عمران سیاست کے ناکام کپتان کیسے ثابت ہوئے؟

سینئر صحافی اور  سیاسی تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اسے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکتا تو کیا ہوگا۔ اگر یہ سوچ بن جائے کہ کور کمانڈر کے گھر کو آگ لگانے میں ملوث لوگوں کو بھی ضمانتیں مل گئی ہیں۔ اگر یہ ہو جائے کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کو بھی ضمانتیں مل گئی ہیں۔ ایم ایم عالم کا جہاز جلانے والوں کو بھی ضمانت مل گئی ہے کاکول اکیڈمی پر حملہ کرنے والوں کو بھی ضمانت مل گئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ کو جلانے والوں کو بھی ضمانت مل گئی ہے تو پھر کیا آپشن باقی رہ جاتا ہے۔

یہ سوال تو بنے گا کہ کیا یہ ضمانتیں ایک سیاسی جماعت کا حق ہیں۔ باقی سب کے لیے نہیں ہیں۔۔ عدالتوں کا تحریک انصاف کے لیے ضمانتوں کا اور معیار ہے جب کہ باقی ملک کے باقی شہریوں کے لیے دوسرا معیار ہے۔  اپنےایک کالم میں مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں جو ہوا اس سے  عمران خان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور ان کی سیاسی قوت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ ان کی  سیاسی فورس اور لڑنے والی فورس ایک ہی دن میں گرفت میں آگئی ہے۔ ایک ہی دن میں ساری قوت کو گرفت میں دے دینا کوئی اچھی سیاسی حکمت عملی نہیں نظر ۔ ان کی گرفتاری کوئی اتنا بڑا واقعہ نہیں تھا کہ عمران خان اپنی ساری قوت  اس میں لگا دیتے۔ بطور کپتان اپنی ٹیم کو سنبھالنا بھی ان کا کام ہے۔ ساری ٹیم اس طرح قانون کی گرفت میں دینا کوئی اچھی کپتانی نہیں۔

مزمل سہروردی لکھتے ہیں کہ عمران خان نے رہائی کے بعد جو خطاب کیا ہے اس نے ملک میں لگی آگ کو بجھانے کے بجائے بڑھایا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فی الحال عمران خان آگ کو بجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ آگ بڑھانے کی پالیسی پر ایک سال سے کام کر رہے ہیں اور ابھی اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ 14مئی کو عمران خان نے ایک احتجاج کی کال دی تھی لیکن ان کی اس کال پر کوئی احتجاج نہیں ہوا۔  ویسے تو تحریک انصاف کی ساری قیادت اس وقت پکڑی جا چکی ہے۔ کارکن بھی پکڑے جا چکے ہیں۔ صرف عمران خان کی ہی رہائی ہوئی ہے۔ اب اکیلے عمران خان کیا احتجاج کریں۔ ساتھ بھی تو کوئی ہونا چاہیے۔ اس لیے رہائی کے فوری بعد عمران خان کی جانب سے 14مئی کو دی جانی والی احتجاجی کال ناکام ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان اپنی احتجاجی سیاست کے لیے کارکنوں کے محتاج ہیں۔  عمران خان نے اپنی گرفتاری کے بعد احتجاج کی جو پلاننگ کی تھی اس میں یہ یقین تھا کہ عوام کا جم غفیر نکل آئے گا۔ جس کے ساتھ ہم جو بھی کریں گے وہ لگے گا کہ عوام نے کیا ہے، لیکن عوام نہیں نکلے، اس لیے جو کیا وہ تحریک انصاف کے گلے پڑگیا۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ  عمران خان کی گرفتاری کے بعد جن جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا وہ طے تھے۔ لیکن عوام کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے ساری پلاننگ فیل ہو گئی ہے۔ بلکہ الٹا پوری تحریک انصاف مشکل میں پڑ گئی ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ یہ سوچ رہی ہے کہ اگر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان کی عام عدالتوں سے کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاسکتا تو انھیں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انھیں ہی کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی د ہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔  کیا اب سیاسی دہشت گردوں کے لیے بھی آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے۔ پہلے یہ طے ہوا تھا کہ ہماری عدالتوں میں دہشت گردوںکو سزا دینے کی اہلیت نہیں ہے۔ کیا اب یہ بھی طے ہو جائے گا کہ ان میں سیاسی دہشت گردوں کو سزا دینے کی بھی اہلیت نہیں ہے۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں جو ہوا اس کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں جیسے ضمانت دی اس سے ملک میں کوئی اچھا تاثر نہیں گیا۔ اس کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ نے ان سنگین واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ عدالت کا انھیں اس طرح غیر معمولی انصاف دینا کوئی اچھی روایت نہیں مانی جائے گی۔ آج سپریم کورٹ کے باہر جو دھرنا نظرآ رہا ہے وہ بھی اسی وجہ سے ہے۔ عدلیہ اس صورتحال سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی، اس ساری صورتحال کی کہیں انھیں بھی ذمے داری اٹھانا ہوگی۔ میڈیا کو دو دھاری تلوار بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے اور نقصان بھی۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی دو دھاری تلوار ہی نظر آیا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے ہمیشہ سوشل میڈیا سے فائدہ ہی اٹھایا ہے۔

یہ ان کا کامیاب ہتھیار رہا ہے لیکن اس بار سوشل میڈیا ہی تحریک انصاف کی سیاسی موت کا باعث بن گیا ہے، سوشل میڈیا پر ان کی جانب سے خود شئیر کی جانے والی وڈیوز ہی ان کے خلاف ثبوت بن گئی ہیں۔ ان کی اپنی لوڈ کی گئی وڈیوز ہی ان کی گرفتاری کا سبب بن گئی ہیں۔ بڑے شوق اور فاتحانہ انداز میں اپ لوڈ کی جانے والی وڈیوز ہی ان کی مشکل کا باعث بن گئی ہیں۔ مزید کسی ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں رہی، اب سوشل میڈیا ہی ان کے خلاف ثبوت بن گیا ہے۔ ایسی وڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکن معافیاں بھی مانگ رہے ہیں، گرفتاری کے بعد پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں۔ کراچی میں رینجرز کی چوکی کو آگ لگا کر وڈیو اپ لوڈ کرنے والے باپ بیٹے نے پکڑے جانے کے بعد اب پاک فوج زندہ باد اور معافی کی وڈیو بھی بنوا دی ہے، اس لیے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف سے غلطی ہوئی ہے۔ جس کا اب وہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اب وہ جس مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ بلکہ حالات مشکل سے مشکل ہوتے جائیں گے۔

Back to top button