گھوٹکی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب دھماکا، 2 اہلکار شہید

صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں گوشت کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 2 رینجرز اہلکار شہید ہوگئے جبکہ اس دوران ایک شہری بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق دھماکا گھوٹا مارکیٹ کے قریب گوشت کی دکان میں ہوا جہاں سے رینجرز اہلکار روزانہ گوشت خریدا کرتے تھے جبکہ جائے وقوع کے قریب رینجرز موبائل بھی کھڑی تھی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) فرخ لونجر کے مطابق دھماکے کے فوری بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔پولیس کا کہنا تھا کہ بم پہلے سے نصب کیا گیا تھا تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق شہید رینجرز اہلکاروں کی شناخت ظہور احمد اور فیاض احمد کی نام سے ہوئی جبکہ راہ گیر غلام مصطفی بھیو بھی جاں بحق ہوگیا۔
علاوہ ازیں پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے افراد کو سول ہسپتال گھوٹکی منتقل کردیا گیا۔
بعدازاں دھماکے کی تفتیش کے لیے جانے والی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کو حادثہ پیش آنے کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔افسر قادر بخش نے بتایا بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی سکھر سے گھوٹکی جارہی تھی کہ سکھر موٹروے پر سانگی کے مقام پر الٹ گئی۔انہوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل 12 جون کو راولپنڈی کے علاقے صدر کینٹ کے تجارتی علاقہ کوئلہ سینٹر میں بم دھماکے میں کم از کم ایک شہری جاں بحق اور بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ترجمان راولپنڈی پولیس سب انسپکٹر سجاد الحسن کا کہنا تھا کہ کباڑی بازار میں چھوٹا بازار میں کارنر فوڈ کے نزدیک دھماکا پوا جبکہ فوری طور پر دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی تاہم سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تفتیش کا آغاز کردیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ایک بزرگ اور 3 بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہیں اور ایک شہری جاں بحق ہوگیا جب کہ بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا۔
رواں برس فروری میں کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب احتجاج کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button