فلم ’’لگان‘‘ کا کردار ’’کچرا‘‘ 25 سال بعد زیر بحث کیوں آ گیا؟

25 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ’’لگان‘‘ کے دلت کردار ’’کچرا‘‘ کے غیرانسانی ہونے پر سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، اتنے عرصہ بعد فلم کے اس کردار کے زیر بحث آنے کی وجہ بھارتی اشتہار ہے جس میں ’’کچرا‘‘ کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔
’کچرا یہ کھیل کی آخری گیند ہے، ہمارے پاس جیتنے کے لیے ابھی پانچ ریسیں باقی ہیں، آپ کو صرف بال بارڈر کراس کرانا ہے، کچرا، ورنہ ہم سے تین گنا لگان لیا جائے گا، کچرا، ہماری زندگی تمہارے ہاتھ میں ہے۔
یہ عامر خان کی فلم لگان کا ایک سین ہے جس میں کچرا گاؤں کا ایک دلت کردار تھا۔ انڈیا میں زوماٹو کمپنی نے حال ہی میں کچرا کے کردار کے حوالے سے ایک اشتہار نکالا تھا، جسے کچھ لوگوں نے نسلی تعصب قرار دیا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا 2001 میں لگان میں کچرا کا دلت کردار واقعی ذات پرست ہے؟
لگان میں کچرا کا کردار ادا کرنے والے اداکار آدتیہ لاکھیا کا کہنا ہے، ’کچرا ایک بہت مضبوط کردار ہے۔ جب لگان ریلیز ہوئی تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ کچرا کے دلت کردار کو غیر انسانی انداز میں دکھایا گیا ہے۔ تو آج 25 سال بعد یہ غیر انسانی کیسے ہو گیا؟‘ یہ کردار 1893 کا ہے، کچرا اس دور کے حساب سے ایک بہت ہی متعلقہ کردار تھا، اگر زوماٹو کے اشتہار سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو یہ درست ہے کہ اشتہار واپس لے لیا گیا۔ ہاں بُرا لگا کیونکہ ہماری سوچ اچھی تھی۔
یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ہدایت کار نیرج گھیوان نے ٹویٹ کیا، ’آشوتوش گواریکر کی آسکر نامزد فلم لگان میں کچرا کا کردار سنیما کی تاریخ کے سب سے غیر انسانی کرداروں میں سے ایک ہے۔چندر بھان پرساد جارج میسن یونیورسٹی امریکہ میں ایک سکالر ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’پہلے دلتوں کے نام اس طرح دیے جاتے تھے کہ جن کو سن کر ناگوار گزرتا تھا جیسے کہ پڑوہ (نالہ)، کٹوارو جس کا مطلب ہے کچرا۔ تو عامر خان کی فلم میں یا زوماٹو نے کردار کا نام کچرا رکھ دیا، تو آپ سمجھ لیں کہ عامر خان جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہے، یہ ان کے لیے فطری سوچ کا بھی حصہ ہے، اسے پرمیننٹ ریکول کہا جاتا ہے کیونکہ یہ برسوں سے جاری ہے تاہم کچرا کے کردار سے ہٹ کر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ہندی سنیما میں دلتوں کو کتنا اور کیسے دکھایا گیا ہے؟
ذات پات کے مسائل پر کئی فلمیں بنانے والے ہدایت کار ناگراج مونجالے نے 2022 میں فلم جھنڈ بنائی جس میں امبیڈکر کا سین بہت مقبول ہوا، بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’شاید یہ پہلا موقع ہے جب امیتابھ بچن جیسا بڑا ہیرو باباصاحب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو، یہ میرے لیے فخر کی بات تھی۔
ذات اور سنیما کو سمجھنے کے لیے انڈین سنیما کی تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔ یہاں 1936 میں آزادی سے پہلے کی اچھوت لڑکی کی یاد آتی ہے جہاں اشوک کمار اونچی ذات کا ہے اور دیویکا رانی ایک دلت لڑکی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں کی شادی نہ ہو سکی۔
دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہریش ایس وانکھیڑے دلت سنیما پر لکھتے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں، حدود کے باوجود ہندی فلموں میں تبدیلی نظر آتی ہے، فلم نیوٹن کو ہی لے لیں، 2019 میں آرٹیکل 15 میں بھی ذات اور جنس کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ فلم کے ایک سین میں ایوشمان کھرانہ جو ایک پولیس افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہریش ایس وانکھیڑے کا ماننا ہے، اگرچہ نئی فلموں میں مضبوط دلت کردار دکھائے جا رہے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ کردار دلتوں کے مسائل سے غیر جانبدار ہو گئے ہیں۔ پرکاش جھا کی فلم پریکشا میں ایک دلت باپ کی مشکلات اور اس کی خواہشات کو دکھایا گیا ہے۔ یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہے لیکن سنیما آہستہ آہستہ جمہوری ہوتا جا رہا ہے لیکن اجے برہمتاج جوابی سوال کرتے ہیں کہ ہندی فلموں میں آج بھی دلت کرداروں کو ہیرو ازم کیوں نہیں ملا؟ جب وکی کوشل نے مسان کی تو وہ نئے تھے، لیکن کیا آج کوئی

نسلہ ٹاور کیس میں سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور کاکا گرفتار

مین سٹریم ہیرو دلت کا کردار ادا کرے گا؟

Back to top button