امریکہ کے بعد پاکستان کی روس سے دوستی، انڈیا کے لیے پریشانی

سفارتی محاذ پر پاکستان کے لیے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ امریکہ سے دور ہونے کے بعد اب بھارت کے روس کیساتھ تعلقات بھی خرابی کا شکار ہو رہے ہیں اور پاکستان روس کے قریب ہو رہا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں چین میں ایک اہم ترین ملاقات کی ہے جس میں پوتن نے شہباز شریف کو بتایا کہ پاکستان اب روس کا روایتی ساتھی ہے۔شہباز شریف نے پوتن سے کہا کہ پاکستان بھی روس سے مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ جب شہباز شریف یہ کہہ رہے تھے تو صدر پوتن اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے پاکستان میں حالیہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔ صدر پوتن نے شہباز شریف کو روس میں نومبر میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

شہباز شریف نے روسی صدر سے ملاقات کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان اور روس مشترکہ طور پر تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ ہمارے عوام کے مفاد کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور خوشحالی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔‘ دفاعی امور کے ماہر بھارتی تجزیہ کار پروین سہانی نے اس ملاقات کے حوالے سے ایکس پر لکھا ہے کہ ’اب عالمی منظر نامے میں پاکستان صدر پوتن، شی جن پنگ اور کم جونگ ان کے ساتھ فرنٹ سٹیج پر کھڑا ہے اور یہ سب وزیر اعظم نریندر مودی کی تباہ کن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’انڈیا کو ہنگامی بنیادوں پر ایک تعلیم یافتہ وزیراعظم کی اشد ضرورت ہے جو عالمی حالات کو سمجھتا ہو اور اپنے ملک کی صحیح قیادت کر سکے۔‘

پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی نے بھی پاکستانی وزیر اعظم کیساتھ روسی اور چینی رہنماؤں کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’کیا ہی طاقتور منظر ہے۔۔۔ وزیراعظم شہباز شریف اُن خصوصی مہمانوں میں شامل ہیں جنھیں چین کی وکٹری ڈے کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے، دیگر میں صدر پوتن اور شمالی کوریا کے صدر کم شامل ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم مودی کو اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔‘

دوسری جانب دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار رشین اینڈ سینٹرل ایشین سٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر راجن کمار کہتے ہیں کہ ’پاکستان کبھی روس کا روایتی پارٹنر نہیں رہا، چاہے وہ سوویت یونین کے دور میں ہو یا اس کے ٹوٹنے کے بعد۔ اگر ہم برٹش انڈیا کو دیکھیں تو روس کے ساتھ ان کی دشمنی سب کو معلوم تھی۔ لیکن اب پاکستان کی جانب سے صدر پوتن کو اپنا تاریخی پارٹنر کہا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر راجن کمار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے روس کو صاف کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ آپ کی قربتیں بڑھیں گی تو یقیناً ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔ پاکستان ہمیشہ چین کے ذریعے روس کے ساتھ قربت بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن اب پاکستان اور روس دونوں چین کے اہم شراکت دار بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی اس براعظم میں انڈیا کے توازن کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ ماضی میں انڈیا نے روس کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر پاکستان کو قابو میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن اب انڈیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان، روس اور چین کا اکٹھا ہو جانا ہے۔ روس اور چین پہلے ہی ساتھ ہیں اور اب پاکستان بھی اس اتحاد میں شامل ہو گیا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی یہ ہے کہ چین کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہوئے پاکستانی فیصلہ سازوں نے امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ماضی میں مودی کو اپنا دوست قرار دینے والے صدر ٹرمپ اب روزانہ اسے طعنے مارتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے چین اور امریکہ کے بعد روس کے ساتھ بھی مثالی تعلقات قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب مودی کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چین کے ساتھ دوستی کر نہیں سکتا اور روس کی وجہ سے کھل کر امریکی کیمپ میں بھی نہیں جا سکتے۔ ایسے میں اگر چین، روس اور پاکستان ہاتھ ملاتے ہیں تو ایک گریٹ گیم شروع ہو جائے گی جس میں سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہو گا۔

Back to top button