عورت مارچ کا نیا موضوع متنازع کیوں بن گیا؟

عورت مارچ کے دوران خواتین کے نعرے، سلوگن اور مطالبات ہمیشہ ہی متنازع حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، رواں برس بھی عورت مارچ کیلئے ایسے جملوں کا انتخاب کیا گیا ہے جوکہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں، جیسا کہ ’’ ہر وہ شخص جس کی بچہ دانی ہے عورت نہیں ہے، اور ہر عورت کی بچہ دانی نہیں ہوتی۔ عورتوں کو بچہ دانی تک محدود کر دینا صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔عورت مارچ کے پیج پر پوسٹ کیے گئے ان الفاظ نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ ایک سوال جو بارہا کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کی تولیدی صحت کے متعلق جاری ہونے والا یہ بیان آخر کن لوگوں کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے؟واضح رہے کہ عورت مارچ کے اب متنازعہ سمجھے جانے والے الفاظ دراصل ایک فیمنسٹ بیٹھک کا حصہ ہیں، اس بیٹھک کا ایک بنیادی حصہ خواتین کی صحت اور خاص طور سے بچہ پیدا کرنے کے فیصلہ سے جڑا ہے لیکن اس موضوع کے شروع ہونے سے پہلے ہی ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ اور اب عورت مارچ پر ’ٹرانس ایجنڈا‘ نافذ کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔ اور ساتھ میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ’جینڈر فلوئیڈٹی‘ کے نام پر خواتین کی جنس کو ختم کیا جا رہا ہے۔بات تب شروع ہوئی جب عورت مارچ نے اپنے سوشل میڈیا صفحہ سے اس بیٹھک کے مقصد کو سمجھانے کے لیے لکھا کہ ’جنس اور صنف میں فرق ہے۔ ماہواری ایک بائیولوجیکل عمل ہے۔ اور بائیولوجی اور صنف میں فرق ہوتا ہے۔ ہم بچہ دانی رکھنے والے افراد کے ساتھ ہیں اور ان پر ہونے والی زبردستی کے خلاف ہیں۔اب اس پورے جملے پر بحث یہ چھِڑی کہ ’بچہ دانی رکھنے والے افراد‘ کہنے کا کیا مقصد ہے؟ایک اور صارف ثمینہ نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ اتنی دل سوز بات ہے کہ وہ لوگ جو معاشرے کے پِسے ہوئے طبقے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کے لیے کچھ کر سکتے ہیں، وہ کسی اور بات پر دھیان دیئے بیٹھے ہیں۔ جس خاص آئیڈیا کی بات عورت مارچ کر رہا ہے اس کو مغربی ممالک میں بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔اسی طرح فیشن ڈیزائنر محسن سعید نے لکھا کہ ’میں نے ایک بار پہلے بھی یہ کہا ہے کہ کئئ ممالک میں جینڈر فلوئیڈٹی کے نام پر خواتین کی جنس کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عورت مارچ نے اس پوری بحث پر ایکس پر ہی ایک اور پوسٹ لکھی اور اس میں بتایا کہ ’بچہ دانی رکھنے والے افراد لکھ کر ہم اس بنیادی پدرشاہی سوچ کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت عورت کو صرف بچہ پیدا کرنے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ایکس صارف ثمیرہ علی نے لکھا کہ ’کیا یہ بحث ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لیے کی جا رہی ہے؟ عورت مارچ کی آرگنائزر عطیہ عباس سے جب اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’(اس موضوع پر) اب تک کی ساری بحث خاصی مضحکہ خیز ہے۔ایکس صارف گوڈ پارٹیکل نے لکھا کہ ’کتنے ٹرانس لوگوں کے قتل ہونے کے بعد یہ بحث پاکستان میں قابلِ قبول ہوگی؟ ایک فیمنسٹ تحریک میں اس بحث کو اب ہونا چاہئے۔عطیہ نے کہا کہ ’دیکھیں اگر ہم اس بات کا انتظار کرتے رہیں گے کہ کوئی بھی بات کرنے کا موزوں وقت کیا ہے تو ہم انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے۔سبین قاضی نے لکھا کہ ’ایک طرف تو عورت مارچ ہمیں کوئی بھی پوسٹ لکھ کر کہتا ہے کہ اس پر بات کریں یا انگیج کریں۔ جب ہم سوال اٹھاتے ہیں تو ہمیں چپ کروا دیا جاتا ہے۔ عورت مارچ کی اس پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے لاہور کی سماجی کارکن سمیعہ الطاف نے کہا کہ ’پاکستان میں اس وقت بنیادی حقوق نہیں ہیں۔ یہاں اس وقت سب سے بڑی بحث عورت کی خود مختاری سے جڑی ہے۔سمیعہ نے کہا کہ ’ایسے الفاظ کا چناؤ کہ ’بچہ دانی رکھنے والے افراد‘ ایسے الفاظ ہیں جو یہاں پر ابھی نہیں سمجھے جائیں گے کیونکہ بائیولوجی کے تحت بچہ دانی عورتوں کی ہوتی ہے۔ایک ایسے معاشرے میں ابہام پیدا کرنا جہاں بنیادی تعلیم بھی بمشکل ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، غلط ہے اور اس پر تنقید ہونی چاہئے۔

Back to top button