احتجاج سے کچھ نہیں ہوگا،پی ٹی آئی مذاکرات کی میزپرآئے،طلال چوہدری

وزیرمملکت برائےداخلہ طلال چوہدری کاکہناہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر واپس آئے، کسی دھرنے یا مارچ سے کچھ نہیں ہوگا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پہلے بھی کئی مارچ کیے، استعفے دیے اور اسمبلیاں توڑیں، ہر بار غیر سیاسی اقدام کے بعد وہ مائنس اور غیر متعلقہ ہوئی، اگر پی ٹی آئی نے بات چیت کا راستہ اپنایا ہے تو یہ اچھی بات ہے، تاہم کسی دھرنے یا مارچ سے کچھ نہیں ہوگا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کا یہ پہلا مارچ نہیں، وہ اس سے پہلے بھی کئی مارچ کرکے دیکھ چکی ہے، استعفے دیے اور اسمبلیاں توڑیں، ایسا بہت کچھ کرکے دیکھ لیا جو اس سے پہلے پاکستان میں کبھی نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے بات چیت کا راستہ اپنایا ہے تو بڑی اچھی بات ہے، بات چیت ہونی چاہیے، تاہم بیرسٹر گوہر سے پوچھا جائے کہ کون سا آئینی حق انہیں نہیں مل رہا۔ وہ بتائیں کہ کون سی چیز نہیں مل رہی جس کی وجہ سے مارچ کیا جارہا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی ہی بتادیں کہ وہ کیوں آرہے ہیں، کیا وہ پیٹرول سستا کروانے آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی پیٹرول سستا کروانے کے لیے آئی تھی اور اس حوالے سے بامقصد بات چیت ہوئی، جماعت اسلامی کا اصل مقصد پیٹرول سستا کروانا تھا اور اس میں سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر چوتھے یا 6ویں ماہ یہ ڈراما اس لیے کرتی ہے کہ اس کی کارکردگی پر کوئی سوال نہ اٹھائے اور کوئی یہ نہ پوچھے کہ صوبے میں دہشتگردی کیوں ہے اور وہ فورسز کے ساتھ کھڑے ہوکر کیوں نہیں لڑرہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ڈی ایس پی کا بیٹا شہید ہوا، لیکن کوئی ایک شخص فورسز کے شہدا کے جنازوں میں نہیں جاسکتا، یہ کتنا بڑا حادثہ تھا، پورا پاکستان ہل کر رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ وہ جان بوجھ کر فورسز کے جنازوں میں نہیں جائیں گے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ سویلین ہیں، حالانکہ لڑنے والے کی وردی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، یہ پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ صوبے سے دہشتگردی کیوں ختم نہیں ہورہی؟
طلال چوہدری نے سوال کیا کہ کیا پولیس آرڈر ابھی لانا ضروری تھا یا شہدا کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری تھا۔ ان کا خیال ہے کہ بانی پی ٹی آئی اس طرح چھوٹ جائیں گے۔
پی ٹی آئی سے حکومت کی بات چیت کے سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف میں سنجیدہ لوگ بھی ہیں، بات چیت کیوں نہیں ہونی چاہیے۔ بات چیت کے لیے وزیراعظم کی بنائی ہوئی کمیٹی ویسے ہی قائم ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی بات چیت وزیر داخلہ سے ہورہی ہے تو وہ بھی کابینہ کا حصہ ہیں۔
