5 منٹ سے طویل کال پر ٹیکس سے عاشقوں میں صف ماتم


کپتان حکومت کی جانب سے پانچ منٹ سے طویل موبائل فون کال کرنے پر اضافی ٹیکس لگانے کے فیصلے پر عاشقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔
حال ہی میں غیر منتخب وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے موبائل فون کالز کا قابل ٹیکس دورانیہ پانچ منٹ کر دیا گیا ہے۔ اب ایسے صارفین جو پانچ منٹ سے طویل کال کریں گے انہیں 0.75 پیسے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ قبل ازیں بجٹ 2020-21 میں حکومت کی جانب سے تین منٹ سے زیادہ طویل کال کرنے پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان ہوا تو اس پر عوامی ردعمل انے کے بعد حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ فون کالز پر ٹیکس کے سابقہ اعلان پر وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کے دوران فون کالز پر ٹیکس کا فیصلہ مسترد کر دیا گیا تھا تاہم بجٹ تقریر کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کا اعلان ہو گیا تھا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے فون کال پر ٹیکس کے خلاف سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل سامنے آ رہا ہے اور صارفین پانچ منٹ سے زیادہ طویل کال کرنے والے عاشقوں کو ہوشیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے سخنئر صحافی مرتضیٰ سولنگی لکھتے ہیں کہ ’شوکت ترین کے مطابق آپ کو کس نے کہا تھا کہ غریب رہو اور بغیر انٹرنیٹ والے سستے فون پر کالیں کرو؟ نہ تم سمارٹ اور نہ تمہارا فون۔ اب ہر پانچ منٹ کی کال کے بعد امیروں کو ٹیکس دو۔ اگر عام لوگ بھی جہانگیر ترین کی طرح امیر ہوتے اور سمارٹ فون ہوتا تو وائی فائی پر لمبی آڈیو اور وڈیو کالیں کھڑکاتے۔‘
دوسری جانب حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ٹوئٹر صارف حنا لکھتی ہیں کہ ’بجٹ 2021-22 میں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن پانچ منٹ سے زیادہ لمبی کال پر 0.75 پیسے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ غیر ضروری کی جانے والی گھنٹوں لمبی فون کالز کے اس کلچر کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘
فون پر لمبی کال کرنے والوں کے ممکنہ ردعمل کا ذکر ہوا تو شیخ سفینہ نامی ہینڈل نے لکھا کہ ’اب پاکستان میں موجود وہ لوگ جو فون پر گھنٹوں گپیں لگانے میں مصروف ہوتے تھے ہوشیار ہو جائیں کیونکہ اب 5 منٹ سے زیادہ کال کرنے پر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔عاشقوں کے ہاں صف ماتم شروع۔‘
جہاں کچھ افراد نے حکومت کے اس اقدام کو سرہا تو ذیادہ تر صارفین اس ٹیکس سے پریشان بھی نظر آئے۔ سوشل میڈیا صارف شمس کاکزئی اپنے خیالات کا اظہا کچھ یوں کرتے ہیں کہ ’بجٹ تقریر میں شوکت ترین کا پہلی یو ٹرن سامنے آ گیا۔ پہلے بیان کے بر عکس موبائل فون کال پر 5 منٹ کے بعد 75 پیسے ٹیکس ھو گا۔ حکومت کو تکلیف تھی کہ عوام کو موبائل کمپنیاں کال/ SMS پیکج کیوں دیتی ہیں؟ پہلے ہی ہر کال پر فی کال 12 پیسے علاوہ ٹیکس چارج ہوتا ہے۔ کیا اتنا کافی نہیں تھا۔‘
فون کال پر ٹیکس کی حمایت و مخالفت کے ساتھ معاملے کے دیگر پہلو زیربحث آئے تو کچھ صارفین نے لمبی کال کرنے والوں کی پریشانی پر انوکھے انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صارف آفتاب محمود نے اپنے تبصرے میں لکھا ’ہون کرو تسی لمیاں لمیاں فون کالاں۔ توانوں لگ پتہ جاو گا۔‘

Back to top button