باجوہ کی مارشل لاء کی دھمکی پر زرداری کا منہ توڑ جواب

سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے اتحادی جماعتوں کو ملک میں مارشل لاء کی دھمکی دینے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا 5 منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں جس پر انہيں کہا بسم اللہ کریں کیونکہ شیر پر چڑھنا آسان ہے، اُترنا نہيں۔آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مارشل لا لگانے کے اشارے دئیے تھے۔ تحریک عدم اعتماد سے قبل جنرل باوجوہ سے ملاقات کے دوران ان کی باڈی لینگویج سے مارشل لا لگانے کے اشارے ملے۔ جنرل باوجوہ نے کہا تھا کہ میں 5 منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں تو انہیں جواب دیا کہ بسم اللہ کریں آپ ملک چلائیں اور ہمیں کھیتی باڑی کرنے دیں۔پی پی پی کے شریک چئیرمین نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ نے ہمیں بلا کر کہا کہ میں عمران خان کو کہوں گا وہ ابھی مستعفی ہو جائے گا آپ الیکشن میں جائیں۔ اس پر میں نے اور مولانا فضل الرحمٰن نے انکار کردیا۔
نیوز چینل ’جیو‘ کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں اینکر حامد میر سے خصوصی گفتتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم الیکشن سے ڈرتے ہیں، مسئلہ ٹائمنگ کا ہے، اگر ایک دن میں ملک بھر میں الیکشن ہوں تو وہ آئینی طور پر درست ہے۔بر سرِاقتدار حکومت ہی الیکشن کراتی ہے، ہمیں الیکشن پر نہیں بلکہ اس کی ٹائمنگ پر اعتراض ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ ہم قانون کو سمجھتے ہیں لیکن ججز سیاست کو نہیں سمجھتے، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا لوگوں کو پتا نہیں ہوتا۔ آصف زرداری نے کہا کہ آپ کو یاد ہے میں نے کہا تھا کہ یہ جج افتخار چوہدری سیاست دان ہے اور یہ سیاسی جماعت بنائے گا، آپ لوگ مجھ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اس کو بحال کرو، اس دوران چوہدری اعتزاز احسن مجھ سے رابطے میں نہیں تھا، وہ کسی اور سے رابطے میں تھا۔
سابق صدر نے کہا کہ ہم نے اتحادی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے ایک ٹیم بنالی ہے تاکہ مذاکرات کے دروازے کھلیں، اگر پی ٹی آئی سے مذاکرات ہوتے ہیں تو ہم انتخابات سے انکاری نہیں ہیں، میں تو صرف اس کی تاریخ پر معترض ہوں، کوئی سیاسی قوت انتخابات سے نہیں ڈرتی، میرا نکتہ صرف یہ ہے کہ اس وقت ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، آئی ایم ایف کا قرض آنا ہے، اس کی شرائط پر عمل کرنا ہے، اس لیے ہمیں کچھ وقت دیں، بات صرف اتنی ہے، ہم نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں، جدوجہد کی ہے، باقی الیکشن کیوں اور کیسے نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع ممکن نہیں ہے، یہ چھوٹی سوچ ہے، اتفاق رائے کے ساتھ جتنی جلدی ممکن ہوسکے انتخابات ہونے چاہییں، جس بھی تاریخ پر اتفاق رائے ہوجائے چاہیے وہ اکتوبر ہو، اس کے بعد کی ہو، اگست ہو یا اس سے بھی پہلے کی کوئی تاریخ ہو، لیکن یکساں مواقع کے ساتھ ایک دن ہی ملک بھر میں انتخابات ہونے چاہئیں۔
شریک چیئرمین نے کہا کہ ہم نے جیلیں کاٹیں لیکن عمران خان ایک دن جیل نہیں گئے، یہ ڈومیسائل کا فرق ہے، سابق صدر نے کہا کہ عمران خان مقبول نہیں، غربت مقبول ہے، بیچارے بچے ہیں جن کو تنخواہ دیتا ہے، جب بجلی نہیں آتی تو عوام کو تکلیف ہوتی ہے اور مخالف جماعت کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ جب گزشہ سال تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو میں عمران خان کو کہتا ہوں وہ ابھی استعفیٰ دے گا اور آپ الیکشن میں چلے جائیں، اس پر میں نے منع کیا، مولانا فضل الرحمٰن نے منع کیا، آپ کو دیکھنا چاہیے جو بات بلاول بھٹو نے کی ہے کہ آپ نے صرف ایک عمران خان کو نکالا ہے، عمران کے حواری ابھی بھی موجود ہیں، وہ ابھی بھی گیم کھیل رہے ہیں۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں پتا تھا کہ یہ 2035 تک رہنے کا منصوبہ بنا کر آئے ہیں، یہ اپنا چیف لا کر ایسا کرنا چاہتے تھے، ہم نے اس نظریے کے تحت، سیاسی سوچ سوچتے ہوئے وہ فیصلہ کیا۔
سابق صدر نے کہا کہ اس دوران جنرل باجوہ اپنی باڈی لینگوج سے اس طرح کے کچھ اشارے دے رہے تھے کہ میں 5 منٹ میں مارشل لا لگا سکتا ہوں، تو ہم نے اس کو کہا بسم اللہ کر بھائی، ہمیں بھی چھوڑ، ہم جا کر کھیتی باڑی کریں، تو جا کر ملک چلا، پھر وہ پیچھے ہٹا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے، میں تو نہیں کر سکتا، پھر ہم نے کہا کہ نہیں کرسکتا تو پھر چھوڑدو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔
آصف زرداری نے کہا اس وقت ملک میں سیاسی کشیدگی ہے، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کی لڑائی ہو رہی ہے، اس میں بھی دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے، عمران خان اگر اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے تو دشمن ہی فائدہ اٹھا رہا ہے، ہم نے پہلے بھی سسٹم، جمہوریت، اداروں اور ملک کو بچایا، اب بھی بچائیں گے۔
