موٹروے پر 100 کلومیٹر حدِ رفتار: ایندھن کی بچت یا عوام پر نیا بوجھ؟

پاکستان میں موٹرویز کو ہمیشہ تیز، محفوظ اور آرام دہ سفر کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ برسوں سے موٹروے پر کاروں کیلئے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حدِ رفتار مقرر تھی، لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران اور ایندھن کی بچت کی حکومتی پالیسی کے تحت اس رفتار کو کم کرکے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دیا گیا۔ اب یہی فیصلہ ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی بچت کی بنیاد پر رفتار کی حد کم کرنا موجودہ قوانین کے مطابق نہیں اور اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں شہریوں کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون رفتار میں تبدیلی کی اجازت صرف عوامی تحفظ، سڑکوں کی حالت یا مخصوص حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر دیتا ہے۔ اگر صرف ایندھن کی بچت مقصد ہو تو اس کیلئے واضح قانونی جواز درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس بنیاد پر کیے گئے جرمانے واپس کیے جائیں۔

دوسری جانب موٹروے پولیس اور وفاقی حکومت کا مؤقف مختلف ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ توانائی کے بحران اور ایندھن کی بچت کیلئے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ رفتار کم ہونے سے نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہوتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج میں بھی کمی آتی ہے۔عالمی تحقیق بھی اس مؤقف کی کسی حد تک تائید کرتی ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق گاڑی جتنی زیادہ رفتار سے چلتی ہے اتنا ہی انجن پر دباؤ بڑھتا ہے اور ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں بھی توانائی بحران کے دوران رفتار کی حد کم کرنے کے تجربات کیے جا چکے ہیں۔

تاہم پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے سے مطمئن نظر نہیں آتی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹروے بنیادی طور پر وقت بچانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ اگر رفتار کم کر دی جائے تو طویل فاصلے کے سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر لاہور، اسلام آباد، پشاور اور ملتان جیسے شہروں کے درمیان سفر کرنے والے افراد اس فیصلے کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔

ایک اور بڑا اعتراض جرمانوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ متعدد ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انہیں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سابقہ حد کا علم تھا لیکن نئی حد کے بارے میں مناسب آگاہی نہیں دی گئی، جس کے باعث ہزاروں روپے کے جرمانے ادا کرنے پڑے۔

سوشل میڈیا پر بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا حکومت نے واقعی ایندھن زیادہ بچایا ہے یا اوورسپیڈنگ جرمانوں سے زیادہ آمدن حاصل کی ہے۔ اگرچہ حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جرمانوں کی رقم موٹروے پولیس کے پاس نہیں بلکہ قومی شاہراہوں کے ادارے کو جاتی ہے، لیکن عوامی بحث بدستور جاری ہے۔

اس تنازع کا سب سے اہم پہلو قانونی حیثیت ہے۔ اگر عدالت یہ قرار دیتی ہے کہ رفتار میں کمی قانون کے مطابق نہیں کی گئی تو نہ صرف موجودہ پالیسی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ پہلے سے کیے گئے جرمانوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور عوام دونوں کے دلائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایک طرف توانائی کی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کا مؤقف ہے جبکہ دوسری جانب شہریوں کی سہولت، وقت کی بچت اور قانونی تقاضوں کا سوال ہے۔اب نظریں اسلام آباد ہائی کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ موٹروے پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حدِ رفتار برقرار رہے گی یا حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ یہ فیصلہ صرف رفتار کے تعین کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی سہولت، قانونی اختیار اور حکومتی پالیسی سازی کے درمیان توازن کا بھی امتحان ہوگا۔

Back to top button