جنگ بندی معاہدہ: ایک اور نااُمیدی

تحریر: حفیظ اللہ نیازی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

دنیا گھمبیر بحران کی گرفت میں، ایک پل میں تاثر کہ تنازع اپنے اختتام کے قریب ہے اور دوسرے پل میں ہولناک تصادم کے خطرات ۔ امریکی صدر کی ذہنی کیفیت بارے دنیا کے چوٹی کے ماہرینِ نفسیات کی متفقہ رائے کہ یکطرفہ مزاج رکھنے والا انتہا درجے کا نارسسٹ شخص ہے ۔ آج کا بحران صدر ٹرمپ کی خودپسندی کا نتیجہ ہے ۔ یکطرفہ سوچ ، غیرسنجیدہ طرزِ حکمرانی نے دنیا میں کہرام مچا دیاہے ۔ ساری دنیا متفق کہ صدر ٹرمپ 28 فروری کو پوری دنیا کو ایک دلدل میںدھکیل چکا ہے۔ ایک دن ذہنی ہیجان و خلفشار کی کیفیت کہ جناب X پوسٹ پر ایران کی شرائط مان لیتے ہیں اور اگلے ہی لمحے اشتعال انگیز بیان دے دیتے ہیں ۔ باوجودیہ کہ آخری خبریں آنے تک مذاکرات کیلئے پُرامید ، تازہ بہ تازہ بیان ملاحظہ فرمائیے ’’ہم جنگ جیت چکے ہیں ۔ ایران تباہ ہو چکا ہے ، ایران ڈیل کیلئے گڑگڑا رہا ہے ، ہم کامیاب ہو گئے ہیں ‘‘ اسی سانس میں ’’ ہم ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں ۔ نئے ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ہمارے تعلقات کافی بہتر ہیں‘‘ ۔

سنجیدہ حلقے بھی پُرامید کہ امریکہ اور ایران اس مختصر یادداشت یا میمو کے ذریعے کسی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں ؟ کچھ کہنا مشکل کہ ہر روز اس معاملے پر ہمہ وقت نئی اور متضاد باتیں سننے کو مل رہی ہیں ۔ کل ہی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی بریفنگ کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور ایران کیخلاف آپریشن مکمل ہو چکا ہے ۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی دھمکی آگئی کہ اگر ایران نے شرائط سے اتفاق نہ کیا تو بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہوجائیگی ۔ حساس معاملے میں اس قدر غیرسنجیدہ اور متضاد بیانات سے پوری دنیا نروس ہے ۔

اگرچہ ڈیل یا منصوبہ ایک صفحے کے میمو پر مشتمل ضرور ہے ، مگر بے شمار پیچیدہ اور حساس مسائل سے لدا پھندا ہے ۔ امریکہ نے ایران کو ایک نیا جوہری فریم ورک پیش کر دیا ہے ۔ اگر تہران اسے قبول کر لیتا ہے تو اگلے 30 دن تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا ۔

امریکہ کی بنیادی شرائط اور سرخ لکیریں یہ ہیںکہ : ایران یقین دلائے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، افزودگی اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کرے ، زیرِ زمین ہر قسم کی جوہری سرگرمی پر مکمل پابندی ہوگی، کسی بھی وقت معائنوں کی اجازت ہوگی،یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی عائد ہوگی،افزودہ یورینیم کے تمام ذخائر ایران سے باہر منتقل کیے جائیں گے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، اور اس کے ساتھ ہی امریکہ اپنی ناکہ بندی میں نرمی کرے گا، پابندیوں میں نرمی کارکردگی اور عملدرآمد سے مشروط ہوگی، فوری طور پر نہیں دی جائیگی ۔

اب اگر یہ سچ ہے تو ایران کی طرف سے میرا جواب موصول کریں اور ایران کی ناں ہی سمجھیں ۔

2015 میں صدر اوباما دور میں جو معاہدہ اور مذاکرات( JCPOA ) ہوئے، وہ معاہدہ کرنے میں دو سال لگے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ تفصیلی معاہدے کی لمبائی 160 صفحات تھی ، تاکہ ایران کسی طور قانونی خلا یا شق سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ لہٰذا یہ توقع کرنا کہ یہ مسئلہ پلک جھپکتے حل ہو جائیگا، ناممکن ہے۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ ایک دن میں یک صفحاتی ڈیل جو عملاً ایک ابتدائی خاکہ یا مذاکراتی ایجنڈا ہوسکتا ہے ۔ جسکا مقصد صرف اتنا ہے کہ ایک محدود وقت کیلئے راستہ کھولا جائے اور مزید بات چیت جاری رکھی جائے۔ صدر ٹرمپ کیلئے اس معاہدے پر ایرانی دستخط اسلئے بھی ضروری ہیں کہ وہ 14 مئی کو چین کے اہم دورے سے پہلے کسی مثبت پیش رفت کا تاثر دینا چاہتے ہیں ۔ وہ چین کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کے مسئلے کو قابو کر لیا ہے ۔ ایک دنیا کا حصہ( چین سب سے زیادہ تیل اور گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے خریدتا ہے ) سب سے زیادہ متاثر ہو چکا ہے ۔

اس وقت صدر ٹرمپ امریکی کانگریس، اپنی سیاسی جماعت ریپبلکن ، اور عوامی دباؤ میں بھی ہیں ۔ عوام مہنگی پٹرول قیمتوں سے متاثر ہیں۔ ٹرمپ شدت سے ایک مختصر، ایک صفحے پر مشتمل ابتدائی فریم ورک پر دستخط چاہتے ہیں یہ دستخط ہر صورت میں چین کے دورے سے پہلے چاہتے ہیں۔ اسلئے قوی امکان ہے کہ اگر دستخط ہونا طے پا گیا تو چند دنوں میں یعنی سوموار تک معاملات طے پا جائیں گے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتمادمکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ایران امریکہ کی ہر آفر کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے کہ ایک سوراخ سے درجنوں بار دفعہ ڈسا جا چکا ہے ۔اسی عدم اعتماد کی وجہ سے جب امریکہ کوئی نرمی دکھاتا ہے، تو ایران اسکو دھوکہ سمجھتا ہے ۔ دوسری طرف ایران کچھ نرمی دکھاتا ہے تو امریکہ مطالبات مزید سخت کر دیتا ہے۔ شنید ہے کہ ایران کسی صورت آبنائے ہرمز پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں جبکہ یورنیم افزودگی پر بھی فوری گفتگو کی بجائے آنیوالے دنوں میں تفصیلی نشستوں میں اسےزیربحث لانا چاہتا ہے ۔

امریکہ پر یہ دباؤ بھی ہے کہ نیا معاہدہ 2015 ( JCPOA ) کے معاہدے سے زیادہ مضبوط اور زیادہ سخت ہونا چاہیے ۔ کیونکہ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو یہ کہہ کر 2017 میں منسوخ کر چکا ہے کہ صدر اوباماکا 2016 کا معاہدہ ایران کے حق میں یکطرفہ تھا ۔ اسی دوران ایران بھی یہ جان چکا ہے کہ امریکہ دوبارہ مکمل جنگ میں نہیں جا سکتا ، کیونکہ پہلے35 دنوں میں امریکہ کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔یہی احساس مذاکراتی توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کیلئے ایک انتہائی اہم راستہ ہے ۔ ایران کسی صورت دوبارہ اسکو امریکی اثر میں جانے نہیں دئیگا ۔ اگر آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول بڑھتا ہے تو چین کی معیشت پر ہمیشہ سنگین خطرہ منڈلائے گا ۔ دوسری طرف خلیجی ممالک بھی شدید تذبذب اور تشویش کا شکار ہیں۔ مشرق وسطیٰ کا اسٹرٹیجک توازن بدل بلکہ بگڑ چکا ہے ۔ کچھ خلیجی ممالک امریکہ کے مزید قریب آ گئے ہیں اور کچھ خلیجی ممالک ایران کیساتھ جڑ چکے ہیں ۔ جس نے خلیجی تعاون کونسل کو بھی متزلزل کر رکھا ہے ۔

حقیقت واضح کہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، معاشی، علاقائی اور نظریاتی ہے ۔ دنیا کے بڑے بڑے جغادری تجزیہ نگار ، دم بخود اور کسی اُمید کو پلے باندھنے کو تیار نہیں ہیں کہ ایک ایسا بحران ہے جس کا کوئی فوری یا سادہ حل موجود نہیں ۔ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور غیر یقینی عمل ہے ۔ صدر ٹرمپ امریکہ سمیت ساری دنیا کیلئے خطرہ بن چکے ہیں ۔28 فروری کا منحوس دن ، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ایران پر حملہ آج عالمی سیاسی ، اقتصادی ، علاقائی نظام کو دلدل میں دھکیل چکا ہے ، جس سے نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔

 

Back to top button