شہبازحکومت بچ جائے گی لیکن پرویز حکومت گھرجائے گی

معروف لکھاری اور تجزیہ کارعمار مسعود نے کہا ہے کہ نہ تو قومی اسمبلی ٹوٹے گی، نہ ہی جلد نئے انتخابات ہونے والے ہیں اور نہ ہی چودھری پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب زیادہ عرصہ اپنے عہدے پر برقراررہ پائیں گے کیونکہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ظلم و جبر کا وہ نظام جو 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں تشکیل دیا گیا تھا اب تنکا تنکا کر کے خس وخاشاک کی طرح بہہ جانے والا ہے۔ اب ہرجانب سے اختلاف، انحراف اور بغاوت کی آوازیں اٹھ رہی ہے۔ وہ جو چپ چاپ ظلم برداشت کئےجا رہے تھے اب انہوں نے علم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جو بہتان اور الزام کا مسلسل نشانہ بنتے جا رہے تھے اب انھوں نے ترکی بہ ترکی جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سماج میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک نئے انقلاب کی آواز ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت دو طرح کے لوگوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ جو جمہوریت کے دل دادہ ہیں اور دوسرے وہ جو آمریت کے شائق ہیں۔ یہ تقسیم ہر طرف نظر آ رہی ہے۔ اس اختلاف کے اثرات گھروں میں بھی ہیں اورسڑکوں پر بھی، ایوان بھی اس تقسیم سے گونج رہے ہیں، عدلیہ کے فیصلے بھی اسی تقسیم کا حصہ ہیں اورصحافی بھی دو دھڑوں میں بٹ چکے ہیں، ان اختلافات کا سامنے آنا شبھ گھڑی ہے۔ کیونکہ جب تک لوگ چپ ہوتے ہیں لاوا پکتا رہتا ہے۔ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ برسوں کی خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ لوگ بات کر رہے ہیں اور ہر وہ بات کرہے ہیں جس کی ماضی میں ممانعت تھی، جس پر قدغن تھی۔ جس پر پابندی تھی۔ اس طرح کی آوازیں بالآخر مکالمے کو ترویج دیتی ہیں۔ ڈائیلاگ کی طرف لے کر آتی ہیں۔ یہی ہماری سیاست اور جمہوریت کا مفقود عنصر تھا۔ یہی خاموشی اور زباں بندی ہمارا مقدر تھا لیکن چند صحافیوں کی توانا آوازوں نے، چند نڈر وکیلوں نے، چند منصف ججز نے، اور چند آئین کی پاسداری کرنے والے رکھوالوں نے اس فاسد نظریے کو ادھیڑ کر رکھ دیا جو برسوں سے ہماری کھوپڑیوں میں بٹھایا جا رہا تھا۔ یہ اس نظام کی فتح ہے۔ جمہویت کے ہر ایوان کی جیت ہے۔

باپ اور بیٹے کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنانے کی اصل وجہ کیا؟

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ جو ہیجان اس وقت قارئین کو سیاست کے ایوانوں میں نظر آ رہا ہے اسی میں تعمیر کا پہلو ہے۔ اسی انتشار میں امن کا پیام ہے۔ بات سہل کرتے ہیں ،اس تاریک دور کا موازنہ ایک اور دورِ الم ناک کے اختتامی ایام سے کرتے ہیں۔ پرویز مشرف کے پر آشوب آمرانہ دور کے آخری دن یاد کریں تو ایسا ہی ماحول تھا۔ ایسی ہی آوازیں سر اٹھا رہی تھِیں۔ تب بھی عمران خان کی جانب سے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیے جانے والے چوہدری پرویزالٰہی فرما رہے تھے کہ ہم ایک وردی والے کو سو بار بھی ملک کا صدر منتخب کریں گے۔ تب قوم کا سب سے بڑا مسئلہ مشرف کی صدارت تھی۔ آج دبئی کے ایک ہسپتال میں بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والا مشرف مکے دکھا دکھا کر اور لہرا لہرا کر عدلیہ اور عوام کو دھمکا رہا تھا۔ اس وقت بھی عدالتوں اور وکیلوں اور بار ایسوی ایشنز کے طرف سے نعرہ مستانہ بلند ہوا تھا۔ اس زمانے میں بھی غیر جمہوری قوتوں اور جمہوری قوتوں میں خلیج واضح ہو رہی تھی۔ اس وقت بھی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں۔ اس عہد میں بھی بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا تھا۔ اس دور میں بھی نواز شریف نکلا تھا اور ظلم کی رات کا پردہ چاک کر دیا تھا۔

عمارمسعود کے بقول، آج بھی صورتحال مختلف نہیں۔ آج بھی جمہوری قوتوں اورغیرجمہوری قوتوں میں ٹکرائو لازم ہو گیا ہے۔ آج بھی پرویز الہٰی غیر جمہوری قوتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ آج بھی عمران خان نامی ایک شخص اداروں اور عوام کو دھمکا رہا ہے۔ آج بھی چند منصف جج، وکلاء تنظیمیں اوربارایسوسی ایشنز میدان عمل میں اتری ہوئی ہیں۔ آج بھی فیصلہ نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ جس وقت نواز شریف نے واپسی کا فیصلہ کیا، ظلم کا یہ نظام خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ کچھ لوگوں کو بات ابھی سمجھ نہیں آئے گی۔ وہ ابھی دیر تک اسی ورطہ حیرت میں رہیں گے کہ جن کو وہ پوجتے رہے، جن کا بت بنا کر اسکی پرستش کرتے رہے وہ کیسے دھڑام سے گر جائیں گے۔ جن کے نام سے لوگ لرزتے رہے وہ کس طرح خوفزدہ سے عام انسانوں میں بدل جائیں گے۔ ایسے لوگوں کیلئے یہی مشورہ ہے کہ عوامی شعور کو پرکھنا سیکھ جائیں۔ پاکستان جس ہائی برڈ نظام سے گزشتہ چار سال دو چار رہا ہے وہ نظام اب خود اپنے بوجھ سے منہدم ہونے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ وہ نظام جس کی پرورش بڑے ناز سے دو دہائیوں سے کی گئی تھی، وہ اب زمیں بوس ہونے والا ہے۔ اس نظام کو بدلنے کی جدوجہد میں بے شمار نام آتے ہیں لیکن اگر اس نظام سے نجات مل جاتی ہے تو اس کا سہرا صرف عوام کے سر ہو گا جنہوں نے چپ کا روزہ توڑ کر اپنی آواز کو بلند کیا، بقول عمار مسعود ایسا نہیں ہے کہ اچانک سب دیواریں گر جائیں گی اور ہر طرف’’تاج اچھالے اور تخت گرائے جائیں گے‘‘ کا نعرہ بلند ہو جائے گا۔ ظلم کا نظام گرتے گرتے بھی اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب فیصلے کی گھڑی آپہنچی ہے اور ایک نیا دور آنے کو ہے۔ سلطانی جمہور کا زمانہ چند قدم کی مسافت پر ہے۔ اب نہ تو جلد انتخابات ہوں گے اور نہ ہی پنجاب زیادہ دیر تک پرویز الہٰی کے قبضے میں رہے گا کیونکہ ایک نیا دور ہمارا منتظر ہے جو ’’نئے پاکستان‘‘ سے کہیں زیادہ خوش کن اور خوش گوار ہو گا۔

Back to top button