کے الیکٹرک کیخلاف اقدامات پر حکم امتناع خارج

سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع خارج کرتے ہوئے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عمل درآمد کا حکم دے دیا، ساتھ ہی 10 روز میں نیپرا ٹریبیونل کے اراکین تعینات کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
وفاقی دارالحکومت میں عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس پر سماعت کی، جہاں عدالت نے کے الیکٹرک اور پاور ڈویژن پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے، حکومت کیا ایسے پاکستان چلائے گی، کراچی کے کرتا دھرتا تو منہ سے نوالہ بھی چھین لیتے ہیں، وفاقی حکومت بالکل بے بس ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ 2015 سے کے الیکٹرک نے حکومت کو ایک روپیہ نہیں دیا، کے الیکٹرک عوام کو بجلی اور حکومت کو پیسے نہیں دیتی، خواہ مخواہ کہا جاتا ہے کراچی معیشت کا 70 فیصد دیتا ہے، کراچی کے پاس دینے کےلیے اب کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اربوں روپے جاری ہوئے پر خرچ کچھ نہیں ہوا، کراچی والوں کے بیرون ملک اکاؤنٹ فعال ہوچکے ہیں، شہر میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پہلے ہی اربوں روپے بیرون ملک جاچکے ہیں، وفاقی حکومت کی آخر رٹ کہاں ہے۔
کراچی کے میئر کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ 4 سال تک میئر رہنے والے نے ایک نالی تک نہیں بنائی۔ بعد ازاں عدالت نے نیپرا قانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم دے دیا، ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نیپرا، قانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی فراہمی کے خصوصی اختیار کا فیصلہ کرے جب کہ 10 روز میں نیپرا ٹربیونل کے اراکین بھی تعینات کرے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی۔ مزید برآں سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کردیا، اس کے علاوہ عدالت نے نیپرا سے کارروائی پر مبنی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں لوڈشیڈنگ، اوور بلنگ، کرنٹ لگنے سے لوگوں کی ہلاکت کے معاملے پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہی سماعت کی تھی اور شہر کو بجلی فراہم کرنے والے واحد ادارے کے الیکٹرک پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔
چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری ہے، جس کا خمیازہ کراچی والے بھگت رہے ہیں، ہماری حکومت کا حال دیکھیں ایسی کمپنی کو کراچی دیا ہوا ہے، جو ڈیفالٹر کمپنی ہے اس کا مالک جیل میں بند ہے۔ ساتھ ہی چیف جسٹس گلزار نے کہا تھا کہ یہ لوگوں کی زندگی کا معاملہ ہے، ہم لوگوں کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ مزید یہ کہ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا نے بتایا تھا کہ کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی ہو تو یہ حکم امتناع لے لیتے ہیں، ان کے سارے معاملات گیس اور فیول اور بجلی کی پیداوار تک سب خراب ہے۔ جس پر عدالت نے کے الیکٹرک کی درخواستوں پر دیے گئے حکم امتناع کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button