پاکستان میں کاسمیٹک سرجریز کیوں بڑھنے لگیں؟

پرکشش، خوبصورت نظر آنے کی دوڑ میں پاکستان میں کاسمیٹک سرجریز کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، صاحب حیثیت لوگ دھڑا دھڑ کاسمیٹک سرجریز کرا رہے ہیں، متوسط طبقے والے ناتجربہ کار ڈاکٹروں اور سستے بیوٹی پارلرز کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں جبکہ غریب ان سرجریز کے ذریعے خوبصورت ہونے کے خواب سجا رہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب کو خوبصورت کیوں لگنا ہے؟ ہمارے اردگرد ایسے کیا عوامل ہیں جو جازب نظر دکھنے کے لیے لوگوں کو ڈاکٹروں کی چھریوں تلے دھکیل رہے ہیں اور لوگ اپنی زندگی اور صحت کی پرواہ کیے بغیر اس دوڑ میں شامل ہیں یا شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی سوالات جب ڈاکٹر فرزانہ باری سے پوچھے گئے، جو کہ ایک سوشیالوجسٹ ہیں اور معاشرے میں بدلتے رویوں پر گہری نظر رکھتی ہیں، تو انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ خوبصورت نظر آنے کی چاہ سب میں ہوتی ہے مگر خوبصورت بننے کے لیے کاسمیٹک سرجریز کرانے میں خواتین کی شرح مردوں کی نسبت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ ظاہری مصنوعی خوبصورتی کا عمل بڑھتا جا رہا ہے جوکہ ایک تشویش ناک بات ہے، معاشرے کی سوچ میں تبدیلی لائے بغیر اس وبا سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی، انسانی رویوں کو بدلنے میں میڈیا کا کردار ہمیشہ سر فہرست رہا ہے کیونکہ میڈیا مختلف تکنیکس کے زریعے صارفین کی کسی بھی چیز سے متعلق سوچ کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔اسلام آباد ہیلتھ ریگولیرٹی اتھارٹی کے سی ای او، ڈاکٹر قائد سعید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ رواج پاکستان میں بہت عام ہو چکا ہے اس لیے حکومت نے اس کو منظم کرنے کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو حرکت میں لایا ہے اور اس کے لیے رولز اینڈ ریگولیشن بنائے جا رہے ہیں۔ موجودہ آئی ایچ آر آر قانون 2018 ء کے مطابق ایک ڈاکٹر اس طرح کی سرجریز کر سکتا ہے مگر اس کو مخصوص مہارت کے کورسس کرنے ہوں گے جس کے لیے پی ایم ڈی سی کچھ ادارے بنا رہا ہے۔اسلام آباد میں ایک ڈرماٹالوجسٹ جو ایف سکس میں اپنا کلینک چلاتی ہیں، نے نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پہ بتایا کے اب ان کے پاس کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کے بہت سے مریض آتے ہیں اور انہں حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو اپنے اچھے خاصے خوبصورت خدوخال کو تبدیل کر کہ اسے کسی نہ کسی اور جیسا بنوانا چاہتے ہیں۔ وہ اکثر کسی شوبز ستارے کی تصویر اپنے ساتھ لاتے ہیں اور اس جیسا دکھائی دینا چاہتے ہیں۔شوبز کے ستارے ہمارے معاشرے کے رول ماڈلز ہوتے ہیں اور لوگ ان جیسا بننا یا دکھنا چاہتے ہیں اس لیے ان جیسے کپڑے، زیورات یا بال بناتے ہیں، ہمارے معاشرے کی طرح یہ پردہ سکرین پر جلوے بکھیرتے ستارے بھی آج کل انہی کاسمیٹک سرجریز کی دوڑ میں مصروف عمل ہیں اور کئی اپنی جانوں اور قدرتی حسن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔چین کی مشہور اداکارہ و گلوکارہ گاؤ لیو کوبھی ناک کی پلاسٹک سرجری مہنگی پڑی۔ چینی اداکارہ نے شوبز سے ایک طویل عرصے پر غیر حاضری کے بعد سوشل میڈیا صارفین کو وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خوبصورت دکھنے کے لیے ناک کی سرجری کروائی تھی، جو عمل تقریباً چار گھنٹے تک کا تھا، اس کے بعد ان کی ناک بہت بگڑ گئی۔اسی طرح بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی ناک کی سرجری کرائی تھی لیکن ڈاکٹر کی غلطی کی وجہ سے ان کی ناک کی ہڈی خراب ہوگئی اس کے بعد وہ جب بھی آئینہ دیکھتی تھیں تو انہیں اپنا چہرہ کسی اجنبی کا چہرہ لگتا تھا، بھارتی شوبز کی ابھرتی اداکارہ چیتنا راج پلاسٹک سرجری کے دوران ہلاک ہوگئی تھیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 سالہ اداکارہ کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر شیٹی کے کاسمیٹک سینٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے چیتنا

شہباز شریف کے 16 ماہ

راج کی موت ہوئی۔

Back to top button