فوجی افسران کے بجلی بلوں میں 50 فیصد چھوٹ مانگ لی گئی

فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز نے وزارت دفاع کے ذریعے نیپرا سے بجلی کے بلوں پر کمیشنڈ افسران کو 50 فیصد چھوٹ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جی ایچ کیو کی جانب سے لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں نان اسٹاپ اضافہ تمام صارفین کو بلا امتیاز متاثر کر رہا ہے، اسی تناظر میں جنرل ہیڈ کوارٹرز وزارت دفاع کے ذریعے یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کے بلوں پر کمیشنڈ افسران کو 50 فیصد چھوٹ دے۔
نیپرا کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ درخواست جی ایچ کیو، کوارٹر ماسٹر جنرل برانچ، ڈائریکٹر ورکس اور چیف انجینئر آرمی نے بھیجی ہے۔ کمیونیکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے 1985 میں کمیشنڈ آرمی آفیسرز کے لیے بجلی کے چارجز پر 25 فیصد چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب وزارت دفاع نے وفاقی کابینہ کے لیے "بجلی کے بلوں پر کمیشنڈ افسران کو 50 فیصد چھوٹ” کے عنوان سے ایک سمری تیار کر کے وزارت خزانہ کو بھیج دی ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے لیے مجوزہ سمری کا فنانس ڈویژن میں جائزہ لیا گیا اور دلیل دی گئی کہ چونکہ بجلی کے بلوں سے متعلق معاملات پاور ڈویژن کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے وزارت دفاع کو پاور ڈویژن سے رجوع کرنا چاہیے یا پھر نیپرا رول آف بزنس، 1973 کے رول 18 (4) کے مطابق اس کی رہنمائی کرے۔
یاد رہے کہ موجودہ حکومت ک دور میں بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وہ فروری 2022 سے لاگو ہونے والے صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف میں 0.95 روپے فی یونٹ تک مذید اضافے کی تیاری کر رہی ہے۔ لہذا وزارت دفاع نے بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کے پیش نظر حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ فوج کے کمیشنڈ افسران کے بجلی کے بلوں میں 50 فیصد چھوٹ دی جائے۔
