کار سینیٹر انوار الحق کاکڑ کو وزیر اطلاعات بنانا چاہ رہے تھے لیکن کپتان کو خیال آیا کہ انوار کاکڑ اُن سے زیادہ سرپرستوں اور سہولت کاروں کے راستے پر چلیں گے۔ اِس لئے شبلی فراز کو وزارتِ اطلاعات سونپ دی گئی اور ساتھ سرپرستوں کو راضی رکھنے کے لئے عاصم سلیم باجوہ کو وزیر مملکت بنا دیا۔ اب کی بار سرپرستوں اور سہولت کاروں کی خواہش تھی کہ پرویز خٹک کو وزیر داخلہ بنا دیا جائے۔ تابعدار خان ٹال مٹول کرتا رہا تو اُنہوں نے فواد چوہدری کو اِس منصب کے لئے تجویز کر دیا لیکن کپتان نے اچانک شیخ رشید کو وزارت دینے کا اعلان کر ڈالا۔ اِسی لئے بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے اور ”اُن“ کے ساتھ خوب کھیل، کھیل رہا ہے۔
صافی کے مطابق کپتان کے ایک دست راست اور رازدان مشیر کی پوزیشن مقتدر حلقوں کے ہاں کلیئر نہیں ہو رہی تھی، چنانچہ بندے نے امریکہ کے دورے میں اُسے ٹرمپ اور اُن کے داماد کے سامنے اپنے خصوصی نمائندے کے طور پر متعارف کرایا اور امریکیوں کو یہ پیغام دیا کہ کوئی خاص اور راز کی بات کرنی ہو تو اُن کے ذریعے کی جائے۔ یوں ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد اور اِس مشیر کا چینل استوار کیا گیا۔ یوں سرپرست اور سہولت کار حیران رہ گئے اور اُنہیں اِس مشیر کو بادل نخواستہ قبول کرنا پڑا۔ اس لئے بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے جو بھرپور طریقے سے کھیل رہا ہے۔
صافی مذید کہتے ہیں کہ کپتان نے جب اُسامہ بن لادن کو شہید کہا تو سمجھدار لوگوں نے انکو مشورہ دیا کہ وہ اُسے سلپ آف ٹنگ (Slip Of Tongue) قرار دے دیں کیونکہ عالمی سطح پر ملک کو نقصان ہوگا۔ لیکن تابعدار نے اپنی کابینہ کے وزرا کو کسی وضاحت سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ مجھے ووٹ امریکیوں سے نہیں بلکہ پاکستانیو سے لینا ہے۔ تاہم کچن کیبنٹ میں جب اسامہ والی بات زیر بحث آئی تو کپتان نے کہا کہ میں نے بیان سوچ سمجھ کر دیا تھا اور ذرا پنڈی والوں کو اُن کی اوقات یاد دلانا چاہ رہا تھا کیونکہ آج کل وہ کچھ آپے سے باہر ہورہے ہیں۔ اِسی لئے بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے جو ”اُن“ سے بھی کھیل رہا ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو چونکہ کپتان کے حق میں استعمال ہورہا تھا لیکن براہِ راست کنٹرول اِن کے ہاتھ میں نہیں تھا لہذا جب چیئرمین نیب نے دونوں طرف ہوائیں چلنے کی بات کی تو بندہ تابعدار اِس کنٹرول کے لئے زیادہ متحرک ہونے لگا اور پھر ایک خاتون نے چیئرمین نیب سے متعلق ایک وڈیو کلپ کپتان کے پورٹل پر ڈال کر زنجیر عدل ہلا دی۔ خاتون کا یہ خیال تھا کہ بندہ چیئرمین نیب کا محاسبہ کرکے اُن کو انصاف دلوائے گا لیکن بندہ تابعدار نے خاتون کو ملاقات کے لئے بلا لیا اور اُس کے پاس جتنی آڈیو وڈیو ریکارڈنگز تھیں، سب کی سب قبضے میں لے لیں۔ صافی کے مطابق چیئرمین نیب کو ایک جھلک دکھانے کے لئے وہ وڈیو ایک ٹی وی چینل پر چلوا دی گئی جس کی وجہ سے وہ خاتون پورے ملک میں رسوا تو ہوئیں لیکن اُنہیں انصاف نہیں ملا۔ اب اُس مواد کی بنیاد پر کپتان چیئرمین، ڈی جی اور ترجمان کو اشاروں پر چلا رہا ہے۔
صافی کہتے ہیں چنانچہ جب سرپرست اور سہولت کار اپوزیشن کے ساتھ قوم کے وسیع تر مفاد میں معاملات بہتر بنانے کے منصوبے پر کام کررہے تھے، تو اس منصوبے کو تابعدار نے نیب چیئرمین پر اِس مواد کی بنیاد پر دباؤ ڈال کر سبوتاژ کردیا۔ اس لئے ﷲ کے بندو! بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں میں اپوزیشن کے تقسیم ہونے کی وجہ سے کپتان بھی مطمئن تھا اور سرپرست بھی سکون میں تھے۔ پی ڈی ایم کا بننا دونوں کے لئے سرپرائز تھا۔ میاں نواز شریف کے اچانک بگڑ جانے اور انکے فوجی قیادت مخالف بیانیے نے سرپرستوں کو زیادہ پریشان کردیا چنانچہ اُنہوں نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے شروع کردیے۔ ضروری نہیں کہ وہ رابطے بندے کی مخالفت میں ہورہے تھے بلکہ شاید وہ اُن کے لئے فضا کو سازگار بنانا چاہ رہے تھے لیکن بندے کے کپتان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہے کہ اپوزیشن سے مفاہمت کا مطلب یہ ہوگا کہ اُن کی ضرورت ختم ہو گئی اور انکی چھٹی کروا دی جائے گی۔ چنانچہ وہ سہولت کاروں اور سرپرستوں کو دباؤ میں لانے کے لئے دھمکیوں پر اُتر آئے۔ ایک دن بیان دیا کہ اگر نواز شریف کی جگہ میں ہوتا تو جنرل ظہیر کو فارغ کردیتا۔ دوسرے دن بیان دیا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آرمی چیف کون ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی کون ہے؟ اگلے دن خالد بن ولید کو سپہ سالار کے منصب سے ہٹانے کی بات کی۔ مقصد صوف دوسری پارٹی کو دفاعی پوزیشن پر لانا تھا۔ اس لئے ﷲ کے بندو! بندہ تابعدار نہیں بلکہ بہت بڑا کھلاڑی ہے جو سب کے ساتھ بہت اچھی طرح کھیل رہا ہے۔
