اتوار کے پاک بھارت میچ پر 280ارب روپے کا جوا لگ گیا

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجودایشا کپ کے ہونے والے میچز پر جوئے کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے۔ ایشاکپ کے دوران پاکستان اور بھارت جیسے روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والے دوسرے میچ بارے جہاں عوامی جوش و خروش دیدنی ہے وہیں بکیوں نے بھی پاک بھارت میچ بارے جواریوں کو راغب کرنے کیلئے کمر کس لی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتوار کو دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے پاک بھارت میچ میں جواریوں کے درمیاں بڑی شرطیں لگ گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق اتوار کو ہونے والے میچ میں ایک بلین ڈالر سے زائدکا جوا متوقع ہے۔
خیال رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اتوار کو میچ ہونے جارہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین پہلے میچ کے مقابلے میں اس بار دگنا جوا کھیلے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق پاک بھارت میچ میں ایک بلین ڈالر یعنی تقریباً 280 ارب روپے سے زائد کا جوا متوقع ہے۔ جو پچھلے میچ کے مقابلے میں دس گنا زائد ہے۔ اس حوالے سے دبئی میں موجود بھارتی بکیوں کا پاک بھارت ہائی وولٹیج میچ پر جوئے کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس پاک بھارت اہم میچ میں بھارتی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے اور بھارت کی جیت کے امکانات نوے فیصد سے بھی زائد ظاہر کئے جا رہےہیں۔ بھارتی جواریوں کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اپنی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ بھارت اور پاکستان سے غیر قانونی بکیز کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ ان کے سٹے اور ریٹ طے کرنے کے لئے دبئی اور یورپی ممالک میں لیگل پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ جس سے انھیں پاک بھارت میچ کے دوران ریکارڈ آمدن متوقع ہے۔ ان کا مزید بتانا تھا کہ پاک بھارت میچ میں پیسہ لگانے اور جوئے کے معاملات کو کنٹرول کرنے کیلئے انھوں نے بمبئی ، کراچی اور کیپ ٹاؤن جیسے شہروں میں بڑے مراکز قائم کر رکھے ہیں۔
جواریوں کا بتانا تھا کہ پاک بھارت میچ میں 5طرح سے جوا کھیلا جاتا ہے بیٹنگ مارکیٹس میں جوئے کی سب سے عام شکل روایتی بُکس یا سٹریٹ بُکس ہیں جہاں کرکٹ میچ پر مخصوص افراد یا دفتروں کے ذریعے نقدی میں شرطیں لگاتے ہیں؛ یہ نظام عموماً غیرقانونی ہوتا ہے اور اس میں شفافیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ دوسری جانب آن لائن اوورسیز بک میکرز ہیں یعنی بین الاقوامی یا آف شور بیٹنگ سائٹس۔ اس طریقہ کار میں آن لائن جوا لگایا جاتا ہے تاہم اس طریقہ کو استعمال کرنے والے افراد بعض قانونی پیچیدگیوں اور شناخت یا ادائیگی کے مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ کرکٹ جوئے کا تیسرا بڑا طریقہ لائیو یا ان پلے بیٹنگ ہے، جس میں میچ کے دوران رئیل ٹائم شرطیں لگائی جاتی ہیں؛ یہ طریقہ جذباتی رسک بڑھاتا ہے کیونکہ اس میں حالات تیزی سے بدلتے ہیں اور موقع پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ بکیوں کے مطابق اس طریقوں کے علاوہ غیر رسمی سوشل میڈیا یا میسجنگ گروپس کے ذریعے بھی جوا کھیلا جاتا ہے۔ جہاں مختلف افراد آپس میں نجی طور پر شرطیں طے کرتے ہیں تاہم اس طریقہ کار میں فراڈ اور جھوٹے وعدوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کرکٹ میچز کے دوران کنٹرولڈ نیٹ ورکس کے ذریعے بھی جوا کھیلا جاتا ہے اس طریقہ کار میں بڑی رقم لگانے والے گروہ متعدد چھوٹے بیٹنگ حصوں کو یکجا کر کے مارکیٹ پر اثر ڈال سکتے ہیِ تاہم جواریوں کے بقول ان کے نیٹ ورک بہت منظم اور خفیہ طریقے سے کام کرتا ہے۔ جس میں وہ اپنے کلائنٹس کو بیٹ ایکس ون، بیٹ 365 اور پری میچ کے ذریعے بیٹنگ اوڈز فراہم کرتے ہیں۔
پاک بھارت کرکٹ میچ سے منسلک جواریوں نے مزید بتایاکہ اب تک اس میچ کیلئے ابتدائی طور پر بھارتی ٹیم کی جیت کا بھاؤ تقریباً 1روپے 70 پیسے رکھا گیا ہے۔ جبکہ پاکستانی ٹیم کا ریٹ آف ریٹرن تقریباً 2روپے20 سے 2روپے30 پیسےکے درمیان رکھا گیا ہے۔ البتہ ٹاس کے بعد ان ریٹس پر اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ ٹاس کون سی ٹیم جیتے گی۔ لیکن انھیں اس بات کا ضرور علم ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم نے ٹاس جیتا تو وہ اس بار پہلے بالنگ کو تر جیح دے سکتی ہے اور بھارت بھی ایسا ہی کرے گا۔ جواریوں کے مطابق دبئی کی پچ پر پہلی بیٹنگ کرنے والی ٹیم کا زیادہ سے زیادہ سکور 155 سے 160 رنز کے درمیان ہوسکتا ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم نے اتنا ہی ٹارگٹ دیا تو اس ٹارگٹ کا حصول بھارت کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر بھارت کی جانب سے ایسا ہی ٹارگٹ پاکستان کو دیا گیا تو پاکستان کیلئےاس کا تعاقب کرنا آسان نہیں ہوگا۔ جواریوں کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ اتوار کو ہونے والے پاک بھارت میچ میں اس وقت تک بھارتی ٹیم فیورٹ قرار دی جا رہی ہے تاہم پھر بھی پاکستانی ٹیم کوئی بھی سرپرائز دے سکتی ہے اور میچ کے اختتام پر کئی کروڑ پتی کنگلے بھی ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے دوران ہونے والے پہلے پاک بھارت میچ میں پاکستانی جواریوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستانی جواریوں کی تقریبا ایک ارب روپے کی ہاری ہوئی رقم بھارت منتقل ہوئی تھی۔ ادھر بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے الزام عائد کیا ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین میچر فکس ہیں اور جواریوں نے اس حوالے سے تمام معاملات طے کر رکھے ہیں۔ تاہم کرکٹ حکام ایسے تمام بے بنیاد دعوؤں کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔
