چلاس کو گرم مزاج شہر کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

شمالی پاکستان اور برفیلی وادیوں کا دروازہ کہلایا جانے والا شہر چلاس، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع ہے جس کو زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے پاکستان کا گرم مزاج شہر بھی قرار دیا جاتا ہے۔
مانسہرہ، بالا کوٹ اور ناران کے راستے بابو سر ٹاپ سے اتریں تو زیرو پوائنٹ چوک سے ہی شاہراہ قراقرم مسافروں کو دریائے سندھ کے ساتھ گلگت اور سکردو لے جاتی ہے، اس طرح بائیں جانب صرف تین کلومیٹر کی دوری پر آباد یہ شہر نظرانداز ہو جاتا ہے۔
مانسہرہ، بالا کوٹ اور ناران کے راستے بابو سر ٹاپ سے اتریں تو زیرو پوائنٹ چوک سے ہی شاہراہ قراقرم مسافروں کو دریائے سندھ کے ساتھ گلگت اور سکردو لے جاتی ہے، اس طرح بائیں جانب صرف تین کلومیٹر کی دوری پر آباد یہ شہر نظرانداز ہو جاتا ہے۔
اگر بشام، شانگلہ اور کوہستان سے ہو کر چلاس پہنچیں تو ضلع دیامر کا یہ ضلعی ہیڈ کوارٹر خوبصورت شہر لگتا ہے، داسو، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کومیلا، داسو-سازین، شتیال اور ہربن کے پہاڑوں کی تلخی سے گزر کر آئیں تو چلاس ایک دل کش شہر محسوس ہوتا ہے۔
سطح سمندر سے 950 میٹر کی بلندی پر واقع یہ شہر دنیا کی مشہور چوٹی نانگا پربت کا انتظامی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ فیری میڈوز جانے والے سیاحوں کے لیے قریب ترین شہر چلاس ہے، جہاں بہترین ہوٹل اور بینک بھی موجود ہیں۔ یہ علاقہ سلاجیت، چلغوزے اور صنوبر کے جنگلات کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔
چلاس سے 61 کلومیٹر دور رائے کوٹ پل سے ایک راستہ دائیں جانب بلند ہوتا ہے اور تاتو گاؤں سے ہوتا ہوا پاکستان کی دوسری بلند ترین ’قاتل‘ چوٹی تک جاتا ہے، 1953 میں عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما ہرمن بوہل یہاں آئے تھے تو انہوں نے نانگا پربت کے پہلو میں آباد سبزہ زاروں کو فیری میڈوز کا نام دیا تھا۔
چلاس، دریائے سندھ کے کنارے پر سانس لیتا ہے، اس لیے چلاس کی بے آب و گیاہ ویرانی اور وسعت بھی سندھی مزاج کی حامل ہے۔ چلاس کے قریب، دریائے سندھ کی اترائی میں بدھ عہد کی چٹانیں ہیں، جو دریا کے ریتلے کناروں میں سے ابھر کر اپنی پہچان کرواتی ہیں۔ ان چٹانوں پر ہزاروں برس قدیم نقش کھدے ہوئے ہیں، جن کو غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ نقش جانوروں اور شکاریوں کے ہیں۔
مہاتما بدھ کے گیان کے چند لمحے بھی نقش ہیں، جو بدھ یاتری چین سے تکشیلا تک سفر کرتے تھے، ان کے ہاتھوں کی لکیریں بھی نقش ہیں۔ ہزاروں چٹانوں پر مہاتما بدھ کے زائرین کے نقوش کنندہ ہیں۔آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق پتھروں پر یہ نقش بھی پتھر کے اوزاروں سے بنائے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمانہ قدیم میں چلاس بھی ریاست کامبوجا کا حصہ رہا ہوگا۔
جمعے کے روز بازار اس طرح بند ہوتے ہیں کہ معالج بھی نہیں ملتے۔ اگر چلاس کے قریب آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے اور وہ دن جمعے کا ہے تو پھر آپ کو اگلے دن تک انتظار کرنا ہوگا۔ گلگت اور سکردو کے لوگوں کے برعکس چلاس کے لوگ جھگڑالو اور چڑ چڑے ہیں۔ سنگلاخ چٹانوں جیسی کرخت مزاجی یہاں کی پہچان ہے۔ جرائم کی شرح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گلگت اور سکردو کے دیگر اضلاع کی نسبت چلاس کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد زیادہ اور نوعیت سخت ہے۔یہ شہر اپنی الگ سی شناخت کے باوجود پاکستان کی جنت نظیر وادیوں کا دروازہ ہے، اس لیے
نگران یا سیاسی حکومت میں عہدے کی کوئی دلچسپی نہیں
یہاں سے گزرنا تو پڑتا ہے۔
