احسن اقبال نے بھی ’’کوکو مو‘‘ خالی ہونے کا شکوہ کر دیا

بچوں کی ننھی منھی چاکلیٹ بسکٹ ’’کوکو مو‘‘ اکثر سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتی ہے، زیادہ تر بچے اس میں ہوا زیادہ ہونے کا گلہ کرتے نظر آتے ہیں لیکن اب وفاقی وزیر احسن اقبال بھی ’’کوکو مو‘‘ کے خالی ہونے پر خاموش نہیں رہ سکے۔
سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر وزارت منصوبہ بندی کے ادارے ’گورننس انوویشن لیب‘ نے چند دن قبل ایک ٹوئیٹ کی جس میں کہا گیا کہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی ان تمام افراد کے لیے کامیابی کا ایک موقع لا رہی ہے جو پاکستان میں جدت لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اعلان کے مطابق ہم تمام شہریوں، فرموں/تنظیموں کو اس کے لیے دعوت دیتے ہیں۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں جدید منصوبوں کے لیے تجاویز پیش کرنے کے لیے بھی کہا گیا۔
گورننس انوویشن لیب کی اس ٹوئیٹ کو کوٹ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے لکھا کہ بہتر پاکستان کے لیے اپنے جدید آئیڈیاز شیئر کریں۔
احسن اقبال کی ٹوئیٹ کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے مختلف انداز سے اس پر دلچسپ تبصرے کیے، کسی نے تنقید کی، کسی نے مذاق اڑایا تو کسی نے مشورہ دے ڈالا۔ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا کہ آپ کا پلان کیا ہے وہ بتائیں۔
وقار احمد نامی صارف نے لکھا کہ کیا آپ کے پاس ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بجٹ ہے؟ ایک اور صارف نے طنزو مزاح سے بھرپور ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی استعفیٰ دیں اور مجھے وزارت سونپ دیں، پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے یہ بہترہے۔
بعض لوگوں نے اسے مذاق میں بھی لیا اور دلچسپ تبصرے کیے، ایک صارف نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل سیلری دی جائے کیونکہ ہم خواتین ہیں۔بریانی کی محبت میں گرفتار ایک صارف نے مشورہ دے ڈالا کہ بریانی میں الائچی کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر سارہ علی نے لکھا کہ مفتاح اسماعیل سے کہیں کہ کوکو مو کو چاکلیٹ سے بھریں اور ہمیں دھوکا نہ دیں۔فرخ عباسی نامی ٹوئیٹر صارف کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اچھے منصوبوں کی پرواہ نہیں کرتا، لوگ صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ پرواہ کرتے ہیں۔
جہاں چند لوگوں نے طنزو مزاح کے ساتھ دلچسپ تبصرے کیے وہیں ایک صارف نے احسن اقبال کو سنجیدہ مشورہ بھی دیا کہ برآمدات میں اضافہ کریں ورنہ روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
