’’پاکستانی طلبا، اساتذہ، صحافیوں کیلئے سکالرشپس کے نادر مواقع‘‘

پاکستانی طلبا، اساتذہ اور صحافی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سکالرشپس کے مواقعوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، ان سکالرشپس کیلئے انگریزی زبان پر عبور لازمی ہے، تاہم یہ خواب ایسا مشکل بھی نہیں کہ جس کی تعبیر پانا ممکن نہ ہو مگر کچھ بنیادی چیزوں کا علم ہونا ضروری ہے۔امریکہ، آسٹریلیا، چین، جرمنی، سعودیہ، یورپ اور دنیا کے کئی ممالک کی جانب پاکستانی طلبہ تعلیمی حصول کیلئے سفر کر رہے ہیں، مگر کچھ اسکالرشپس تعلیمی حصول کیلئے بہت بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہیں، ان میں فل برائٹ، ایراسمس منڈس، ڈاڈ، کامن ویلتھ اور میکسٹ، یہ وہ تمام سکالرشپس ہیں جو پروفیشنل کیرئیر کیلئے اہم سمجھے جاتے ہیں۔فل برائٹ سکالرشپ امریکا میں (ماسٹرز اور پی ایچ ڈی دونوں) کی مالی اعانت سے تعلیم حاصل کرنے کا مکمل موقع فراہم کرتا ہے، اس سکالرشپ میں ٹیوشن فیس، ماہانہ معاوضہ، ہیلتھ انشورنس اور ماسٹر کے طلبا کیلئے ایک ریٹرن ہوائی ٹکٹ دی جاتی ہے۔
(GRE)عام طور پر اس سکالرشپ کے لیے پاکستان سے ہر سال 150-170 درخواست دہندگان کا انتخاب کیا جاتا ہے،درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ اپریل / مئی کے آس پاس ہے۔ایراسمس منڈس جوائنٹ ماسٹر ڈگری اسکالرشپ کے ذریعے طلبا کم از کم ماسٹر پروگرام کیلئے قریباً یورپ کی 2 یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ ان سکالر شپس کی اپلائی کرنے کی تاریخ اکتوبر سے جنوری تک رہتی ہے۔ رواں برس 192 پاکستانیوں نے اس اکالرشپ کو حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ڈاڈ جرمنی کی اسکالرشپ ہے جس میں ایم ایس یا پی ایچ ڈی کے لیے 12 سے 36 ماہ کی فنڈنگ شامل ہوتی ہے، گریجویٹس کے لیے اس اسکالرشپ پروگرام کو حاصل کرنے کیلئے کم از کم 2 سال کا پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے والے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ تعلمی گریجویٹس کیلئے ماہانہ 850 یورو جبکہ ڈاکٹریٹ کے امیدواروں کو 1200 یوروز دیئے جاتے ہیں۔کامن ویلتھ اسکالرشپ کمیشن (سی ایس سی) پوسٹ گرایجویٹ کے لیے برطانیہ کی حکومت کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔ہر سال 800 طلبا کو سکالرشپ حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، اس سکالرشپ کے لیے IELTS اور TOFEL کی ضرورت ہوتی ہے۔میکسٹ جاپان حکومت کی جانب سے دیا جانے والا سکالرشپ ہے جو قریباً تمام شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، اس کیلئے انگلش میں مہارت کا سرٹیفکیٹ کافی ہوتا ہے۔پاکستانی طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور پروفیسرز کیلئے بھی سکالرشپ کے حصول کے مواقع موجود ہوتے ہیں، پاکستانی اساتذہ جو جاپان میں تعلیمی نظام کا مطالعہ اور تحقیق کرنا چاہتے ہیں، وہ MEXT ٹیچرز ٹریننگ سکالرشپ 2023 کیلئے درخواست دے سکتے ہیں، جوکہ مکمل فنڈڈ پروگرام ہے۔کورین گورنمنٹ بھی پاکستانی اساتذہ کو سکالرشپ فراہم کرتی ہے اور اس اسکالرشپ کے لیے سب سے پہلے، آپ کو وہ یونیورسٹیاں ڈھونڈنا ہوں گی جو آپ کا پروگرام پیش کرتی ہیں۔اساتذہ کے ساتھ پاکستانی صحافی بھی ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اس کیلئے منڈس جرنلزم ایراسمس منڈس کا ہی حصہ ہے جو خاص طور پر صحافت میں ماسٹر کا شوق رکھنے والے طلبا کے لیے کافی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے بڑے صحافتی اسکالرشپس میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ مکمل فنڈڈ پروگرام ہوتا ہے جس میں آپ کو ہوائی ٹکٹ، ٹیوشن فیس اور ماہانہ 1400 یوروز دیئے جاتے ہیں۔ اس اسکالرشپس کے درخواستیں لینے کا عمل یکم نومبر کو شروع ہوتا ہے جبکہ آخری تاریخ 10 جنوری ہوتی ہے۔ اس اسکالرشپ کے لیے کے امتحان میں کم از کم IELTSمیں 6 سکور ہونا لازمی ہے۔ ڈوئچے ویلے اکیڈمی (جرمنی) کی جانب سے 2020 میں انٹرنیشل میڈیا اسٹیڈیز میں ماسٹر پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کا ہدف دنیا بھر کے طلباء ہیں جو صحافت یا کمیونیکیشن کے شعبے میں ذمہ داری کے عہدے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروگرام خاص طور پر نئے آنے والے صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں ( ریڈیو، ٹی وی، آن لائن اور پرنٹ ) کے لیے ہے۔ اس اسکالرشپ کے تحت ہر سال صرف 10 طلبا کو اسکالرشپ ملتی ہے اور اس کے لیے اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 31 مارچ ہے۔شیوننگ ساؤتھ ایشیا جرنلزم فیلوشپ پروگرام جنوبی ایشیائی ممالک بشمول افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان، سری لنکا اور مالدیپ کے درمیانی کیریئر کے صحافیوں کیلئے ہے، یہ فیلوشپ 8 مہینوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مکمل طور پر فنڈڈ ہوتا ہے جس میں تمام صحافیوں کو صحافت کے اخلاقیات، میڈیا کا جمہوریت میں کردار اور دیگر ٹریننگز شامل ہوتی ہیں۔جرنلزم انسٹیٹوٹ روئٹرز بھی صحافیوں کا فیلوشپ کا موقع دیتی ہے، یہ فیلوشپ یونیورسٹی آف اکسفورڈ میں فراہم کی جاتی ہے، اس کا دورانیہ 3 سے 6 مہینے کا ہوتا ہے، جس میں جدید ریسرچ سینٹرز تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔اس فیلوشپ کی درخواستوں کا عمل جنوری 2024 میں شروع ہوگا۔ مکمل طور ہپر فنڈڈ ہوتا ہے جس کے لیے ماہانہ 2000 یوروز دیئے جاتے ہیں۔نیو یارک ٹائمز فیلوشپ ایک سالہ پروگرام ہے جس کا مقصد صحافیوں کی اگلی نسل کو فروغ دینا ہے۔ اس میں مقررین،کے لیے تربیت کے مواقع شامل ہیں۔ پروگرام کا مقصد نہ صرف شرکاء اور دی ٹائمز بلکہ دیگر نیوز رومز کو بھی فائدہ پہنچانا ہے، ہر سال قریباً 30 لوگ اس فیلوشپ کیلئے منتخب کیے جاتے ہیں، سکالرشپ کیلئے سی وی، تصاویر، پاسپورٹ، ڈگری، ٹرانسکرپٹ، موٹیوشن لیٹر، ریکمنڈیشن لیٹر، انگریزی کی

توشہ خانہ کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ سے رجوع

مہارت کا سرٹیفکیٹ لازمی ہونا چاہئے،

Back to top button