PPP نے بلاول کو الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کیوں نامزد کیا؟

ملک میں انتخابات کی آمد آمد ہے،جہاں دیگر سیاسی جماعتیں تاحال الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹس کی تقسیم کے جھنجھٹ میں پھنسی ہوئی ہیں پیپلز پارٹی نے سبقت لے جاتے ہوئے بلاول بھٹو کو اپنی پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کا امیدوار بھی نامزد کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے پی پی پی کے صدر آصف علی زرداری کی پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نام کی توثیق کی۔پارٹی اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں پاکستان کے وزیراعظم کے لیے اپنی پارٹی کی نامزدگی کو قبول کرتا ہوں۔ آٹھ فروری کو ہمیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنا ہو گا۔ خدمت کی سیاست اور ملک میں اتحاد ہمارا منشور ہے۔ ہمارا 10 نکاتی منصوبہ اکثریتی عوام کے مفادات کو پورا کرے گا نہ کہ صرف چند مراعات یافتہ لوگوں کے۔‘بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ’ہم مل کر غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کو شکست دیں گے۔ ہم سب مل کر ایک پُرامن، خوش حال اور ترقی پسند پاکستان بنائیں گے۔‘اجلاس کے بعد بلاول بھٹو نے پارٹی کی جانب سے 10 نکاتی انتخابی منشور پیش کیا۔منشور کے تحت تنخواہوں میں اضافہ، پسماندہ علاقوں میں سولر بجلی، سولر پارک بنا کر عوام کو 300 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے، مفت تعلیم اور مفت صحت کی سہولیات اور 30 لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو کی بطور وزیراعظم نامزدگی میں کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے عجلت کی گئی اور 300 یونٹ مفت بجلی کی فراہمی اور 30 لاکھ گھروں کی تعمیر پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں ممکن ہے؟

سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی ماجد نظامی کے مطابق: ’پاکستان پیپلز پارٹی اپنی انتخابی مہم کے لیے ایک نوجوان، پڑھا لکھا، سیاسی اخلاقیات سے باخبر چہرہ سامنے لانا چاہتی ہے، کیونکہ آصف زرداری ڈرائنگ روم سیاست کے بادشاہ تو ہیں لیکن ان کی پہچان عوامی لیڈر کے طور پر نہیں ہے جبکہ بلاول عوامی رہنما کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔‘ ماجد نظامی کے بقول ’میں پی پی پی کی جانب سے بلاول بھٹو کو وزیراعظم نامزد کرنے میں عججلت نہیں سمجھتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس اعلان سے زرداری یہ پیغام دینا چاہ رہے ہوں کہ وہ وزیراعظم کی بجائے صدر پاکستان کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے بلاول بمقابلہ آصف زرداری کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔‘300 یونٹ مفت بجلی کی فراہمی اور 30 لاکھ گھروں کی تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے ماجد نظامی نے کہا: ’گھروں کی تعمیر کے معاملے میں تو یہ ایک پرکشش سیاسی بیان ہی لگتا ہے کیونکہ اس کے لیے بھاری بھر کم وسائل اور تیز ترین منصوبہ بندی کی ضرورت ہو گی جو کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں ناممکن حد تک مشکل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب 300 یونٹ مفت بجلی کے لیے بھی حکومتی فنڈز کی ضرورت ہو گی۔ ’انڈیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ حمزہ شہباز اپنی وزارت اعلیٰ میں 100 یونٹ مفت بجلی کا اعلان کر چکے ہیں لیکن ان کی حکومت زیادہ چل نہیں سکی اور اس کے اثرات سامنے نہیں آ سکے۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور بلاول ہاؤس کراچی کے ترجمان سریندر ولاسائی کے مطابق 300 یونٹ مفت بجلی شمسی توانائی سے دی جائے گی، جس کے لیے بڑے سولر پراجیکٹ کے علاوہ عوام کو سولر پلیٹیں بھی دی جائیں گے تاکہ وہ خود اپنی ضرورت کی بجلی شمسی توانائی سے حاصل کرسکیں۔30 لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے سریندر ولاسائی نے کہا کہ ’30 میں سے 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا کام سندھ میں پہلے ہی شروع ہوچکا ہے، جس کے لیے ورلڈ بینک 500 ملین ڈالر دے چکا ہے اور گھروں کی تعمیر کے لیے چار اقساط میں 75 ہزار کی پہلی قسط لوگوں کو مل چکی ہے اور گھروں کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے۔‘سریندر ولاسائی نے مزید کہا کہ ’بلاول بھٹو کی بطور نامزدگی عجلت نہیں بلکہ الیکشن کے اعلان کے بعد پارٹی نے تجویز کیا ہے۔ ان کا نام پارٹی نے تجویز کیا ہے اور اب عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ کس کو وزیراعظم چنتے ہیں۔‘

Back to top button