190ملین ریفرنس کی سماعت،عمران خان نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ڈانٹ پلادی

بانی پی ٹی آئی عمران خان نےاڈیالہ جیل کے کمرہ عدالت میں 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو ڈانٹ پلادی۔

190ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران عمران خان کا جج سے مکالمہ ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ میرے لیڈنگ وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا۔جیل میں نئے اسٹاف کی تعیناتی کے بعد ملاقاتوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔یہ کیسا اوپن ٹرائل ہے میں اپنے وکلاء سے نہیں مل سکتا۔تین ہفتے ہو گئے مجھے میرے بیٹوں سے بات نہیں کرنے دی جارہی۔جیل انتظامیہ کبھی کوئی بہانہ بناتی ہے تو کبھی کوئی، جیل انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ میری بیٹوں سے بات کیوں نہیں کروا رہے۔میرا آئینی و قانونی حق ہے کہ ہفتے میں ایک دفعہ اپنے بیٹوں سے بات کروں۔

عدالت نے ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل طاہر شاہ کو روسٹرم پر بلا لیا۔

عدالت نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل سے استفسار کیا کہ کیا وجہ سے کہ ان کی بیٹوں سے بات نہیں کروا رہے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ  عمران کی بیٹوں سے بات کروانے کے لیے کل فون ملایا لیکن وہ موجود نہیں تھے۔جب بھی ان کے بیٹوں کو فون ملاتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہوتے۔عمران خان نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جج کے سامنے ڈانٹ دیا اورکہاکہ تم پڑھے لکھے آدمی ہو عقل کی بات کرو۔ عمران خان نے بیٹوں سے بات کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات۔ کرانے کی ہدایت کر دی

  ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کردی ۔

سماعت شروع ہوئی تو عمران خان اور بشریٰ بی کو کمرہ  عدالت میں پیش کیاگیا۔

وکلاء صفائی کی جانب سے تفتیشی افسر کے بیان پر جرح جاری ہوئی۔وکلاء صفائی نے عدالت میں دو درخواستیں دائر کر دیں

ایک درخواست انصار عباسی کے کالم سے متعلق جبکہ دوسری درخواست سابق وزراء اعظم کے کیسسز سے متعلق تھی۔

وکلا صفائی نے کہا کہ انصار عباسی نے اپنے کالم میں نیب کی انکی انکوائری کو تفتیش میں بدلنے کا تذکرہ 30 اپریل کو کیا تھا۔

تفتیشی افسر کے بیان کے مطابق انکوائری کو تفتیش میں بدلنے کی رپورٹ ملزمان کو 9 مئی کو فراہم کی گئی۔نیب قوانین کے مطابق ایسی رپورٹ ملزمان کو فراہم کرنے سے قبل پبلک نہیں کی جا سکتی۔۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کادورہ اومان،عسکری حکام سے ملاقاتیں

وکلاء صفائی نے انصار عباسی کے کالم کی کاپی عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی ۔

Back to top button