مولانا فضل الرحمٰن کو الیکشن میں شکست کا ڈر ہے یا جان جانے کا؟

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ھے کہ کیا جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جان کو واقعی خطرہ ھے یا وہ اپنے سب بڑے انتخابی میدان میں اپنی سب سے بڑی مخالف سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی تگڑی پوزیشن سے خائف ھو کر انتخابات ملتوی کرنے کا بیانیہ پیش کر رھے ہیں۔ اس حوالے سے چہ مگوئیوں میں اس وقت شدت آئی جب چند روز قبل مولانا کی گاڑی پر فائرنگ ھوئی اگرچہ مولانا اس میں موجود نہیں تھے ۔ اس واقعہ کے بعد جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ کا یہ بیان سامنے آیا کہ انتخابات ملتوی ھونے میں کوئی حرج نہیں اور انہیں الیکشن ہوتے نظر نہیں‘‘ آرہے۔ سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید اس حوالے سے کہتے ہیں کہ چند علاقوں میں سردی کی شدت اور برفباری کے امکانات سے کہیں زیادہ مولانا فضل الرحمان کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ دین اسلام کے ازخود پاسبان ہوئے چند انتہاپسند دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے ریاستی مشینری کو انتخابات میں مطلوب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ’’پرامن انتخاب‘‘ کا ا نعقاد یقینی بنانے کے لئے ریاست کو ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن پیش قدمی لینا ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن کے خیالات کو یہ سوچ کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ان کی جماعت اپنے گڑھ یعنی خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا توڑ ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے۔اسی باعث انتخاب سے فرار کے جواز تراش رہی ہے۔تحریک انصاف انتخابی میدان میں مولانا کی جماعت سے یقینا زیادہ طاقت ور نظر آرہی ہے۔ تاھم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انتخابی میدان کے دیرینہ کھلاڑی ہوتے ہوئے مولانا اس کھیل میں ہار جیت کے عادی ہیں۔فرض کیا غیر جانبدارانہ انداز میں ہوئے انتخاب انہیں واقعتا شکست سے دو چار کردیں گے تو وہ اسے کڑوا گھونٹ سمجھ کر برداشت کرلیں گے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ عالمی سطح پر جانی پہچانی ایک انتہا پسند تنظیم نے چند ماہ قبل ہمارے دین کے چند بنیادی اصولوں کی اس انداز میں تشریح کی کہ جو انتخابی عمل میں حصہ لینے کو ’’کفر‘‘ قرار دیتا ہے ۔مذکورہ تشریح کی ر وشنی میں مولانا کی ذات اور جماعت پر شدید نکتہ چینی ہوئی۔ انہیں گویا چارج شیٹ لگاکر نامزد کردیا گیا۔دریں اثناء ان کی ذات کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر لوگوں پر حملے بھی شروع ہوگئے۔ کچھ مساجد اور مدرسے بھی مولانا کے مسلکی اعتبار سے قریب ہونے کے سبب دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بنے۔مذکورہ تناظر میں مولانا کے اس مطالبے سے سو فیصد اتفاق کرنا ہوگا کہ8فروری 2024ء کے روز انتخاب کویقینی بنانے کے لئے ریاست پاکستان کو جامع حکمت عملی کے تحت انتہا پسندوں کے خلاف پیش قدمی دِکھتے اقدامات لینا پڑیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کے بیان کردہ خدشات واجب سنائی دینے کے باوجود شاید بہت اہم محسوس نہ ہوتے اگر دیگر جماعتیں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف نظر آتیں۔ مسلم لیگ (نون) اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرسکتی تھی۔ اس کے قائد 21اکتوبر کو لندن میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد وطن لوٹے ہیں۔بیرون ملک سے واپسی کے بعد انہوں نے محض لاہور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔نومبر اور دسمبر کے دو مہینے انہوں نے اپنی جماعت کے سرکردہ لوگوں سے مشاورت کے علاوہ اپنی جماعت کے متوقع امیدواروں کے چنائو کی نذر کردئے۔ وہ روزانہ کی بنیاد پر انتخابی مہم کے لئے شہر شہر جارہے ہوتے تو لوگوں کو یقین آجاتا کہ 8فروری کے روز انتخاب کا انعقاد طے ہوچکا ہے۔نصرت جاوید کہتے ہیں کہ فی الوقت میدان میں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر فقط بلاول بھٹو زرداری ہی لوگوں سے براہ راست رابطے کی کوششو ں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔
تحریک انصاف کے قائدین کی اکثریت اگر جیل میں نہیں تو 9مئی 2023ء کے واقعات کی وجہ سے بنائے مقدمات کے خوف سے روپوش ہوچکی ہے۔ان کی ’’روپوشی‘‘ نے تحریک انصاف کے دیرینہ مداحین کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا بیانیہ تشکیل دینے کو اکسایا جو عملی سیاست کو درکار لچک سے قطعاََ محروم ہے۔اس کے ذریعے پھیلایا ’’انقلابی پیغام‘‘ مگر لوگوں کی کماحقہ تعداد کو متاثر کررہا ہے۔ایسے حالات میں روایتی میڈیا کے لئے لکھنے والے محتاط کالم نگار اور پیمرا کے لائسنس کے تحت چلائے ٹی وی چینلوں کیلئے ’’ٹاک شوز‘‘ کرنے والوں کی ا کثریت قارئین وناظرین کو ’’سچ‘‘ بتاتی اور دکھاتی محسوس نہیں ہورہی۔ ’’خبر‘‘ اور ’’سچ‘‘ کا واحد ذریعہ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی تصور کئے جارہے ہیں۔پریشان کن حقیقت مگر یہ ہے کہ لوگ سپریم کورٹ جیسے ’’ریاستی ستون‘‘ کی جانب سے ’’پتھر پر لکھی تحریر‘‘ ٹھہرائی تاریخ کا بھی اعتبار نہیں کررہے۔ اس کے علاوہ انتخاب کے حوالے سے اہم ترین ادارہ ’’الیکشن کمیشن ‘‘ ہے۔ اس کے نامزد کردہ ریٹرننگ افسروں نے تھوک کے حساب سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے ہیں۔آخری فیصلہ اب عدلیہ سے چنے’’ٹربیونل‘‘ کریں گے۔اپنی ساکھ پر توجہ دینے کے بجائے الیکشن کمیشن اب میڈیا پر ’’ضابطہ اخلاق‘‘ کے نام پر قطعاََ نا معقول دکھتی پابندیاں لاگو کرنا چاہ رہا ہے۔ فرض کیا اس کی خواہش پر ہوبہو عمل ہوا تو روایتی میڈیا کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جائے گی اور لوگ فقط سوشل میڈیا ہی سے رجوع کرنے کو مجبور ہوجائیں گے۔
