’’شادی کے بعد جیون ساتھی ہی سب کچھ ہونا چاہئے‘‘

اداکارہ مہوش حیات نے انسانی زندگی میں محبت کو حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک وقت میں دو لوگوں سے محبت ہو سکتی ہے لیکن شادی کے بعد جیون ساتھی ہی سب کچھ ہونا چاہئے۔
اداکارہ مہوش حیات اور رمشا خان نے ایکسپریس انٹرٹینمنٹ کے پروگرام ’دی ٹاک شو‘ میں شرکت کی، دونوں اداکارائیں فلم ’تیری میری کہانی‘ کی پروموشن کے لیے موجود تھیں۔
پروگرام کے دوران مہوش حیات نے اعلان کیا کہ اس پروگرام کے ذریعے اعلان کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے برطانیہ میں ’پنک لاما‘ کے نام سے اپنی فلم کمپنی کا آغاز کیا ہے، میں ہمیشہ دنیا بھر کے مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے خلاف دنیا کے منفی تصور کے حوالے سے بات کرتی ہوں جہاں انہیں دقیانوسی تصور کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
مہوش حیات نے کہا کہ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ان تصورات کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمیں خود قدم اٹھانا ہوگا، کیونکہ ہم خاموش بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتے، کمپنی میں پروفیشنل ٹیم کام کر رہی ہے جو بافٹا ایوارڈ اور ایمی ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔
مہوش حیات اور رمشا خان اپنی فلم ’تیری میری کہانیاں‘ کی پروموشن کے لیے موجود تھیں جہاں انہوں نے فلم کی متاثر کن کہانی کے حوالے سے ناظرین کو آگاہ کیا۔یاد رہے کہ ’تیری میری کہانیاں‘ عیدالاضحیٰ پر ملک بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی، یہ فلم 3 مختلف فلموں کا مجموعہ ہے جس میں 3 مختلف کہانیاں شامل کی گئی ہیں، فلم میں مہوش حیات اداکار وہاج علی کے ساتھ نظر آئیں گی جبکہ رمشا خان اداکار شہریار منور کے ساتھ نظر آئیں گی۔
پروگرام کے دوران میزبان حسن چوہدری نے مہوش اور رمشا سے سوال کیا کہ کیا ایک انسان کو ایک ہی وقت میں دو انسانوں سے محبت ہوسکتی ہے؟جس پر مہوش نے جواب دیا کہ کسی کی محبت آخری نہیں ہوتی، لیکن جب شادی ہوجائے تو وہی انسان سب کچھ ہونا چاہئے۔
مہوش حیات نے کہا کہ جب آپ شادی کرتے ہیں تو دائیں یا بائیں کچھ نہیں دیکھا جاتا۔اپنی فلم ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں بھی یہی پیغام دیا گیا تھا، ایک وقت میں دو انسانوں سے محبت بالکل ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کے پیچھے دیوانوں کی طرح بھاگنا شروع کر دیں۔ان کا کہنا تھا کہ محبت ہوجاتی ہے لیکن اپنے ساتھی کے ساتھ وفادار ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
بعد ازاں رمشا خان نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ ایک ہی وقت میں دو انسانوں سے محبت ہوجائے، ایسا تب ہوتا ہے جب پہلے انسان کے ساتھ محبت ختم ہو جائے تو انسان دوسرے انسان کو اپنا محبوب ماننے لگتا ہے۔
پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے حسن چوہدری نے سوال پوچھا کہ ’آپ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو کس طرح کنٹرول کرتی ہیں، آپ کا کیا ردعمل ہوتا ہے جس پر مہوش حیات نے کہا کہ کسی بھی انسان کو آپ کے کردار یا ذات پر تبصرے کرنے کا حق نہیں ہے، آپ میری اداکاری پر تنقید کرسکتے ہیں، لیکن میں اپنی ذاتی زندگی میں کیسی ہوں، یا میرا کردار کیسا ہے، اس حوالے سے کسی کو بولنے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ انہیں اگر کوئی ایسا بولے تو کیسا محسوس ہوگا، ہمیں بولنے اور تبصرے کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے اگر کچھ اچھا کہنے کے لیے نہیں ہے تو خاموش رہیں، ہم بھی انسان ہیں، ہماری بھی فیملی ہے، احساسات ہیں اور ذہنی صحت ہے، آپ کے ایک تبصرے سے یہ سب متاثر ہوسکتے ہیں۔

Back to top button