عمران کے لئے کھودے کنویں میں اتحادی جماعتیں خود گر گئیں؟
معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے اقتدار سے نکالا جانا عمران خان کو راس آ گیا ہے۔ اب جتنا وقت گزرے گا، عمران کی مقبولیت بڑھے گی اور حکومت اتحادی جماعتیں عوام سے دور ہوتی جائیں گی۔ یعنی عمران کے لیے جو کنواں کھودا گیا تھا، اس میں لگتا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتیں بڑے ہی وثوق سے اوندھے منہ جاگری ہیں۔ لہٰذا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ مشرف دور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار محدود کرنے کی خاطر چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو عمران میں ایک چمکتا ہوا متبادل نظر آیا جو انکا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ سکے۔ پھر کیا تھا، عمران کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہوتی چلی گئیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا دست شفقت اس کے سر پر آ گیا۔ دوسری جانب یہ ہوا کہ پاکستانی کی ڈیماگرافی یعنی آبادی میں بھی نوجوانوں کی اکثریت ہو گئی اور وہ سوشل میڈیا پر چھانا شروع ہو گئے۔
یوں پاکستانی معاشرے کی سب سے متحرک آبادی یعنی نوجوانوں کے ہیرو بن کر عمران خان نے ساری پرانی سیاسی قوتوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ طرز کی سیاست سے سیاسی منظر پہ چھانا شروع ہو گئے۔
حنا ربانی کھر کو سٹائلش سیاستدان کیوں کہا جاتا ہے؟
لیکن امتیاز عالم یاد دلاتے ہیں کہ ٹرمپ اور عمران خان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ٹرمپ امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ یعنی پینٹاگون کو چیلنج کرکے سامنے آئے تھے جبکہ عمران خان طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیس بن کر اقتدار کی منزل تک پہنچے۔ جو چورن عمران نے لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے بیچا وہ دیگر پاپولسٹ لیڈروں کی طرح چوں چوں کا مربہ تھا یعنی چوروں سے نجات، لٹیروں کا احتساب، مدینہ کی ریاست، ایک نہیں دو پاکستان، اور جدید قدامت پسندی جیسے نعرے لگائے گئے۔ ایسے میں ظاہر ہے جب عمران کو عوامی حمایت مل گئی تو وہ کسی کے کاسہ لیس کیوں رہتے۔ پھر کیا تھا، عمران نے ایک نیا بیانیہ دے دیا۔ قومی خود داری، قوم پرستی اور مذہبی کارڈ نے مل کر دو آتشے کا کام کیا۔ اس دوران جب کپتان اور چیف کا ایک صفحہ پھٹا تو عمران اپنے ہی زور پر قد آور لیڈر بننا شروع ہو گئے جس طرح کبھی نواز شریف بنے تھے۔ لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ان کے ساتھ اب جدید زمانے کی قدامت و جدیدیت کی عجب ملغوبہ مڈل کلاس ہے جس کے مرد و زن نوجوان جدید اطلاعاتی انقلاب کے زور پہ ایک ایسے انقلاب کے داعی ہیں جس کا نہ تو کوئی واضح ہدف ہے اور نہ ہی کوئی بڑا مقصد ہے۔
بقول امتیاز عالم عجب اتفاق ہے کہ اتحادیوں کی وفاقی حکومت غیر مقبول فیصلے کررہی ہے اور آزاد منڈی اور عالمی مالیاتی اداروں کی اسیر ہے، جبکہ عمران خان خیبرپختونخوا کے بعد اب پنجاب میں احساس پروگرام کو بحال کر کے صحت کارڈ اور راشن کارڈ بحال کرکے مسیحائی سیاست کرنے جارہے ہیں۔ یوں جتنا وقت گزرے گا اتنا عمران خان کی مقبولیت بڑھے گی اور اتحادی جماعتیں عوام سے دور ہوتی جائیں گی۔ عمران خان کے لیے جو کنواں کھودا گیا تھا، اس میں لگتا ہے اتحادی جماعتیں بڑے ہی وثوق سے اوندھے منہ جاگری ہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ چار مہینوں میں ملکی سیاست نے عجیب و غریب پلٹا کھایا ہے جس کے نتیجے میں ولن اب ہیرو بن گئے ہیں اور ہیرو ولن بن چکے ہیں۔ سیاسی طور پر ڈوبنے والے مخالف لہروں کی نذر ہو جانے کی بجائے بیچ منجھدار سے تیر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور جو لوگ ڈبونے نکلے تھے وہ طوفانی لہروں کی لپیٹ میں اس برج طرح پھنس چکے ہیں کہ نہ تو نکل پا رہے ہیں اور نہ ہی تیر پا رہے ہیں۔ سیاست کے اسٹاک ایکسچینج میں اب پی ٹی آئی کا ڈالر اوپر ہی اوپر جا رہا ہے اور پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا روپیہ ہے کہ گرنے سے باز ہی نہیں آرہا۔ ووٹ کو عزت دو والے اسکی بے حرمتی کی راہ پر نکلے لگتے ہیں جبکہ پاکستان ڈبونے والے مسیحائی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ امتیاز کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر کسی نے سیاست کی مبادیات کو دوبارہ سے تحریر کیا ہے تو وہ عمران خان ہیں۔ اسوقت ان کے علاوہ کوئی پاپولسٹ لیڈر نظر نہیں آتا۔ نواز شریف اور آصف زرداری اب پرانی کتاب کے المیاتی کردار ہیں جبکہ عمران خان کوایک کرکٹ ہیرو اور انسانی خدمتگار سمجھا جاتا ہے جو اب اپنی خالق طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے۔
