گونتانامو جیل کا ٹرینڈ عمر شیخ ایک ریپسٹ پکڑنے میں ناکام

دس روز گزر جانے کے باوجود موٹروے گینگ ریپ کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں لاہور پولیس کی مکمل ناکامی نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے ان کھوکھلے دعوؤں کا پول ضرور کھول دیا ہے کہ وہ پنجاب کے قابل ترین پولیس آفیسر ہیں جنہوں نے خطرناک ترین مجرم قابو کرنے کی خصوصی تربیت پہلے امریکی پولیس سے واشنگٹن میں اور پھر برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے انگلینڈ میں حاصل کی تھی جس کے بعد وہ گوانتانامو بے کی جیل میں بھی بطور آفیسر تعینات رہے۔ عمر شیخ نے یہ دعوے جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کے ایک پروگرام میں کیے تھے جس کے بعد انکے بولنے پر آئی جی پنجاب نے پابندی عائد کر دی تھی۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف چند ماہ پہلے ہی سینٹرل سلیکشن بورڈ نے عمرشیخ کو داغدار کیریئر کا حامل پولیس آفیسر قرار دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے انہیں اگلے گریڈ میں ترقی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم پھر وہ وقت بھی آیا جب اسی وزیر اعظم نے اسی عمر شیخ کی خاطر پنجاب کے آئی جی شعیب دستگیر کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا۔ سی سی پی او کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جس پہلے چیلنج کا عمر شیخ کو سامنا کرنا پڑا وہ موٹروے گینگ ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کی گرفتاری تھی جس میں وہ دس روز گزر جانے کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہیں۔
جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور سے تعلق رکھنے والے لاہور کے بدزبان سی سی پی او عمر شیخ آج کل خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ان کے واحیات بیانات اور ان سے جڑے تنازعات ہیں۔ مگر یہاں انکا ایک دلچسپ کارنامہ سنانا بھی ضروری ہے جو ان کے ایک پرانے قریبی دوست نے سنایا۔ یہ نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا۔ تب کے آرمی چیف پرویز مشرف سری لنکا کا دورہ کرنے کے بعد پاکستان پہنچے تو انھیں ان کے عہدے سے برطرف کیا جا چکا تھا اور انہیں کراچی ائیرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ مل سکی۔ نواز حکومت نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ضیاالدین بٹ کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔ مگر یہ پلان ناکام ہو گیا اور ایک کاونٹر کو سٹیج کر دی گئی۔ جب کراچی ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے پرویز مشرف کے طیارے کو نواب شاہ کے ایئرپورٹ پر اترنے کے احکامات موصول ہوئے تو پولیس کی طرف سے جو افسر اُن کا استقبال کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے تھے وہ عمر شیخ ہی تھے۔
وہ اس وقت سندھ کے ضلع نواب شاہ پولیس کے سربراہ تھے۔ عمر شیخ اپنے 28 برس کے پولیس کرئیر میں 1997 سے لے کر 2008 تک سندھ اور پنجاب کے دس اضلاع میں پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ عمر شیخ کا دعوی ہے کہ وہ واشنگٹن اور لندن سے خصوصی تربیت لینے کے بعد گوانتاناموبے میں بھی تعینات رہے ہیں اور خطرناک ترین مجرم پکڑنے میں ان کو کمال حاصل ہے۔ تاہم ان کا یہ دعوی موٹروے ریپ کیس کے چھوٹے سے ملزم کی عدم گرفتاری کی وجہ سے ان کے لئے ایک طعنہ بنتا جا رہا ہے۔
عمر شیخ نے ابتدائی تعلیم سرکاری سکول سے حاصل کی ہے جسے وہ بڑے فخر سے ‘ٹاٹ سکول‘ کہتے ہیں۔ ان کے مطابق انھیں پولیس میں جس طرح سے فیلڈ میں کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ کم ہی کسی پولیس افسر کو ملا ہو گا۔ وہ اپنے آپ کو پاکستان کا بہترین پولیس افسر قرار دیتے ہیں۔ ان کے ایک اور بچپن کے دوست نے بتایا کہ عمر کے والدین سیالکوٹ کے نواحی علاقے ڈسکہ سے ہجرت کر کے خان پور چلے گئے تھے۔ ان کے والد چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ عمر نے ابتدائی تعلیم خان پور سے حاصل کی اور پھر 1989 میں مقابلے کا امتحان پاس کیا۔ عمر شیخ کے بچپن کے دوست کا کہنا ہے کہ ان کا ابتدائی دنوں میں مذہب کی طرف رحجان بہت زیادہ تھا اور اگر وہ پولیس سروس کی طرف نہ آتے تو شاید ایک جہادی بن جاتے۔
عمر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا مگر ان کی پولیس افسر بننے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ اس کے بعد دل میں پولیس افسر بننے کی آس لیے انھوں نے سی ایس ایس کی دوبارہ تیاری شروع کر لی۔ عمر اس بار نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر یوں انھوں نے 20 ویں کامن گروپ سے اپنے پولیس کریئر کا آغاز کیا۔ پولیس میں اہم عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ عمر شیخ موٹروے پولیس اور نیکٹا میں بطور ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی بھی تعینات رہے ہیں۔ انخا دعوی ہے کہ وہ امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل فرانزک میں کورسز بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انکا۔کہنا ہے کہ وہ لندن میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 سے ٹریننگ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ سی سی پی او لاہور تعینات ہونے سے پہلے عمر شیخ ڈی آئی جی سپیشل پروٹیکشن یونٹ تعینات تھے، جس کے ذمہ سی پیک کے منصوبوں پر تعینات چینی باشندوں کی حفاظت کرنا تھی۔
جب انھیں گریڈ 20 سے 21 میں ترقی نہیں مل سکی تو انھوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور سنٹرل بورڈ کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے۔عدالت نے چھ اگست 2020 کو فیصلہ محفوظ کیا، جو اب کسی بھی تاریخ کو سنایا جا سکتا ہے۔ اس مقدمے میں عمر شیخ نے الزام عائد کیا ہے کہ سلیکشن بورڈ نے انھیں نظر انداز کر کے جس افسر کو ترقی دی وہ سانحہ ساہیوال کی وجہ سے کئی ماہ تک معطل رہا تھا کیونکہ وہ تب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی کا سربراہ تھا جس کے کمانڈوز نے ایک معصوم خاندان کو جی ٹی روڈ پر گولیوں کا نشانہ بنا دیا تھا۔
دراصل سنٹرل سلیکشن بورڈ نے عمر شیخ کو داغدار کیریئر کا حامل پولیس افسر قرار دیتے ہوئے اگلے گریڈ میں ترقی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عمر شیخ کے مطابق عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے قبل وہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو بھی یہ کہہ کر آئے تھے کہ وزیر اعظم سے کہیں کہ وہ اس معاملے پر تحقیقات کرائیں کہ انھیں ترقی کیوں نہ دی گئی اور ان کا نام سی کیٹیگری میں شامل کس وجہ سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے ترقی نہ دینے والے بورڈ میں شامل چیئرمین ایف پی ایس سی اور چاروں صوبوں کے سربراہان سے شکوہ کیا کہ ‘جب ان سب نے میرے ساتھ کام تک نہیں کیا تو پھر میرے خلاف رائے کیوں قائم کی۔‘ عمر شیخ کے ساتھ کیریئر کا آغاز کرنے والے ان کے دوست کی رائے میں یہ کسی افسر کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے سی کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں عمر شیخ نے یہ بات جوش خطابت میں کر دی ہو گی۔
سی سی پی او نے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: ‘تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔’انھوں نے اپنے اس بیان پر معافی مانگ لی لیکن ان پر اب بھی شدید تنقید جاری ہے۔
شعیب دستگیر کو کیوں ہٹایا گیا؟ اس حوالے سے حکومت اور ہٹائے جانے والے آئی جی کے موقف میں تضادات ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے جانے کے پس منظر میں لاہور کے سی سی پی او کے عہدے پر عمر شیخ کی تعیناتی کا معاملہ بھی تھا۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کوئی افسر لگائیں اور کوئی آ کر کہے کہ یہ نہ لگائیں، یہ نہیں ہو سکتا’۔ شعیب دستگیر نے بھی میڈیا کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے ایک بیان سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے گئے شعیب دستگیر گریڈ 22 کے افسر ہیں۔ وہ اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے جس نے عمر شیخ کی گریڈ 20 سے 21 میں ترقی کے خلاف سخت رائے دی تھی، جس کے بعد انھیں ترقی نہ مل سکی۔ تاہم موٹروے ریپ کیس میں میں عمر شیخ کی اب تک کی پرفارمنس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کا انہیں اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کا فیصلہ سراسر جائز تھا۔
