راناثنااللہ کا ایک بارپھراپوزیشن کومل بیٹھ کربات چیت کامشورہ

وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کے سیاسی و معاشی مسائل کا حل سیاستدانوں کے ایک ساتھ مل بیٹھنے میں ہی مضمر ہے۔اپوزیشن سے مل بیٹھ کربات چیت ہوسکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ اجلاس کے دوران خود 4 مرتبہ اپوزیشن کے ڈیسکس پر جا کر انہیں مذاکرات کی باقاعدہ دعوت دی ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک ملاقات کے لیے آمادگی کا باقاعدہ اظہار نہیں کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی پیشکش کے بعد انہوں نے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سمیت پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیرنے رہنماؤں سے کہا کہ آپ کو مذاکرات کی آفر کی گئی ہے، آپ اپنا وفد تشکیل دیں اور وقت بتائیں تاکہ وزیراعظم سے ملاقات کا ارینجمنٹ کروا کر آپ کو مطلع کیا جائے، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے جواب دیا کہ ’اچھا ٹھیک ہے، ہم (مشاورت کے بعد) آپ کو بتائیں گے‘۔

مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے رابطوں میں حکومت کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہے، لیکن اگر اپوزیشن یہ کہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اجازت کے بغیر حکومت سے مل بھی نہیں سکتے، تو یہ ان کی پارٹی کا اندرونی مسئلہ ہے اور ایسی سوچ کا حکومت کے پاس کوئی حل یا علاج نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اپوزیشن پہلے ملاقات کا مسئلہ طے کرے، جب ایک کمرے میں بیٹھ کر بات ہوگی تو اس کا ماحول اور نتیجہ بالکل مختلف ہوگا، جہاں سے مستقبل کا روڈ میپ بنایا جا سکتا ہے۔

 

 

Back to top button