پاک انگلینڈ میچ کے دوران نصرت بھٹو کا سر کیسے پھٹا؟

بہت کم پاکستانیوں کو یاد ہوگا کہ 1977 میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر قذافی سٹیڈیم لاہور میں میچ کے دوران ضیاء مخالف نعروں کی وجہ سے پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا جس سے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی اہلیہ اور بے نظیر بھٹو شہید کی والدہ نصرت بھٹو کا سر پھٹ گیا تھا۔

 

1977میں انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئی تو ضیا الحق کا مارشل لا نافذ تھا۔ ملک  کے مقبول ترین رہنما ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے اور لاہور ہائی کورٹ میں ان پر قتل کا مقدمہ چل رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں، صحافیوں اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس پر یہ بڑا بھاری وقت تھا لیکن سب سے بڑھ کر بھٹو خاندان کو آزمائش کا سامنا تھا جس کی سیاسی زمام کار نصرت بھٹو کے ہاتھ میں تھی۔ دسمبر 1977 میں لاہور ٹیسٹ کا تیسرا دن قذافی سٹیڈیم میں نصرت بھٹو کی آمد کے باعث خاصا ہنگامہ خیز رہا، جنھوں نے عوام سے رابطے کے امکانات مسدود ہونے پر میچ کو عوامی رابطے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی، ان کو سٹیڈیم میں جانے سے روکنے کی بڑی کوشش ہوئی لیکن وہ اپنے طرف داروں کے جلوس  میں اندر جانے میں کامیاب ہو گئیں۔

 

نصرت بھٹو کے سٹیڈیم میں داخل ہوتے ہیں ہر طرف ضیا مردہ باد کے نعرے گونجنے لگے۔ چنانچہ پولیس نے پیپلز پارٹی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس برسائی اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اس دوران نصرت بھٹو کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک پولیس اہلکار کی لاٹھی لگنے سے ان کا سر پھٹ گیا۔ انکے سر میں کئی ٹانکے لگے۔ڈان سے وابستہ مرحوم فوٹو گرافر اظہر جعفری نے ان کے خون آلود چہرے کی تصویر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے ضیا دور کی ظلمت کی یہ نشانی تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر لی۔

Back to top button