بلوچستان اور کے پی میں دہشتگردی پروان کیوں چڑھنے لگی؟

پاکستان میں دہشتگردوں کی کارروائیوں اور حملوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ رواں برس کے ابتدائی نو ماہ میں سات سو سے زائد سیکیورٹی اہل کار اور شہری دہشت گردی کی کارروائیوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سینڑ فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیزنامی پاکستانی تھنک ٹینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال کے پہلے نو ماہ میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے کم ازکم 386 ارکان جان سے گئے۔ یہ تعداد اس عرصے میں ہونے والی کُل اموات کا 36 فیصد ہے۔جن میں 137 فوجی اور 208 پولیس اہل کار شامل ہیں۔
ہفتے کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 2022 کے مقابلے میں رواں سال دہشت گردوں کے حملوں سے ہونے والی اموات کی تعداد میں 19 فی صد اضافہ ہوا ہے۔افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے دو صوبوں میں ہونے والی اموات میں سے 92 فی صد رپورٹ کی گئیں۔
سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے ابتدائی نو ماہ میں فوج کے 137 اور پولیس کے 208 اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ ’اموات کی یہ تعداد گذشتہ آٹھ سال میں سب سے زیادہ‘ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اموات کی ’یہ تعداد 2016 کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے اور 2015 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ’پراکسی دہشت گردی‘ کا سامنا ہے جو زیادہ تر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری ہے۔کچھ اسی طرح کے بیانات 29 ستمبر کو بلوچستان کے علاقے مستونگ اور خیبر پختونخوا میں ہنگو کے مقام پر ہونے والے خود حملوں کے بعد نگران وزیر داخلہ، آرمی چیف اور بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات کی جانب سے بھی سامنے آئے ہیں جبکہ ایسے ہی بیانات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے 30 ستمبر کو کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’داعش ہو یا ٹی ٹی پی ہمارے لیے سب ایک ہیں۔ ان سب کو ایک جگہ سے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔‘جبکہ 30 ستمبر کو ہی پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مستونگ حملے کے بعد کوئٹہ کا دورہ کیا تھا اور آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس دہشت گردی کو بیرونی ریاستی سرپرستوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔‘ساتھ ہی آرمی چیف نے یہ بھی کہا تھا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔‘
سینڑ فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اب تک کے ریکارڈ کے مطابق 1087 اموات تشدد کے نتیجے میں ہوئیں۔ 368 قانون شکن عناصر کی موت ہوئی جبکہ شرپسندانہ کارروائیوں سے 333 شہریوں کی جان گئی۔‘
رپورٹ کے مطابق ’گذشتہ پانچ سالوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد میں مسلسل اور خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح زیادہ تشویشناک بات ان دونوں صوبوں میں تشدد سے جڑی اموات کی مجموعی شرح میں گذشتہ پانچ سال میں اضافہ پریشان کن رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
خیال رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش کی خطے میں شاخ داعش خراسان کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسند عسکری گروہ عمومی طور پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں
