’’بلوچستان کی آبادی میں 74 فیصد اضافہ خوش آئند قرار‘‘

ایک طرف بلوچستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ جاری ہے تو دوسری طرف صوبے کی عوام کی محرومیاں حکمرانوں کو آئینہ دکھا رہی ہیں کہ اب اس خطے کی ترقی، وسائل کی فراہمی لازم و ملزوم ہے۔
پاکستان میں ساتویں مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی میں باقی صوبوں کی نسبت تقریبا پانچ گنا زیادہ شرح سے اضافہ ہوا، ملک کی مجموعی آبادی میں گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں 16 فیصد جبکہ بلوچستان کی آبادی میں 74 فیصد اضافہ ہوا۔
گزشتہ چھ برسوں میں صوبے کی آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح 2017ء کی مردم شماری کے مقابلے میں ملک کی مجموعی آبادی میں بلوچستان کا حصہ 6 فیصد سے بڑھ کرتقریباً 9 فیصد ہو گیا ہے۔
بعض ناقدین نے بلوچستان کی مردم شماری کے نتائج پر حیرت کا اظہار کیا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پچھلی مردم شماری میں امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے درست نتائج حاصل نہیں ہو سکے تھے، اس لیے آبادی میں اضافے کی شرح غیر معمولی نہیں۔
صوبے کی سیاسی جماعتوں نے اس اضافے کو خوش آئند پیشرفت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ قومی اسمبلی میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں حصہ بڑھنے کے نتیجے میں صوبے کی محرومیوں میں کمی آئے گی۔
کمشنر مردم شماری بلوچستان نور احمد پرکانی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ 15 مئی تک بلوچستان میں 2 کروڑ 15 لاکھ ایک ہزار 385 افراد کو شمار کیا گیا۔2017ء میں صوبے کی آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ تھی۔ پچھلی مردم شماری کے مقابلے میں بلوچستان کی آبادی میں 91 لاکھ نفوس یعنی 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
صوبے کے تین اضلاع واشک، پنجگور اور خاران کی آبادی میں 224 سے268 فیصد اور سات اضلاع کی آبادی میں 90 سے 157فیصد تک اضافہ ہوا، ایران سے ملحقہ ضلع واشک کی آبادی 2017ء کے مقابلے میں 1لاکھ 75 ہزار سے بڑھ کر 6 لاکھ 47 ہزار، پنجگور کی آبادی 3 لاکھ 15 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 43 ہزار اور خاران کی آبادی ایک لاکھ 62 ہزار سے 5 لاکھ 28 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
کچھی اور شیرانی 157 فیصد، ہرنائی کی آبادی میں 152 اور زیارت کی آبادی میں 115 فیصد ہوا، ضلع لسبیلہ 9 فیصد اضافے کے ساتھ فہرست میں سب سے نچلے نمبر پر ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء غلام نبی مری کے مطابق ماضی میں غیر شفاف مردم شماری، امن وامان کی خرابی، شورش، سیاسی جماعتوں کی غلطیوں، لوگوں کی عدم دلچسپی اور شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کی آبادی کم ظاہر ہوئی۔
پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق سیاسی جماعتوں اور عوام نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، انہیں آہستہ آہستہ مردم شماری کی اہمیت و حساسیت کا ادراک ہورہا ہے۔
بلوچستان میں مردم شماری کے نتائج پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی ہے۔ سابق وفاقی کمشنر مردم شماری حبیب اللہ خٹک کہتے ہیں کہ تمام حالیہ سرویز میں آبادی میں سالانہ شرح نمو 2.5 کے لگ بھگ ہے ایسے میں بعض علاقوں کی آبادی میں صرف پانچ چھ سالوں میں 100 سے 200 فیصد اضافہ تعجب کا باعث ہے، کمشنر مردم شماری بلوچستان نور احمد پرکانی کے بقول بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بھی2017ء کی مردم شماری کی بیس لائن کو درست نہیں سمجھتیں انہیں اعتراضات تھے۔
بلوچستان کے صحافی و تجزیہ کار عدنان عامر بھی سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے اعداد و شمار کو صرف صوبے کی آبادی میں حیرت ناک اضافے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2017ء اور اس سے پہلے کی مردم شماریوں میں بلوچستان کی لوگوں کی درست گنتی نہیں کی گئی۔
بلوچستان پہلے ہی ایک غریب صوبہ ہے، پلاننگ کمیشن کی 2015-16کی رپورٹ کے مطابق صوبے کی 71 فیصد آبادی سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، باقی ملک کی نسبت بلوچستان کی آبادی میں نمو کی شرح میں چار سے پانچ گنا اضافہ تشویشناک ہے۔
ادارہ شماریات نے تسلیم کیا کہ کوئٹہ میں بیک وقت کئی مسائل نے مردم شماری کے عمل کو متاثر کیا، کمشنر مردم شماری بلوچستان نور احمد پرکانی کے مطابق رمضان المبارک میں اوقات کار، لوگوں کی جانب سے انکار، شہر میں رہائش پذیر افراد کا کوئٹہ کے بجائے آبائی اضلاع میں اندراج کرانے پر اصرار جیسے مسائل کی وجہ سے دار الحکومت کی آبادی کم ظاہر ہوئی، مدارس، ہاسٹل اور ہسپتالوں میں رہنے والے لوگ بھی شمار ہونے سے رہ گئے تھے، کوئٹہ کے بعد خضدار 15 لاکھ آبادی کیساتھ دوسرا بڑا، کیچ 14 لاکھ آبادی کیساتھ تیسرا اور پشین 13 لاکھ آبادی کیساتھ صوبے کا چوتھا بڑا ضلع بن گیا ہے۔
