کیا جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں عمران کیخلاف ایکشن ہو سکتا ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے اضافی نوٹ کو وزیرا عظم اوران کی قانونی ٹیم کے خلاف ایک خطرناک چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان اور انکے وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے مسز سرینا عیسی کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والے وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم اور اثاثہ ریکوری یونٹ کے چیئرمین شہزاد اکبر جیسے افراد کو اہم عہدوں پر برقرار رکھنا گڈ گورننس کے سب سے بنیادی اصولوں کی نفی کرتا ہے اور اس معاملے میں وزیر اعظم کی ملی بھگت کو ظاہر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سفارش پر صدر عارف علوی نے 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ان کی اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں کو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کو بنیاد بنا کر سپریم جوڈیشنل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ فائز عیسیٰ نے سپریم جوڈیشنل کونسل کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس نے جون 2020 میں ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی اہلیہ کے اثاثوں کی چھان بین کا معاملہ ایف بی آر کو بھیج دیا تھا۔
سرینا عیسیٰ اور دیگر نے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستیں دائر کیں۔ نظر ثانی فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس سارے معاملے کو ختم کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سرینا عیسی کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔
اپریل 2021 کے مختصر فیصلے کے بعد اب 29 جنوری 2022 کو جسٹس عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ تفصیلی فیصلے کے ساتھ اپنے علیحدہ نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ وزیر قانون کی رضامندی سے ایسٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین کی غیر قانونی ہدایات پر جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ مسز سرینہ عیسیٰ کے کیس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 کی صریح خلاف ورزی کی گئی اور اس طرح انہوں نے سرینہ عیسیٰ کے ٹیکس گوشواروں کی قانونی رازداری کی خلاف ورزی کی۔
واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ کے اس 10 رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں 19 جون 2020 کے اکثریتی حکم کو کالعدم قرار دیا جس کے مطابق ٹیکس حکام کی طرف سے جسٹس عیسیٰ کی بیوی اور بچوں کے نام پر 3 غیر ملکی جائیدادوں کی تصدیق اور انکوائری ہونا تھی۔
خیال رہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 216 رازداری کو یقینی بناتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اگر محکمہ انکم ٹیکس کے افسران کے علاوہ دیگر افسران ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو یہ ایک مجرمانہ جرم سمجھا جائے گا۔
حال ہی میں حکومت نے مبینہ طور پر اعلیٰ منتخب عہدیداروں کو جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کی ذاتی ٹیکس کی معلومات افشا کرنے پر کسی بھی مجرمانہ کارروائی سے بچانے کے لیے متنازع ضمنی مالیاتی بل 2021 کے ذریعے آئی ٹی او میں ترمیم کی ہے۔ یہ ترمیم سرکاری ملازمین اور اہلکاروں کو مستقبل میں کسی بھی اعلیٰ سطح کے سرکاری اہلکاروں، سرکاری ملازمین، ان کی شریک حیات اور بچوں یا بے نامی داروں کے خلاف فیصلے لینے کا اختیار دیتی ہے۔
اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ سپریم کورٹ کوئی ایسی ہدایات نہیں دے سکتی جو سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی خاص طریقے سے آگے بڑھنے یا اسے کسی بھی طریقے سے آگے بڑھنے سے باز رکھنے کے لیے ہو کیونکہ کونسل کی نظر میں یہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہوگا اور آئین کے آرٹیکل 211 کے واضح مینڈیٹ کی خلاف ورزی کرے گا، جو سپریم جوڈیشل کونسل کی کسی بھی کارروائی کو عدالتوں کے سامنے زیر بحث لانے سے منع کرتا ہے جب تک کہ عدالتی کارروائی جج کے دائرہ اختیار سے باہر، بدنیتی پر مبنی بغیر کسی دائرہ کار کے قرار پائے۔
مشرف کیخلاف انکوائری نہ ہونے پر چیئرمین نیب کو نوٹس
جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو ٹیکس حکام کی رپورٹ پر غور کرنے کی ہدایات کونسل کی کارروائی میں عدالتی مداخلت کے مترادف ہے اور اس طرح آئین کے آرٹیکل 211 میں عدالتی مداخلت کے دیے گئے تصور کے تحت کونسل کی کارروائی کی خود مختاری اور بالادستی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انکمنٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 216 ٹیکس فائلر کی معلومات کی رازداری کا حکم دیتا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی پر مجرم کو سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
معزز جج نے مزید کہا کہ اس طرح کے نتائج موجودہ کیس میں غیر قانونی ہدایات دینے والے لوگوں کے خلاف سامنے آسکتے ہیں جس میں وزیر قانون کی رضامندی سے مرزا شہزاد اکبر، آئی ٹی او کے سیکشن 216 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی ہدایات پر عمل درآمد کرنے والے ٹیکس حکام اور وزیر اعظم بھی شامل ہیں جنہوں نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے ان مجرمان کے غلط کاموں کی واضح اور متفقہ نشاندہی کے باوجود انہیں با اختیار عہدوں پر برقرار رکھا۔
واضح رہے کہ اس تحریری فیصلے سے پہلے ہی مشیر احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر مستعفی ہو چکے ہیں تاہم قانونی حلقوں میں وزیر قانون اور وزیراعظم کے خلاف مستقبل قریب میں کسی نئی قانونی مہم جوئی پر بحث شروع ہو چکی ہے اور آئینی ماہرین کا کہنا یے کہ اس فیصلے کی بنیاد پر وزیراعظم، وزیر قانون اور شہزاد اکبر کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں براہ راست کارروائی کا حکم نہیں دیا لیکن یہ واضح بتا دیا ہے کہ غیر قانونی احکامات دے کر ایک جج کو نشانہ بنایا گیا۔ جب سپریم کورٹ کے ایک جج کو نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ توہین عدالت ہوئی۔ اب کوئی بھی ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دے تو عدالت توہین عدالت کے تحت فیصلہ دے سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے بحیثیت وزیر اعظم صرف عدالت کے ایک حکم پر عمل در آمد نہیں کیا تھا تو انھیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر نکال دیا گیا تھا۔ یہ بھی ایک جج کی توہین کا معاملہ ہے اور توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی تو وزیراعظم اور وزیر قانون کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔
