9 مئی کو فوج کا تختہ الٹنے کی سازش کس نے کی؟

سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان پہلے ہی زیر عتاب تھے تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں مزید چارج شیٹ کر دیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور میں ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا، 9 مئی کو پاک فوج کا تختہ الٹنے کیلئے آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر کے خلاف سازش کی گئی، اس پلاننگ میں بہت سے لوگ شامل تھے جن میں کچھ فوجی بھی تھے اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ فوج کا تختہ الٹ دیں۔
جیو ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں سینئر صحافی سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ 9 مئی کو سازش کی گئی تھی کہ ملک میں انتشار اور خانہ جنگی ہو جائے اور اس کا سرغنہ عمران خان تھے۔جن لوگوں نے سول تنصیبات پر حملے کیے ان پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے میں چلائے جائیں گے اور جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس سمیت فوجی تنصیبات پر حملے کیے، فوجیوں کے مجسمے زمین بوس کیے ان پر فوجی عدالتوں مقدمے چلائے جائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے خلاف ثبوت ناقابل تردید اور ٹھوس ہیں تاہم مجھے نہیں پتا کہ ان پر فرد جرم کب عائد کی جائے گی، یہ نیب اور عدالت کا معاملہ ہے البتہ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ان کے خلاف جو ثبوت ہیں ان پر کوئی شک نہیں ہے۔
اسمبلی تحلیل کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے اسمبلیاں تحلیل کریں گے، اسمبلی 12 اگست رات 12 بجے اپنی مدت پوری کر لے گی، میں مشاورت کے بعد اس تاریخ سے قبل اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے صدر کو لکھ دوں گا لیکن یہ طے ہے کہ ہم مقررہ وقت سے پہلے تحلیل کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف چند ہفتوں میں پاکستان پہنچ کر قانون کا سامنا کریں گے، عمران نیازی کی طرح چھپتے نہیں پھریں گے، حالانکہ اِس کو تو 18 منٹوں میں 18 ضمانتیں مل جاتی ہیں۔ نواز شریف کیخلاف سازش کرنے والے سب چہرے سامنے آ چکے ہیں، جن جن لوگوں نے اس ملک کے خلاف سازش کی ہے ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تو ہمارے وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ نواز شریف کو سازش کے تحت جھوٹے مقدمے میں سزا دی گئی تھی، اُس وقت کے وزیراعظم کو ثاقب نثار جیسے کرداروں نے اقامہ کی بنیاد پر سزا دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیب کے قانون میں تبدیلیاں اس لیے کی ہیں تاکہ یہ ملک چل سکے، ہم نے تو اپنے مقدمات نیب کے پرانے قوانین کے تحت لڑے ہیں۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے لوگ سرمایہ کاری نہیں کر رہے تھے اس لیے ہم نے یہ اقدام کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاق میں ایک غیرجانبدار نگران حکومت لے کر آئیں گے جو آئینی مدت کے اندر انتخابات کروا کر انتقال اقتدار منتقل کرے گی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے بطور نگران وزیر اعظم تقرر کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نگران سیٹ اپ کی قیادت کے لیے ایک غیرجانبدار شخص کا انتخاب کیا جائے گا تاکہ آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنایا جاسکے۔
وزیراعظم کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ کئی روز سے یہ افواہیں گرم تھیں کہ اسحٰق ڈار کو نگران وزیر اعظم مقرر کیا جائے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اتحادیوں کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس عہدے پر ایک غیر جانبدار شخص کو تعینات کیا جانا چاہیے تاکہ کوئی بھی انتخابات کے نتائج پر سوال نہ اٹھا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ نگران سیٹ اپ پر اتحادی جماعتوں، سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض سے مشاورت کے بعد اتفاق کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ وفاق میں ایک بہت ہی مؤثر نگران حکومت ہوگیانہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں قومی یکجہتی اور چارٹر آف اکانومی کی جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اگر ہم نے اب معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات نہ کیے تو نہ خدا معاف کرے گا اور نہ قوم معاف کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر عدالت میں کیس چل رہا ہے، جن لوگوں نے 9 مئی کو شہری عمارتوں پر حملے کیے ان کے مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں چلیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ضروری نہیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں مگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات ہو سکتی ہے جس کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت نے پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوایا، ہمارے 15 ماہ میں پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اپنے دور میں صرف اپوزیشن کے خلاف
بشریٰ بی بی TV اینکرز پر برہم کیوں ہیں؟
انتقامی کارروائیاں کر رہے تھے، ان کو اس وقت کوئی اور پرواہ نہیں تھی۔
