آرمی چیف کو نکالا تو عمران کا حشر بھی نواز شریف والا ہو گا

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے کوئی مس ایڈونچر کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل باجوہ کو برطرف کر کے اپنا آدمی لگا کر اسٹیبلشمنٹ کی کمان پر قبضے کی کوشش کی تو اسٹیبلشمنٹ کے جوابی وار سے ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو جنرل پرویز مشرف کی برطرفی پر نواز شریف کا ہوا تھا۔
فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ آن لائن نیوز ایجنسی کے مالک اور مدیر محسن بیگ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خود ساختہ فعال بازو ہیں۔ وہ سال 2014 میں عمران خان کے ڈی چوک میں لگائے گئے کنٹینر پر بھی موجود ہوتے تھے۔ عمران خان کے راز دار ہونے اور اُن کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کا اعتراف کرتے ہیں۔ عمران کے ذاتی دوستوں کی خاص محفلوں میں ان کی ایک ساتھ تصاویر ہیں۔
چنانچہ جب کچھ ماہ قبل وہ عمران پر کھل کر تنقید کرنے لگے تو قدرتی طور پر چہ میگویاں شروع ہوگئیں کہ کیا خان اور اسٹیبلشمنٹ جس نے انہیں وزیر اعظم بنایا تھا، کے مابین اس حد تک اختلافات بڑھ چکے کہ اسٹیبلشمنٹ کے میڈیا اثاثوں کو ان کے خلاف متحرک کرنے کا وقت آ گیا ہے؟ پھر جب محسن بیگ نے عوامی سطح پر عمران خان کے ”گدلے رازوں“ کو بے نقاب کرنے کی دھمکی دی تو یہ شک یقین میں بدل گیا۔ گویا مہر تصدیق ثبت ہوگئی۔
بقول نجم سیٹھی عمران خان جانتے ہیں کہ اس طرح کے انکشافات ان کی ڈگمگاتی سیاست اور کردار کو کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔محسن بیگ کو ایف آئی اے نے 16 فروری کی صبح اسلام آباد میں انکے گھر سے گرفتار کیا۔ بظاہر اس گرفتاری کا مقصد کپتان کا اپنے سابق ساتھیوں کو وارننگ دینے تھا کہ اگر وہ بھی انکشافات کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کا انجام بھی یہی ہوگا۔ تاہم خان صاحب کی بدقسمتی کہ محسن بیگ کی گرفتاری کے انداز اور ان پر لگائے گئے الزامات سے ان کی مضبوطی کا تاثر نہیں ابھرا بلکہ اسے خاصی زک پہنچی ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم سادہ لباس میں محسن بیگ کو گرفتار کرنے گئی۔
اس نے سوچا کہ آنے والے ڈاکو یا اغوا کار ہیں، اس لیے اس نے بندوق نکالی اور ہوائی فائرنگ کردی۔ مزاحمت پر اس سے سختی برتی گئی۔ پولیس پہنچی اور بیگ کو اٹھالیا اورحوالات میں بند کردیا ۔ پولیس کو طلب کرنے اور ان کے طرز عمل کی وضاحت کرنے کے لیے دوپہر کوایک ایڈیشنل سیشن جج سے رابطہ کیا گیا۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی، مراد سعید کی جانب سے صبح 9 بجے لاہور میں بیگ کے خلاف مبینہ سائبر کرائم کی ایف آئی آر کیسے درج کی گئی لیکن صبح 9.30 بجے تک ایک ٹیم اسلام آباد میں اسے گرفتار کرنے کے لیے حرکت میں آچکی تھی ۔
جج نے ایف آئی آر پر ایک نظر ڈالی اور گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ پولیس نے جواب میں دہشت گردی کے الزامات لگائے اور بیگ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جس نے اسے تین دن کے ریمانڈ پر دے دیا۔ اس پر سوالات اٹھے۔ مثال کے طور پر بیگ کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کیوں لگائے گئے جب ان پر صرف یہ الزام تھا کہ انہوں نے ایک ٹی وی شو میں مراد سعید کا ایک آڑا سا حوالہ دیا تھا جو عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی تصنیف کردہ کتاب سے لیا گیا تھا۔
پیٹرول مہنگا کرنے کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عوامی رائے یہ ہے کہ عمران خان خوف و ہراس اور غصے کے عالم میں بے چین ہو رہے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف ہو گئی ہے اور اپوزیشن ان کے خلاف متحدہ محاذ بنا رہی ہے۔ انکے اتحادی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انہیں نکال باہر کرنے کے سگنل کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس عالم میں عمران خان اپنے ناقدین کو ڈرا رہے ہیں۔ ہٹ لسٹوں کی ہنگامی تیاری جاری ہے۔ جابرانہ صدارتی آرڈیننس کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ خان کے ساتھیوں اور خاندان میں کرپشن کی داستانیں چھپائے نہیں چھپ رہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالتیں جاگ رہی ہیں۔ ہر کوئی ایک سوال پوچھ رہا ہے: سب سے پہلا وار کون کرے گا، اور کب؟
بقول سیٹھی، عمران خان کو ہٹانے کے تین طریقے ہیں۔ سب سے پہلے ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو، انکے دامن کے داغ بوجھل ہوتے جائیں اور دباؤ اتنا بڑھ جائے کہ وہ خود ہی منظر نامے سے ہٹ کر گھر چلے جائیں۔ لیکن خان صاحب ضد کے پکے ہیں۔ وہ قدم جما کر آخری مورچے تک لڑنے کی دھن رکھتے ہیں، چاہے جتنا بھی نقصان ہوجائے۔
انکی فراغت کا دوسرا طریقہ یہ یے کہ اُنھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نااہل قرار دیدے جس کا فارن فنڈنگ کیس پر فیصلہ مارچ کے پہلے یا دو سرے ہفتے متوقع ہے۔ انکی چھٹی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے سے نواز شریف کے ساتھ کیے گئے سلوک کا حساب کسی حد تک برابر ہوجائے گا۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کرایا جائے۔ پہلے دو طریقوں کا امتزاج تیسرے گدلے کھیل سے کہیں زیادہ صاف ہوگا۔
لیکن نجم سیٹھی بتاتے ہیں کہ عمران کو گھر بھجوانے کا ایک چوتھا راستہ بھی ہے۔ اگر عمران خان آرمی چیف کو برطرف کرنے اور اپنے کسی آدمی کی تقرری کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی کمان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ نواز شریف نے 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کیا تھا۔ اس صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے جوابی وار سے اُن کا بھی وہی حشر ہو گا جو نواز شریف کا ہوا تھا۔ لیکن اس صورت میں ملک اور اس کی سیاست غیر متوقع اور غیر ارادی نتائج کے علاوہ غیر یقینی پن کا شکار ہوجائے گی۔
بہر حال جلد یا بدیرجو بھی راستہ اختیار کیا جائے، عام انتخابات ہوں گے اور ملک کی مقبول ترین جماعت، پاکستان مسلم لیگ ن اسلام آباد میں حکومت بنائے گی اور ملک معمول کی جمہوریت کی طرف لوٹ جائے گا۔ چونکہ اگلے چند ہفتوں میں عمران خان کے لیے معاملات خراب ہوتے جا رہے ہیں، لہذا وہ حکومت برقرار رکھنے کے لیے مذید غیر قانونی اور غیر آئینی طریقوں کا سہارا لے سکتے ہیں ۔
مثال کے طور پر وہ اپوزیشن کے پارلیمانی ارکان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ وہ انہیں ہٹانے کے لیے مطلوبہ تعداد جمع نہ کر سکیں، یا وہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو حکم دے سکتے ہیں کسی بھی رائے شماری کے نتائج میں ہیرا پھیری کرکے یا ان کے آئینی حقوق اور مراعات سے انکار کرکے اپوزیشن کو ناکام بنائیں۔
عوامی تاثر لہکے بھی یہی ہے کہ موجودہ سپیکر قومی اسمبلی جانب دار ہیں۔ اسکے علاوہ عمران آئینی ابہام اور قانون کی بے مثال تشریحات کا فائدہ اٹھا کر کنفیوژن کے بیج بو سکتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے منتخب صدر کی حمایت سے عہدے سے چمٹے رہ سکتے ہیں۔ اس صورت میں امپائر کو خود اکھاڑے میں اترنا پڑے گا۔
بقول نجم سیٹھی کچھ لوگ اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ اور حزب اختلاف کو چکمے پر چکما دیتے ہوئے نہ صرف اگلے عام انتخابات تک اپنا بچاؤ کرجائیں گے بلکہ انتخابات میں دھاندلی کرتے ہوئے ایک اور مدت کے لیے حکومت بھی بنالیں گے۔
ایسے لوگ شاید عوام کے بڑھتے ہوئے غیض و غضب کا اندازہ نہیں لگارہے۔ یادریے کہ وہ تمام سول ملٹری سیاست دان، جنہوں نے آئین کو پامال کرنے، عوام کا مینڈیٹ چرانے اور ہائبرڈ یا آمرانہ حکومتیں مسلط کرنے کی کوشش کی، اُنہیں جلد یا بدیر اسکا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔
