راجہ سکندر سلطان عمران کے سینے پر کب تک مونگ دلیں گے؟

اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد غیر معینہ وقت تک کیلئے توسیع پانے والے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان آج بھی تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل تنقید کی زد میں ہیں حالانکہ انکی تعیناتی عمران خان کی تجویز پر عمل میں آئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب راجہ سکندر عمران کو اپنا ہیرو قرار دیتے تھے اور انھوں نے موصوف کی بڑی تصویر اپنے گھر میں لگا رکھی تھی۔ تاہم وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ اب یوتھیے راجہ سکندر سلطان کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے جبکہ وہ خود بھی یوتھیوں کی دشنام گوئی کو نظر انداز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مسلسل ٹھکائی کرتے نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت 26 جنوری کو ختم ہو چکی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے انھیں گیر اعلانیہ توسیع مل چکی ہے کیونکہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران الیکنش کمیشن نئے اراکین اور سربراہ کی تعیناتی تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے مجاز ہیں۔

انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سکندر سلطان راجہ کا چار سالہ دور گذشتہ چیف الیکشن کمشنرز کے مقابلے میں زیادہ تر تنازعات کے گرد گھومتا رہا۔ ایک جانب پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت کی حکومت نے ان کی تعیناتی کی حمایت کی اور پھر وہی ان کی سب سے بڑی مخالف بن گئی۔ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر پر نون لیگ کی بے جا حمایت کے بھی الزامات لگتے رہے ہیں

مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بطور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے نام پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ہی اتفاق کیا تھا۔سکندر سلطان راجہ نے ایک موقعے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تعیناتی مسلم لیگ ن کے سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کوئی حکم نہ ماننے کے نتیجے میں عمران خان نے کی تھی۔بقول سکندر سلطان راجہ: انہوں نے شاہد خاقان عباسی کے حکم کے خلاف سٹینڈ لیا اور وہ کام نہیں کیا، شاید عمران خان کو ان کا یہ عمل پسند آیا ہوگا جو انھوں نے بطور چیف الیکشن کمشنر میرا نام تجویز کیا۔سکندر سلطان راجہ  نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ ’مجھے عمران خان بطور کھلاڑی بہت زیادہ پسند ہیں، وہ ہمارے ہیرو ہیں۔ میں نے عمران خان کی تصویر بھی گھر میں لٹکا رکھی ہے۔‘

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر بھیرہ سے تعلق رکھنے والے سکندر سلطان راجہ 18ویں چیف الیکشن کمشنر تھے۔انہوں نے 27 جنوری 2020 کو یہ عہدہ سنبھالا۔ ان کی زندگی کا بیشتر عرصہ سول سروسز میں گزرا اور وہ ایک سابق بیوروکریٹ ہیں۔کیڈٹ کالج حسن ابدال سے تعلیم حاصل کرنے والے سکندر سلطان نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طبی تعلیم اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔مبصرین کے مطابق پنجاب اور وفاق میں مختلف عہدوں پر فائز رہنے والےوفاقی حکومت کے اہم بیورکریٹ سکندر سلطان راجہ کے بارے میں سرکاری ذمہ داریوں کے حوالے سے یہ پختہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ دوران ملازمت کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرتے , انکے ہم عصر رفقاء کا کہنا ہے کہ سکندر سلطان نام کی طرح بارعب شخصیت کے مالک ہیں، انھٰن کبھی بھی زیادہ لوگوں میں گھلتے ملتے نہیں دیکھا ، وہ پنجاب میں اہم عہدوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی جگہ تعینات ہوتے رہے، جس سے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بیوروکریسی کی یہ دونوں اہم شخصیات اہم بااثر اور انتہائی پروفیشنل ہیں۔ ان کے ہم عصر رفقاء کے مطابق سکندر سلطان راجہ نے کئی بار مختلف منصوبوں اور افسران کی تقرریوں میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی رائے بھی دلیل سے تبدیل کروائی، انہیں کبھی سیاسی اثرات کے تحت فیصلے کرتے یا انہیں تبدیل کرتے نہیں دیکھا گیا۔ سکندر سلطان راجہ سیکرٹری سروسز، سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس، سیکرٹری محکمہ صحت، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز پنجاب بھی رہے۔ رفقاء کے مطابق سکندر سلطان راجہ نہ صرف بروقت فیصلہ کرنے میں ماہر ہیں بلکہ ماتحت افسران سے کام لینابھی خوب جانتے تھے۔

تاہم سکندر سلطان بطور چیف الیکشن کمشنر اس وقت متنازع ہوئے جب انہوں نے تقرری کے کچھ عرصے بعد ڈسکہ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 75 میں ضمنی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔پی ٹی آئی نے ان کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور ان کے امیدوار اسجد ملہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کی درخواست دی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ بعد ازاں الیکشن میں تحریک انصاف کو نون لیگ کے ہاتھوں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تھا

بعد ازاں تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس دوسرا ایسا واقعہ تھا، جس کی سکندر سلطان راجہ نے مسلسل سماعتیں سننا شروع کیں۔عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے چند روز بعد انہوں نے کہا تھا کہ ’میرٹ پر فیصلہ ہوگا، کسی جماعت کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، ہم نے نہیں دیکھنا کہ باہر پانچ بندے آئے ہیں یا پانچ لاکھ۔ کمیشن کسی قسم کا دباؤ لینے کو تیار نہیں ہے۔‘یہ وہ وقت تھا جب پی ٹی آئی کے حامی مختلف شہروں بشمول اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر حکومت کے خاتمے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ فارن فنڈنگ کیس کی سماعتیں اور پی ٹی آئی کا احتجاج ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے احتجاجی یوتھیوں کا دباؤ لئے بغیر فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کو مورد الزام ٹھہرا دیا تھا۔پی ٹی آئی سے ٹکراؤ کا تیسرا ایسا وقت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کا تھا۔ جب سکندر سلطان راجہ نے کھل کر حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

سکندر سلطان راجہ اپنی مدت ملازمت میں اس وقت بھی خبروں میں رہے جب الیکشن کمیش اور صدر عارف علوی کے مابین عام انتخابات کی تاریخ پر ٹھن گئی۔ ان کا موقف تھا کہ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن دیتا ہے ناکہ صدر مملکت۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ جلد نہ دینے پر بھی وہ شدید تنقید کا نشانہ بنے تھے۔

آٹھ فروری 2023 کے انتخابات سے قبل ایک پراعتماد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروس کی بندش سے نتائج میں تاخیر نہیں ہوگی، تاہم اس رات معاملہ اس کے برعکس نکلا۔الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان نئے الیکشن مینجمنٹ سسٹم یعنی ای ایم ایس کے ذریعے کرنا تھا لیکن الیکشن حکام کے مطابق موبائل نیٹ ورک کی بندش کی وجہ سے یہ نظام فعال ہی نہیں ہو سکا۔2018 کے عام انتخابات کی رات آر ٹی ایس کی یاد دلاتے ہوئے اس مرتبہ ای ایم ایس نظام بھی بیٹھ گیا۔ نتائج میں نہ صرف غیرمعمولی تاخیر ہوئی بلکہ انتخابات کی رات سکندر سلطان راجہ کی کا الیکشن کمیشن سے اچانک چند گھنٹوں کے لیے غائب ہو جانے کی وجہ بھی آج تک سامنے نہیں آ سکی۔سکندر سلطان راجہ کے چار سالہ دور کی سب سے اہم ذمہ داری عام انتخابات اور ان کے نتائج کا بر وقت اعلان، دونوں میں پی ٹی آئی انہیں ناکام قرار دیتی ہے۔

Back to top button