ہم نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 20 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک کم کیا

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہےکہ قرض لینے کا شوق نہیں لیکن ماضی کے قرضوں کی واپسی کے لیے قرض لے رہے ہیں اور ٹیکس محاصل میں اضافہ نہیں کریں گے توقرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔مشیر خزانہ نے دعویٰ دیا کہ مالی سال 20-2019 کے ابتدائی 9 ماہ میں حکومت کو بڑی کامیابیاں ملیں۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ہم حکومت میں آئے واجبات 30 ہزار ارب روپے تھے جس میں سے 2 سال کے عرصے میں 5 ہزار ارب روپے واپس کیے گئے۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران 2 ہزار 700 ارب روپے واپس کیے گئے حالانکہ صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاقی حکومت کی آمدن 2 ہزار ارب روپے بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے اخراجات کو قابو میں رکھیں گے اسی لیے اسٹیٹ بینک سے ٹکا بھی نہیں لیا گیا اور پرائمری سرپلس حاصل کیا، اپنے اخراجات آمدن سے کم رکھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 20 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک کم کیا اور کمزور طبقے کی مدد کے لیے 2 کھرب روپے مختص کیے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 11 سو ارب روپے تھا لیکن 16 سو ارب روپے حاصل کیے گئے جو بہت بڑی کامیابی تھی اور عالمی اداروں نے پاکستان کی کاردکردگی کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے معیشت کو 3 کھرب روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، اگر اس بحران آنے سے پہلے والی صورتحال برقرار رہتی تو ہم ریونیو کو 4 ہزار ارب تک پہنچا سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کوئی بہانہ نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے اور اس سے دنیا بھر کی آمدنی کو 4 فیصد نقصان ہونے کا امکان ہے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ ایک کروڑ 60 افراد کو نقد رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں سے ایک کروڑ سے زائد گھرانوں کو یہ رقم فراہم کی جاچکی ہے۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ میں دگنا اضافہ ہوا لیکن کورونا وائرس آیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم ساڑھے 4 ہزار ارب سے لے کر 4 ہزار 700 ارب روپے تک ریونیو کا ہدف حاصل کرسکتے تھے لیکن کورونا بحران کی وجہ سے بمشکل 3 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ سکے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں 7 سو ارب روپے کا نقصان سہنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ کاروبار زندگی معطل ہونے کی وجہ سے نوکریاں کم ہوئیں اور غربت میں اضافہ ہوا اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا اس مسئلے سے احسن طریقے سے نمٹا جائے اور محدود ذرائع کے باوجود ہر ممکن گنجائش سے لوگوں کی مدد کی جائے۔چنانچہ 12 کھرب روپے کا پیکج دیا گیا اور حکومت نے ایک کروڑ 60 لوگوں کو نقد رقم پہنچانے کا فیصلہ کیا جس میں سے ایک کروڑ سے زائد افراد کو پہنچائی جاچکی ہے اور ہر خاندان کے 6 سے 7 افراد کو شمار کیا جائے تو اس طرح آپ 10 کروڑ پاکستانیوں تک پہنچے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2 کھرب 80 ارب روپے کی گندم خریدی تا کہ کسانوں کے پاس پیسہ جائے تو وہ ڈیمانڈ بڑھائیں، یعنی ٹریکٹرز، موٹر سائیکل خریدیں، گھروں کی مرمت کریں تا کہ معیشت میں طلب بڑھے۔
اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کے بلز کی ادائیگی کا وعدہ کیا، ساتھ ہی 50 ارب روپے زراعت میں دیے گئے تا کہ کھاد کی قیمتیں کم ہوں، کارخانوں کو سبسڈی دی گئی اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے پے رول اخراجات کا نظام لایا گیا جس سے 6 لاکھ کارخانوں نے فائدہ اٹھایا۔اسی طرح کسی کمپنی کا بینک سے لیے گئے پرنسپل قرض کو ایک سال تک کے لیے مؤخر کیا گیا اور یوٹیلیٹی بلز کے صارفین کے لیے ادائیگی کو 6 ماہ تک کے لیے موخر کیا گیا۔انہوں نے کہا یہ سب فیصلے اس وقت کیے گئے جب حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے اور جب تیل کی قیمت کم ہوئی تو حکومت نے یہ نہیں کیا کہ ٹیکسز بڑھا کا جتنا چاہے فائدہ حاصل کرے بلکہ کوشش کی گئی کہ جس قدر ممکن ہو عوام کو مستفید کیا جائے اسلیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی گئی بلکہ مٹی کے تیل کی قیمت ایک چوتھائی تک کم کی گئیں۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ جو مالی سال اختتام پذیر ہورہا ہے اس میں بہت اچھی پالیسز کے ذریعے ثمرات عوام تک پہنچائے گئے لیکن اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا سب سے اہم چیز ملکی قرضوں کی واپسی ہے، جس سے ہم چھٹکارا نہیں پاسکتے گزشتہ 2 سالوں کے دوران 50 کھرب روپے واپس کیے گئے اور اس برس ہمیں 29 کھرب روپے کی ادائیگی کرنی ہے اس میں کمی کرنا ہمارے بس میں نہیں نہ اس میں ہمارا قصور ہے۔مشیر خزانہ نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ یہ 29 کھرب قرضوں کی ادائیگی کے بجائے پاکستانی عوام پر خرچ کیے جائیں ہم چاہیں گے کہ احساس پروگرام کو کئی گنا بڑھادیں لیکن ہمیں قرض کی ادائیگی کرنی ہے اسلیے کوشش کی گئی کہ حکومت کے اخراجات کم کریں جس کے لیے بہت مشکل فیصلے کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے جتنا عوام کو دے سکتی ہے وہ دے اور جتنا کم ٹیکس لے سکتی ہے وہ لے لیکن اگر ہمیں 30 کھرب روپے قرض دینا ہے تو کہیں کٹوتی کرنی پڑے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھی قرض لے رہے ہیں لیکن ہم قرض اس لیے نہیں لے رہے کہ ہمیں عیاشی کا شوق ہے یا وزیراعظم ہاؤس، ایوانِ صدر کا بجٹ بڑھایا جارہا ہے یا سول حکومت کے بجٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے بلکہ ہمارے قرض لینا کا بنیادی مقصد ماضی کے قرضوں کی ادائیگی ہے۔مشیر خزانہ نے کہ آئندہ بجٹ کی اہم چیزیں یہ ہیں کہ میں ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ عوام کورونا بحران کی وجہ سے مشکل میں ہیں اور ہم حکومتی اخراجات کو کم کریں گے اس کے باجود ترقیاتی پروگرام کو بڑھائیں گے جس میں گزشتہ برس ایک کھرب روپے کا اضافہ کیا جس سے یہ ساڑھے 6 سو ارب روپے پر رکھا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا احساس پروگرام کو بھی مزید بجٹ دیا جائے گا اور 12 کھرب روپے کی پیکج میں سے اگر کچھ رقم بچی تو اسے محفوظ کیا جائے گا تا کہ آئندہ برس استعمال کی جائے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ اسے ریلیف بجٹ اس لیے کہا جارہا ہے کیوں کہ اس میں سے کئی ٹیکسز کم کیے گئے۔تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 16 سو 23 ٹیرف لائنز یعنی ہزاروں قسم کے درآمدی خام مال پر ڈیوٹی کو ختم کیا جارہا ہے تا کہ کاروبار کی لاگت کم ہو اور لوگ اپنے کاروبار وسیع کرسکیں اور نوکریاں دے سکیں۔انہوں نے بتایا کہ مزید 200 ٹیرف لائن میں ڈیوٹی کو صفر نہیں البتہ کم کیا جارہا ہے اس کے علاوہ 166 ٹیرف لائن ہیں جس میں ٹی وی کمبلوں کی درآمد شامل ہے اس میں بھی کمی کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ 10 قسم کے ودِ ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جارہا ہے اور متعدد ایسے سیکٹرز ہیں جنہیں کئی مراعات دی جارہی ہیں اس میں کنسٹرکشن سیکٹر کو کئی مراعات دی جارہی تا کہ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں۔اسی طرح سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی میں 25 پیسے فی کلو گرام کمی کی جارہی ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے آٹومیشن کے ذریعے منسلک ہول سیلرز کو بھی آسانیاں دی جارہی ہیں۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق اشیا کٹس وغیرہ پر ٹیکس کو ختم کیا جارہا ہے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نجی شعبے کو مراعات دے کر نوکریاں پیدا کرے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاروباری آسانیوں کے لیے متعدد قوانین میں بھی تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور حکومت پورا سال نگرانی کرے گی جہاں پالیسی میں کوئی رکاوٹ آئی وہاں ردِ عمل دیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ دنیا کے ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں ہمارے ہاتھ لوگوں کی جیبوں پر نہیں اور ہم اس طرح نہیں چلنا چاہتے کہ ہمارے خاندان ہوں ان کے کاروبار ہوں۔پریس کانفرنس کے بعد پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا ایف بی آر کے ریونیو ٹارگٹ اسلیے بڑھایا گیا کہ کم از کم ہم کوشش تو کریں آمدن کی اسلیے ہم اضافی ٹیکس نہیں لگارہے اور ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن کوئی چیز یقینی نہیں کیوں کہ معلوم نہیں کورونا وائرس کب تک رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button