انرجی ڈرنکس نوجوانوں کیلئے کتنی فائدہ مند ہیں؟

اکثر نوجوان انرجی ڈرنکس کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، کچھ شوقیہ طور پر پیتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس کے زیادہ استعمال سے نیند کی کمی اور دل کے عارضے کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
بی بی سی اُردو کی نمائندہ سحر بلوچ نے بتایا کہ ہم تین سے چار دوست دبئی میں تھے اور وہاں ریڈ بُل کا چھ کا پیک آتا ہے وہ ہم نے لیا، ہم نے روزانہ کی بنیاد پر اسے پینا شروع کر دیا، پہلے دن چھ آئیں، پھر وہ 10 ہوگئیں، پھر 12 ہوگئیں۔
فرقان رزاق ایک طالب علم ہیں جنھوں نے حال ہی میں اپنی صحت کے بارے میں فکرمند ہو کر انرجی ڈرنکس چھوڑ دی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان آنے کے بعد بھی میں نے اس چیز کو چھوڑا نہیں اور انفرادی سطح پر اسے پینا جاری رکھا اور بہت وقت تک پیتا رہا۔
میں دن میں ایک وقت تک ایک سے دو پی لیتا تھا اور پھر جب میں نے اپنی ڈائٹ شروع کی تو اس میں، میں نے یہ نوٹ کیا کہ اس سے میرا ہارٹ ریٹ بڑھ جاتا ہے اور کبھی رات میں اسے پی لوں، کام کرتے وقت، تفریح کے لیے یا ریستوران میں، تو یہ آپ کو رات کو سونے نہیں دیتی۔
انرجی ڈرنکس عام کاربونیٹڈ مشروب نہیں ہوتے بلکہ ان میں کئی سٹریمولنٹ ہوتے ہیں جو ہمیں مشروب پیتے ہی توانا محسوس کرواتے ہیں، جیسے کیفین، چینی، وٹامن، منرل، کیرنٹائین، ٹورائن اور امائینو ایسڈز، یہ مشروب کاربونیٹڈ بھی ہو سکتے ہیں۔ انھیں تیار کرنے والی کمپنیاں کہتی ہیں کہ ان سے انسان ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ الرٹ اور انرجیٹک محسوس کرتا ہے۔
اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ میں انرجی ڈرنک پیتے ایک نوجوان سے جب یہ پوچھا کہ آپ کو انرجی ڈرنک کیوں پسند ہے؟ تو انھوں نے کیمرہ دیکھتے ہی فوراً موچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں تو ان کے لیے انرجی ڈرنک پکڑے کھڑا تھا۔ انرجی ڈرنک چاہے جو بھی خرید کر اور کسی بھی وجہ سے پیے بات واضح ہے کہ اس کے مضر اثرات بہت ہیں۔ لیکن یہ اثرات فوراً نہیں بلکہ آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔
کراچی کہ رہائشی ناعم احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ گرمیوں میں ٹھنڈی مشروبات پینے کا زیادہ دل چاہتا ہے اور انرجی کم ہونے سے بچانے کے لیے انرجی ڈرنک کا استعمال کرنا پڑتا ہے،
مختلف لوگوں سے بات کرنے پر پتا چلا کہ انرجی ڈرنکس کے نقصانات کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ جیسے کہ جب آبپارہ کی مارکیٹ میں آئے لوگوں نے بتایا کہ نقصان کا پتا ہونے کے باوجود ’انرجی ڈرنکس پینے کا دل کرتا ہے۔ایک خاتونِ خانہ نے بتایا کہ ’کھانے کے بعد میں اکثر انرجی ڈرنک پیتی ہوں، اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک طالبِ علم نے بتایا کہ گرمیوں میں اور خاص طور سے یونیورسٹی کا کام رات میں پورا کرنے کے لیے ایسی ایک ڈرنک ضروری ہوتی ہے۔ جس سے دماغ جاگا رہے۔
تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس کے مضر اثرات انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے ختم کر دیتے ہیں۔ کراچی کے انڈس ہسپتال کی کلینیکل ڈائیٹیشن ڈاکٹر منزہ احمد نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 31 فیصد افراد ذیابطیس کا شکار ہیں۔ اس وقت دس سال سے لے کر چالیس سال تک کے افراد انرجی ڈرنک پینا پسند کرتے ہیں۔
سٹیٹسٹا کے مطابق پاکستان میں انرجی ڈرنکس کی صنعت کی سالانہ آمدن 42 کروڑ ڈالر ہے جس میں آئندہ سال 1.7 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ 2027 تک ان مشروبات کا حجم 28 کروڑ 26 لاکھ لیٹر ہوجائے گا۔
کلینیکل ڈائٹیشن منزہ احمد بتاتی ہیں کہ پاکستان میں 31 فیصد لوگ ذیابیطس کے مریض ہیں جنھیں ان انرجی ڈرنکس سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اس سے ان کے خون میں چینی کی مقدار بڑھ سکتی ہے، وہ کہتی ہیں کہ 10 سے 40 سال کے لوگ سب سے زیادہ انرجی ڈرنکس پیتے ہیں جوکہ ہماری صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
پاکستان میں ہونے والے ایک سروے میں سامنے آیا کہ انرجی ڈرنکس کا سب سے زیادہ استعمال طلبہ کرتے ہیں، اس وقت ان مشروبات سے تقریباً بیالیس کروڑ ڈالر ریوینیو جمع ہوتا ہے جبکہ اگلے برس ملک میں ان مشروبات کی کنزمپشن میں ایک عشاریہ سات فیصد اضافے کی توقع ہے۔
ڈاکٹر منزہ نے کہا کہ انرجی ڈرنکس بیچنے والی کمپنیز کی توجہ اپنے پراڈکٹ کی تشہیر اور فروخت پر منحصر ہوتی ہے، ایسے میں ٹی وی پر آنے والے اشتہارات میں ان مشروبات کے صحت پر پڑنے والے مضر اثرات یا اس کو پینے

9 مئی کو فوج کا تختہ الٹنے کی سازش کس نے کی؟

کی مقدار پر بات نہیں کی جاتی۔

Back to top button