بنگلہ دیش میں الیکشن ’’ون وومن شو‘‘ کیوں بن گئے ہیں؟

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ، کئی مخالف رہنمائوں کو جیل بھیجے جانے کے بعد بنگل دیش میں عام الیکشن ’’ون وومن شو‘‘ بن کر رہ گئے ہیں، حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں کا یہ کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہونے دیں گی۔بنگلہ دیش کے موجودہ وزیرِ قانون انیس الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انتخابات کا تعین عوام کی شرکت سے ہوتا ہے۔ ان انتخابات میں بی این پی کے علاوہ کئی اور سیاسی جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں، شیخ حسینہ کی قیادت میں مسلم اکثریت کے حامل اس ملک نے، جو کبھی دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل تھا، نے 2009 سے قابل اعتماد معاشی کامیابی حاصل کی اور ایک مستحکم معیشت کے طور پر سامنے آیا، گزشتہ دہائی میں اس کی فی کس آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوا، عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ 20 سال میں 25 ملین سے زیادہ افراد کو غربت سے نکالا گیا۔بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر اگست 2021 میں ریکارڈ 48 ارب ڈالر سے کم ہو کر اب تقریبا 20 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، ناقدین کا الزام ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین، ناقدین اور میڈیا کے خلاف جابرانہ اور آمرانہ اقدامات کیے گئے ہیں۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حسینہ واجد کے دور میں سیاسی محرکات پر مبنی گرفتاریوں، گمشدگیوں، قتل اور دیگر زیادتیوں میں اضافہ ہوا۔ ہیومن رائٹس واچ نے حال ہی میں حزب اختلاف کے حامیوں کی گرفتاریوں کو حکومت کی طرف سے ’پرتشدد آمرانہ کریک ڈاؤن‘ قرار دیا تھا۔ملک کے بانی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کی سب سے بڑی بیٹی حسینہ واجد 1996 میں ہونے والے کثیر الجماعتی انتخابات میں پہلی بار اقتدار میں آئی تھیں۔ اس کے بعد انھیں 2001 کے انتخابات میں خالدہ ضیا کی زیرِ قیادت بی این پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، مقامی طور پر ان دونوں خواتین کو ’مقابلہ کرتی بیگمات‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، بیگم ضیا اب بدعنوانی کے الزامات میں نظر بند ہیں اور طبی طور پر انھیں متعدد پیچیدگیوں کا سامنا ہے اور بی این پی کی متحرک قیادت کے نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال نے بین الاقوامی اداروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر میں ایشیا بحرالکاہل کے سربراہ روری منگوون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور اُن کے رہنماؤں کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات حزب اختلاف کو دباؤ میں لانے کی ایک منظم کوشش ہے۔‘حکومت ان دعووں کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ اس طرح کی زیادتیوں کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے، لیکن وہ غیر ملکی صحافیوں کے دوروں پر بھی سختی سے پابندی عائد کرتی ہے جو اس طرح کے الزامات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔2021 کے بعد سے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے جب امریکہ نے ایک بدنام زمانہ نیم فوجی فورس ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے سات موجودہ اور سابق افسران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔یورپی پارلیمنٹ کی رکن کیرن میلچیور نے کہا ہے کہ ’یورپی کمیشن کو بنگلہ دیش میں موجودہ جمہوری صورتحال سے متعلق جوابدہ بنانا چاہئے، بنگلہ دیش کی مصنوعات کو دی جانے والی ٹیرف فری رسائی واپس لینے پر بھی اور اس سب کے بعد غور کرنا چاہئے۔‘ بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا کا ایسا دوسرا سب سے بڑا مُلک ہے کہ جو دُنیا بھر میں کپڑوں کی برآمدات میں ایک نام رکھتا ہے، گزشتہ سال بنگلہ دیش نے 45 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے تیار ملبوسات یورپ اور امریکہ بھیجے تھے۔اس وقت بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑا چیلنج انڈیا ہے، انڈیا کو نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے درمیان 20 کلومیٹر طویل زمینی راہداری ’چکنز نیک‘ پر بھی تشویش ہے جو اس کی شمال مشرقی ریاستوں کو انڈیا کے باقی حصوں سے جوڑتی ہے۔ایسے خدشات بھی موجود ہیں کہ بنگلہ دیش پر ضرورت سے زیادہ دباؤ انڈیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ڈھاکہ دلی کی بجائے چین کی جانب جا سکتا ہے۔

Back to top button