PTIکے اندر سےعمرانڈوز کی ٹھکائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنی پارٹی پر گرفت کھو رہے ہیں کیونکہ پارٹی کے اندر سے ایک فوج کا حامی گروپ سامنے آگیا ہے جو چاہتا ہے کہ فوج مخالف لوگوں کے ساتھ سختی کی جائے۔
نیا دور ٹی وی پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم کارکنوں نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دورہ امریکہ پر کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ پی ٹی آئی سے وابستہ پاکستانی ڈاکٹروں نے آرمی چیف کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بھی شرکت کی۔تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ آرمی چیف کی آمد پر کوئی احتجاج نہ کیا جائے، بلکہ ان کا استقبال کیا جائے۔ تاہم عمران خان کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم کارکنوں کو سخت احتجاج کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ پارٹی فوج پر پریشر ڈالے تاکہ ان کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیشرفت سامنےآئے۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت چار دن نظربند رہنے کے بعد مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب وہ دبئی میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ اگر وہ اس سارے معاملے میں سہولتکاری نہ کر رہے ہوتے تو ان کو بھی ائیرپورٹ پر گرفتار کر لیا جاتا لیکن اس کے برعکس وہ آرام سے دبئی میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔تجزیہ کار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر ہی ایک فوج کا حامی گروپ بن گیا ہے جو 9 مئی کے فسادات میں ملوث پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی تاحیات نااہلی جلد معطل ہو جائے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں مزمل سہروردی نے کہا کہ ریاست پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔ اور پشاور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کو مزید سہولت فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں حل ہو جائے گااور پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا نشان دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل جنگ لڑنی ہوگی۔پی ٹی آئی رہنما جمشید دستی کی اس ویڈیو سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور ان کی اہلیہ اور 10 ماہ کے بیٹے کو ہراساں کیا، تجزیہ کار نے کہا کہ یہ ویڈیو اس پروپیگنڈے کا حصہ ہے جس پر پی ٹی آئی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کے لیے کر رہی ہے۔
دوسری جانب بڑی تعداد میں آئندہ عام انتخابات کیلئے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد ملک کی سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے کارکنوں کا مورال ڈائون ہونا شروع ہوگیا ہے۔ پارٹی کے نئے چیئرمین کی طرف سے فراہم کی جانے والی آکسیجن بھی کام نہیں آرہی۔الیکشن کمیشن کی طرف سے اہل امیدواروں کی ابتدائی لسٹ شائع ہوچکی ہے۔ جس میں اگلے چند روز میں اپیلوں پر فیصلے کی روشنی میں کچھ رد و بدل ہوسکتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے کئی رہنمائوں کے کاغذات نامزدگی کی بحالی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سانحہ نو مئی میں ملوث ہونے کی بنا پر سابق وزرا حماد اظہر، عمر ایوب، مراد سعید، فرخ حبیب اور امین گنڈا پور سمیت 51 افراد کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ملزمان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔ جبکہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ریٹرننگ افسران و نگران حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں پر بھی کڑی تنقید شروع کر دی ہے۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق ان رہنمائوں کی طرف سے مسلسل روپوشی اختیار کرنے اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر پارٹی انتخابی مہم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ رہنما خاص طور پر پنجاب اور لاہور کے قائدین روپوشی کے بجائے عدالتوں سے رجوع کرتے تو انتخابی مہم کی صورتحال مختلف ہوسکتی تھی۔ اب جس تیزی کے ساتھ مقدمات میں ان کیخلاف کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ کارکنان بددل ہو رہے ہیں۔ان ذرائع کے مطابق اقتدار میں مزے اڑانے والے تو آگے پیچھے ہوگئے۔ اب کارکن امتحان میں ہیں۔
