صوبے ضرور بنائیے

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا

افراتفری نہیں کہتے‘ غلط معنی اس لفظ کے لیے جائیں گے۔ لیکن منجمد پانیوں میں کچھ تو حرکت آئے۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے جب سے یہ بندوبست قائم ہوا کہ ہر چیز ساکت پڑی ہوئی ہے۔ حالات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں‘ بس اقتدار سمٹتا چلا جا رہا تھا۔ حکمرانی کے پرزے مضبوط ہو رہے تھے۔ بولنے والی آواز دوسری طرف کوئی تھی نہیں اور جو آوازیں اُٹھتیں زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکتیں۔ اس لیے شکر ہے کہ کسی موضوع کے حوالے سے‘ کسی بات پر‘ کوئی حرکت کا امکان تو پیدا ہو رہا ہے۔ چیئرمین ماؤ کا وہ کیا لافانی قول تھا کہ آسمانوں کے نیچے بہت افراتفری (disorder) ہے اور حالات بہترین ہیں۔ یعنی اُن کی نظر میں حالات کی بہتری کے لیے ہلچل کا ہونا ضروری ہے اور اپنی تاریخ کی اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے کہ بڑی مضبوط چٹانوں میں بھی تبدیلی تب آئی جب کسی حرکت کا سامان پیدا ہوا۔
البتہ سندھ کے بہن بھائی سیخ پا ہیں کہ اُن کے قدیم دیس کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے۔ ہمارے یہ عزیز ناز کرتے تھے اس بات پر کہ پاکستان کے حق میں سندھ اسمبلی پہلی اسمبلی تھی جس نے قرارداد منظور کی۔ اس بات پر بھی فخر تھا کہ ہندوستان سے آنے والوں کے لیے ہم نے اپنے دل اور دروازے کھول دیے۔ یو پی کی آدھی آبادی ہو گی جوکہ اُٹھ کر کراچی اور حیدر آباد میں آباد ہو گئی۔ داد دینی پڑتی ہے اُن لوگوں کو کہ اتنا کچھ ملنے کے بعد بھی اُن کے دلوں میں قرار نہ آیا۔ بے چین ہی رہے اور آج تک اُن کی بے چینی گاہے گاہے نظر آتی ہے۔ نئے صوبوں کی تحریک میں ہراول دستہ انہی پر مشتمل ہے کہ وہ دیرینہ خواب پورا ہو کہ کراچی کا الگ تشخص قائم ہو اور اُس کی نگہبانی اُن کے ہاتھ میں ہو۔ سندھ کے باسیوں کو اُس پرانی سخاوت کا خمیازہ بھگتنے کے لیے اب دعوت دی جا رہی ہے۔
ایک بات عرض کرتے چلیں کہ درپردہ اٹھارہویں ترمیم کی تفصیلات طے ہو رہی تھیں تو ہم بھی اُس اسمبلی کے ممبر تھے۔ اسمبلی میں کسی کو سمجھ نہیں تھی کہ پردے کے پیچھے ہو کیا رہا ہے۔ ایک میاں رضا ربانی باخبر تھے اور دوسرے ہمارے ایم کیو ایم کے دوست احباب۔ یہ جو آج رونا رویا جا رہا ہے کہ اختیارات اور وسائل کا جھکاؤ صوبوں کی طرف زیادہ کر دیا گیا یہ اُن درپردہ اقدامات کا شاخسانہ ہے۔ زاہد حامد اندھیروں میں جاری رہنے والے مذاکراتی عمل میں (ن) لیگ کی نمائندگی کر رہے تھے لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ (ن) لیگی قیادت کو پوری طرح سمجھ تھی کہ اٹھارہویں ترمیم کے نام پر پیچھے کیا تیار کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف کا مطمح نظر تو محض یہ تھا کہ سترہویں ترمیم کے صدارتی اختیارات ختم کیے جائیں۔ وسیع پیمانے پر صوبائی خودمختاری کا جو نقشہ تیار ہوا وہ کارنامہ اُن کا تھا جن کا ذکر آ چکا ہے۔ ایم کیو ایم والے دور کی سوچ رہے تھے کہ مستقبل میں کراچی کا کچھ ہوا تو اُس صورت میں تقسیمِ وسائل کیسے ہونی چاہیے ۔ باقی پوری کی پوری اسمبلی اندھیرے میں رہی۔ بہرحال صوبوں کا راگ الاپنے کا اصل مقصد کیا ہے اُس کے بارے میں اندازے لگائے جا سکتے ہیں حتمی بات کہنا مشکل ہے ۔ لیکن وجہ جو بھی ہو ہم قائل ہیں چیئرمین ماؤ کے فلسفے کے کہ کچھ تو ہو کہ بادِ صبا چلے۔ اور اگر دریائے سندھ کے نام سے جو دھرتی قائم ہے اُس کے باسیوں کے جذبات اس مسئلے پر ایسے ہی ہیں جیسا کہ بتایا جا رہا ہے‘ ہم بھی اُن جذبات کو دیکھیں۔ سندھ اسمبلی کے تیور دیکھیں‘ صدر زرداری کے کردار کو جانیں۔ اور کچھ ایم کیو ایم کا بھی دیکھیں کہ وہ کس حد تک جاتے ہیں جنابِ شیخ کی تقلید میں کہ یوں بھی ہے اور یوں بھی۔
یہ سب مناظر کھل رہے ہیں اس موضوع کے چھڑنے سے۔ نہ چھڑتا تو ایسے ممکنات کہاں پیدا ہونے تھے۔ بڑے ادوار گزرے ہیں کہ سالہا سال بے قراری کے مارے دیس میں کچھ نہ ہوتا تھا۔ ایوب خان دور کے کئی ایسے سال ہیں کہ بی ڈی نظام تھا اور نواب کالا باغ کی مونچھیں۔ باقی ہر چیز جیسے کوزے میں بند اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ تو بھلا ہو ذوالفقار علی بھٹو کا کہ بغیر کسی گہری سوچ کے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل کو جنگ کے ارادے پر مائل کیا۔ صدارتی انتخاب جس میں مادرِ ملت ایوب خان کے مدِمقابل تھیں‘ نے کچھ نفسیاتی نقصان تو سرکار کو پہنچا دیا تھا لیکن 65ء کی جنگ کا میدان سجا تو یوں سمجھئے ایوب خان کے اقتدار کا سورج ڈوبنے لگا۔ پھر وہ سنبھل نہ سکے۔ کمال مہارت سے بھٹو صاحب نے تاشقند معاہدے کا عوامی بتنگڑ بنایا اور جب ایوب خان پر فالج کا حملہ ہوا تو جنرل یحییٰ خان صدارتی رہائش گاہ کا محاصرہ کرکے خود حکم صادر فرمانے لگے۔
یحییٰ خان کا رنگیلا پن تاریخی نوعیت کا تھا۔ کیا آنیاں جانیاں صدارتی محل میں رہتی تھیں۔ صدارتی مزاج ایسا کہ میڈم نور جہاں بھی اس پر فریفتہ ہوئیں۔ رنگینی کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ یحییٰ خان کی پیدائش 1917ء میں چکوال میں ہوئی تھی جہاں اُن کے والد گرامی انسپکٹر پولیس تعینات تھے۔ بہرحال ہمت و حوصلہ کا اندازہ لگائیے کہ 1971ء کے ہتھیار ڈالنے کے سانحے کے بعد بھی اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ تو بریگیڈیئر ایف بی علی کی کمان میں چند افسران تھے جنہوں نے سیالکوٹ نارووال سے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو جی ایچ کیو میں پیغام بھیجا کہ یحییٰ خان اور ساتھی اقتدار نہ چھوڑیں گے تو کام خراب ہو جائے گا۔ تب جا کر کہیں یحییٰ خان اور جنرل حمید کو احساس ہوا کہ اقتدار سے چمٹے رہنا ممکن نہیں رہا۔
بھٹو کا اقتدار کسی طالع آزما سے کم نہ تھا۔ جبر کے استعمال میں بہتوں سے آگے نکل گئے تھے۔ اُن سے کیا غلطی ہوئی؟ وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کر دیا اور پھر الیکشن کے میدان کو ہموار کرنے کے لیے ایسے کم ظرف ہتھکنڈوں پر آ گئے جن سے خواہ مخواہ اُن کے خلاف تحریک کھڑی ہو گئی۔ جب آگ ایک دفعہ بھڑک اُٹھے تو اُسے ہوا دینے کے لیے بہت دستیاب ہو جاتے ہیں۔ پھر مذاکرات کے عمل کو پاکستان کے ذہین ترین سیاست دان نے اتنا طول دیا کہ مداخلت کرنے والوں کے ذہن پختہ ہو گئے اور اسلام کا نعرہ لیے جنرل ضیا الحق قوم کی قسمت پر سوار ہو گئے۔
8 مارچ 2007ء کو عالمی دن برائے خواتین کے سلسلے میں ایوانِ صدر میںتقریب ہوئی۔ جنرل پرویز مشرف خوش و خرم نظر آ رہے تھے‘ ایک طرف اُن کی بیگم تشریف رکھتی تھیں دوسری طرف ہردلعزیز سمیرا ملک جن کی ایک وزیر کی حیثیت تھی۔ اُس شام کے ماحول سے لگتا تھا کہ اُن کے اقتدار پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی۔ دوسرے روز ہی یعنی 9 مارچ کو چیف جسٹس افتخار چودھری والا واقعہ ہو گیا۔ اور بقول شخصے اُس میٹنگ کے اختتام پر وہاں موجود ایک ایجنسی کے سربراہ نے چیف جسٹس سے مصافحہ تو کیا لیکن ایک خاص انداز میں۔ جس سے کہتے ہیں چیف جسٹس کے حوصلے بلند ہوئے۔ اور ایک دو روز میں ہی کہیں انجانے سے وکلا تحریک اُٹھی‘ وکلا ٹی وی چینلوں پر آنے لگے اور حالات اُس مردِ آہن کے کنٹرول میں نہ رہے۔
لہٰذا نیک کام میں دیر نہ کریں۔ ویسے بھی جو پرچار کر رہے ہیں ان کے ہم معتقد اور مداح ہیں۔ کرکٹ سے لے کر پتا نہیں کہاں تک ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ اس لیے یہی کہیں گے قدم بڑھاؤ حضور‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

Back to top button