علیم خان کے بعد عون چوہدری کی بھی سیاسی جماعت بنانے کی تردید

تحریک انصاف کے ناراض رہنماعبدالعلیم خان کے بعد ترین گروپ کے رکن عون چوہدری نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے کی تردید کر دی۔

جہانگیر ترین گروپ کے رہنما عون چوہدری نے نئی پارٹی بنانے کی خبروں کی تردید کر تے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین، علیم خان یا چوہدری سرور کوئی نئی جماعت نہیں بنا رہے۔

عون چوہدری کا کہنا تھا  ہم اس وقت حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت کے ساتھ ہی کھڑے ہیں،ترین گروپ مسلم لیگ ن کا اتحادی ہے اور رہے گا، ترین گروپ الگ سے کوئی نئی جماعت نہیں بنا رہا۔

قبل ازیںتحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے سیاست میں فعال ہونے کی خبردوں کی تردید جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نئی سیاسی جماعت کے قیام میں میری شمولیت کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے‘۔

علیم خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہوں اور نہ ہی حصہ بننے کا کوئی ارادہ ہے، سیاسی معاملات سے علیحدہ ہوں، ابھی ساری توجہ فلاحی کاموں پر مرکوز ہے، بلا تفریق خدمت اور رفاہی کاموں کے لئے فاؤنڈیشن کی سرپرستی کر رہا ہوں، چوہدری سرور اور جہانگیر ترین سے اچھا تعلق ہے لیکن میرا سیاست میں فعال ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خیا ل رہے کہ یہ اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی زیر قیادت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے 40 سے زائد منحرف اراکین نئی سیاسی جماعت بنانے یا پیپلزپارٹی میں شمولیت جیسے آپشنز پر غور کررہے ہیں۔

معروف انگریزی اخبار  کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس واضح پیغام کے بعد سامنے آئی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو پارٹی ٹکٹ دینے کا کوئی امکان نہیں ہے،پی ٹی آئی کے ایک اور سابق رہنما چوہدری سرور بھی ہیں جو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں گورنر پنجاب رہ چکے ہیں، ان کے تعلقات مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی دونوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور یہ بھی اپنا مستقبل پیپلز پارٹی یا ترین گروپ میں سے کسی ایک کے ساتھ دیکھ رہے ہیں،مسلم لیگ (ن) نے ان کی اِس ’قربانی‘ کے عوض انہیں گزشتہ سال جولائی میں ضمنی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا تھا، تاہم ان میں سے تقریباً تمام امیدواروں کو پی ٹی آئی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے برطرفی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

اسی طرح ترین گروپ میں شامل پی ٹی آئی کے کچھ منحرف اراکین قومی اسمبلی نے مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحاد سے ہاتھ ملا لیا تھا، موجودہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض ان ہی میں سے ایک ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ وہ بھی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے آپشنز تلاش کر رہے ہیں،یہ اقدام پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے مستقبل کے بارے میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کی رائے کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے جولائی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی شکست کا ذمہ دار پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ٹھہرایا تھا اور واضح کیا تھا کیا کہ اگلے عام انتخابات میں ان لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، مسلم لیگ (ن) حلقوں کے کارکنوں کی خواہشات کی بنیاد پر امیدواروں کو ترجیح دے گی،ی ٹی آئی کے ایک منحرف رکن اسمبلی نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سرد مہری کے اظہار کے بعد گروپ کے اندر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ انہیں اپنی علیحدہ پارٹی بنانی چاہیے یا دیگر آپشنز پر غور کرنا چاہیے‘۔

عمران نے پھر ہر بحران کا ذمہ دار جنرل (ر)باجوہ کوٹھہرا دیا

Back to top button