عمران ، باجوہ اور ثاقب نثار میں سے سب سے بڑا مجرم کون؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان ، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار ہی وہ تین کردار تھے جنہوں نے اس سماج کو اذیت ناک بنایا، جنہوں نے اس ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ چاہے اب وہ معصومیت کے کتنے ہی ڈھونگ رچائیں، یہ تاریخ پاکستان کے سیاہ ترین کرداروں میں شامل ہیں۔ دورِ عمران میں ظلم سہنے والے، ستم برداشت کرنے والے لوگ ان تین بزعم خود معصوموں کے سیاہ کردار سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔
وی نیوز کے لئے اپنے ایک کالم میں عمار مسعود لکھتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کے غیر مصدقہ انٹرویوز کا سلسلہ طویل ہے۔ بات کہہ کے مکر جانے کا فن کوئی ان سے سیکھے۔ انٹرویو دیتے بھی ہیں اور اس کی تصدیق بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے وہ انٹرویوز دیے یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے، چونکہ وہ تردید بھی نہیں کرتے۔ انٹرویو چاہے کسی جغادری کالم نگار سے ملاقات میں ہوا ہو یا سرِ راہ کسی صحافی سے گفتگو پر مبنی ہو، اس کا نتیجہ کچھ یوں نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جنرل صاحب کا دل وطن کی محبت سے معمور تھا، انہیں معیشت کی بھی فکر تھی اور معاشرت کی بھی، اخلاقی گراوٹ پر بھی، وہ سخت پریشان رہتے تھے اور سماجی استحصال پر بھی ان کا دل خون کے آنسو روتا تھا مگر حالات ایسے تھے کہ کچھ بھی ان کے بس میں نہ تھا۔
وہ اپنے انٹرویوز میں باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان ہی نے سارے جرائم کیے، وہ خود پاک اور پوتر ہی رہے۔ نہ انہیں ملکی خزانے سے کچھ لینا دینا تھا، نہ انتخابات کو لوٹنا ان کا مقصد تھا، نہ وہ اپوزیشن پر ظلم توڑنے کے حق میں تھے، نہ اسمبلیوں کے اجلاس بلانے کے لیے انہوں نے حساس بندے استعمال کیے، نہ انہیں صحافیوں کے اغوا اور ان پر تشدد کی کچھ خبر تھی، نہ وہ ہائبرڈ نظام کی اے بی سی سے واقف تھے۔ وہ اچھی بہو، بیٹیوں کی طرح سر پر آنچل لیے زمانے کا تماشہ ہی دیکھتے رہے۔ ہاں! انہوں نے اپنی بساط کے مطابق اس ابتلا کو روکنے کی کوشش کی مگر کیا کیجیے مجبور اور بے بس تھے۔ ان کے ہاتھ بندھے تھے، زبان پر قفل تھا اور ضمیر پر بوجھ۔ وہ ملک کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر خان کی ہٹ دھرمی نے انہیں کچھ نہ کرنے دیا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب عمران خان کی سن لیں، روز قوم سے خطاب کرتے ہیں، ہر روز ایک نیا شگوفہ چھوڑتے ہیں۔ کبھی اپنے قتل کا الزام امریکا پر لگاتے ہیں، پھر یہ الزام جنرل باجوہ کے سر دھرتے ہیں۔ اگلے روز خطاب فرماتے ہیں، اور قتل کا الزام لے کر آصف زرداری کے سر ہوجاتے ہیں، اس سے اگلے روز سارے کا سارا الزام محسن نقوی کے سر منڈھ دیتے ہیں۔ان سے ان کے دورِ اقتدار کے بارے میں سوال کیا جائے تو موٹے موٹے دانوں والی تسبیح مزید زور سے گھمانا شروع کردیتے ہیں، اک عالم بے خودی میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر سر اٹھاتے ہیں، سارا الزام جنرل باجوہ پر لگا کر شتاب ہوجاتے ہیں۔ ایسی شکل بناتے ہیں، جیسے جو کچھ ہو رہا تھا، اس کا انہیں سرے ہی سے کوئی علم نہ تھا۔
نہ انہیں خبر تھی کہ ان کے عہدِ اقتدار میں آزادی اظہار کے پردے میں کیا کچھ ہوتا رہا، نہ انہیں انتخابات میں بے مثال دھاندلی کے بارے میں کچھ پتا تھا، نہ معیشت کی بدحالی کی وجہ انہیں قرار دیا جاسکتا ہے، نہ گالیوں والی سیاست سے ان کا کچھ لینا دینا ہے، نہ انہوں نے کوئی گھڑی بیچی، نہ بزدار ان کا انتخاب تھا نہ اسمبلیاں انہوں نے خود توڑیں، نہ نیب چیئرمین کی ویڈیو انہوں نے ریلیز کی۔ وہ بس ایک معصوم فرشتہ تھے اور یہ سارا تماشا دیکھنے پر مجبور تھے۔ انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔ وہ بلاوجہ بدنام ہو رہے ہیں۔ ان کا کوئی دوش ہے نہ کوئی قصور۔ اصل مجرم جنرل باجوہ تھے۔عمار مسعود لکھتے ہیں کہ معصومین کی فہرست میں تیسرا بڑا نام ثاقب نثار کا ہے۔ ان کے کچھ انٹرویوز سنے جو ان کی آڈیو لیکس سے بالکل مختلف ہیں۔ اب ان کی باتوں میں پہلے جیسا طنطنہ ہے نہ تکبر چھلکتا ہے، نہ غیر آئینی فیصلوں کی رمق کہیں نظر آتی ہے نہ توہینِ عدالت کا کہیں کوئی غلغہ ہے۔
اب وہ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں، لوگوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کا درس دیتے ہیں۔ محبت، اخلاص اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی آڈیو لیکس ان کے داغدار ماضی کی دلیل ہورہی ہیں، مگر وہ اب ایسی شرافت کا پرتو بن چکے ہیں کہ شاید ’فرشتہ صفت‘ کی اصطلاح انہی حضرت کے لیے لغت میں شامل کی گئی تھی۔ اب ان کے بزعم خود ’بابا رحمتے‘ کے لہجے میں ایسی شیرینی ہوتی ہے کہ سننے والا ان کے لفظوں سے ٹپکنے والے شیرے میں لتھڑ جاتا ہے، ان کا خیال ہے کہ عصرِ حاضر کے معصومین کی فہرست مرتب ہو تو ان کا ’اسم گرامی‘ سب سے پہلے لکھا جانا چاہئے۔
آخر میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ یاد رکھنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ پاکستان اور پاکستانیوں نے دورِ عمران میں جو ہزیمت اٹھائی اس کا ازالہ معافی یا معصومیت کے بہروپ سے نہیں ہوسکتا اگر ملک کو درست سمت پر رکھنا مقصود ہے تو کچھ حالیہ معصومین کو سزا دینا ہوگی، کچھ کرداروں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ تعمیر کے سفر کا آغاز تادیب سے کرنا ہوگا۔ ان جرائم کی سزا کے لیے کسی تحقیق یا تفتیش کی ضرورت نہیں۔ ماضی کے یہ تین فرعون ہر روز اپنے کیے اور کہے کی زد میں آرہے ہیں۔
