آڈیٹر جنرل کی جانب سے آڈٹ رپورٹس میں حسابی غلطیوں کے الزامات مسترد

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے حالیہ آڈٹ رپورٹس سے متعلق میڈیا میں لگائے گئے الزامات کو یکسر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان ڈیپارٹمنٹ آف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (ڈی اے جی پی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق، میڈیا میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی آڈٹ رپورٹس میں حسابی غلطیاں موجود ہیں اور ان رپورٹس کے ذریعے 375 کھرب روپے سے زائد کی مبینہ بے قاعدگیوں اور عوامی سرمایہ کاری پر اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تاہم، دفتر آڈیٹر جنرل نے ان تمام دعوؤں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ڈی اے جی پی نے واضح کیا کہ رپورٹس آئینی طریقۂ کار کے مطابق صدر کو پیش کی گئیں، جنہوں نے ان کی منظوری دے کر انہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ مالی سال 24-2023 کی آڈٹ رپورٹس اور تفویضی اکاؤنٹس صدر کے سیکرٹریٹ کے ذریعے 12 اپریل 2025 کو باقاعدہ منتقل ہوئے اور بعد ازاں قومی اسمبلی و سینیٹ کو بھیجے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 13 اگست 2025 کو اجلاس ملتوی ہونے کے باعث ان رپورٹس کو ایوان میں پیش نہ کیا، تاہم یہ رپورٹس سیکرٹریٹ کے پاس بطور ریکارڈ موجود ہیں اور حسب ضابطہ وقت پر ایوان میں پیش کی جائیں گی۔ اسی طرح سینیٹ کو بھیجی جانے والی رپورٹس سینیٹ سیکرٹریٹ کے پاس محفوظ ہیں۔

ڈی اے جی پی نے مزید کہا کہ میڈیا میں چلنے والی وہ خبریں کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آڈٹ رپورٹس واپس بھیج دی ہیں، حقائق کے منافی ہیں۔ دفتر نے زور دیا کہ آڈٹ رپورٹس آئینی اختیارات اور مقررہ معیار کے مطابق تیار کی گئی ہیں، جن میں کسی قسم کی حسابی غلطی شامل نہیں۔

ترجمان کے مطابق میڈیا میں بیان کیے گئے اعداد و شمار محض وفاقی آڈٹ رپورٹ 2024-25 کی ایگزیکٹو سمری سے لیے گئے ہیں، جو مختلف شعبوں کے نتائج تک رسائی اور اسٹیک ہولڈرز کے جائزے میں سہولت کے لیے تیار کی جاتی ہے۔

Back to top button