امریکی و ایرانی قیادت کو اسلام آباد لانا تاریخی سفارتی کامیابی ہے،شہبازشریف

وزیراعظم شہبازشریف کاکہناہے کہ جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے سے روکنا ہوگا، امریکی و ایرانی قیادت کو اسلام آباد لانا تاریخی سفارتی کامیابی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئےکہنا تھا کہ

وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچنے سے روکنا ہوگا، خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اپنا چوتھا خطاب کیا۔

انہوں نے 240 ملین پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی متحرک قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

کشمیر کے دیرینہ تنازع پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ کشمیری عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ حقِ دفاع کے تحت بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔

پاک فوج نے بھارتی حملے کو پسپا کر کے دشمن کو وہ ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ہے جسے وہ یاد رکھے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت ایک ایسا اقدام تھا جس سے جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچ گئیں۔

عالمی سطح پر پاکستان کی بھرپور سفارتکاری اور امن کوششوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے شہباز شریف نے ایک اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے تنازعات کے خاتمے کے لیے تاریخی اور بے مثال اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔

وزیراعظم نے اس غیر معمولی سفارتی کامیابی اور کوششوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی فورم پر پاکستان کی زیرِ صدارت تنازعات کے پرامن حل کی قرارداد کا متفقہ طور پر منظور ہونا ایک زبردست سفارتی فتح ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسلامی ممالک کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

علاقائی دفاع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دنیا پر واضح کیا کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ مضبوط اتحاد محض خطے کے دفاع، استحکام اور قیامِ امن کے مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان بانیِ پاکستان قائد اعظم کے فرمان اور وژن کے عین مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی امن اور خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار اور مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے پانی میں رکاوٹ یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی فوری بند ہونی چاہیے اور عالمی برادری کو تنازعات کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پانی کو کسی صورت ہتھیار نہیں بنانا چاہیے کیونکہ دریا قوموں کو سیراب کرنے کے لیے ہوتے ہیں، انہیں تقسیم کرنے کے لیے نہیں۔

 

کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ پاکستان کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت ملنے تک اپنی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی ’فتنہ الخوارج‘ اور بی ایل اے ’فتنہ ہندوستان‘ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

افغانستان سے ہونے والے تمام حملے اور دراندازیاں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کریں اور افغان عوام بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کا ہر حال میں احترام کریں۔

دہشتگردی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 100000 جانوں کی عظیم قربانیاں دی ہیں اور اس عالمی جنگ میں ملک کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا بھاری معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

 

Back to top button