فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن پر فوج کے کس دھڑے کا دباؤ ہے؟

سینئر صحافی سید طلعت حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے خلاف آٹھ برس سے زیر التوا غیر قانونی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ابھی جاری نہ کریں۔ ٹویٹر پر ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ دینے سے نامعلوم افراد نے اس وجہ سے روکا ہے کہ کہیں رد عمل آنے کی صورت میں ملک میں حالات مزید خراب نہ ہو جائیں۔ طلعت کے مطابق ادھر ادھر سے انے والے شدید دباو کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر بہت پریشان ہیں کے کریں تو کیا کریں۔ یاد رہے کہ کہ 29 جولائی کو ایک اعلی سطحی حکومتی وفد نے بھی چیف الیکشن کمشنر سے ان کے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کیے جانے کے باوجود سنایا کیوں نہیں جا رہا۔

باخبر حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ایک طاقتور دھڑا فیض کی زیر قیادت سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن دونوں پر عمران خان کے مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے سپریم کورٹ کے عمرانڈو ججوں کا ایک مخصوص ٹولہ تو پہلے ہی عمران خان کے مفادات کی نگہبانی کے لیے کھل کر سامنے آ چکا ہے لیکن الیکشن کمشنر ابھی اس سوچ بچار میں ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری دے دیا جائے یا فیض دھڑے کی فرمائش کے مطابق مزید لٹکایا جائے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر دو متحارب دھڑوں کی سرد جنگ جاری ہے۔ ایک دھڑا اب بھی فیض کو اگلا آرمی چیف لگوانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اسی لیے لیے موجودہ حکومت پر نئے الیکشن کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ نومبر سے پہلے عمران خان کو اقتدار میں لایا جائے تا کہ وہ نئے آرمی چیف کا انتخاب کریں۔

لندن میں جمائما کے گھر کے باہر ن لیگ کے مظاہرے شروع

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب کے ضمنی الیکشن میں 15 سیٹیں جیتنے کے بعد عمران خان کی تحریک انصاف کا گراف کافی بہتر یے اس لیے فوری الیکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن اگر دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں فوری الیکشن میں جاتی ہیں تو مہنگائی کا عوامی ردعمل انکا تیا پانچا کر دے گا۔ ویسے بھی پی ڈی ایم کو یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اگر وہ عمران کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے عوام دشمن معاہدے پر عمل کریں گے تو انہیں اپنی حکومت کی معیاد پوری کرنے دی جائے گی اور انکے خلاف کوئی سازش نہیں ہو گی۔ لیکن اب اتحادی حکومت کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا فیض دھڑا سپریم کورٹ سے پے در پے حکومت مخالف فیصلے دلوا کر سیاسی بحران پیدا کر رہا ہے تاکہ حکومت کو نئے الیکشن میں دھکیل کر اسکا تیا پانچہ کیا جا سکے۔ چنانچہ اب حکومت نے بھی دفاعی پوزیشن چھوڑ کر جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے اور الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اسی دوران سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے دعویٰ کیا کہ میری اطلاع کے مطابق پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 24 جولائی تک آنا تھا لیکن پتا نہیں کیوں تاخیر کا شکار ہوا۔ تاہم اب اس کیس کا فیصلہ ایک ہفتے میں آ جائے گا اور اس کے لیے حکمران اتحاد کو دھرنا دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ یاد رہے کہ 8 برس بعد بھی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ آنے پر مریم نواز نےالیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دینے کی دھمکی دے رکھی یے۔

دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی حالیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن پر عمران خان کی تحریک انصاف کے خلاف دائر کردی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دینے کے لیے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکبر ایس بابر نے اپنی پٹیشن میں عمران خان پر جو الزامات لگائے تھے انکی تصدیق اب فنانشنل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھی کر دی ہے اور کنفرم ہو گیا یے کہ پی ٹی آئی کی فنڈنگ میں غیر ملکی کمپنیاں اور افراد شامل تھے لہذا پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

Back to top button