شجاع پاشا نے بھارتی تاجروں سے عمران کو فنڈز کیسے دلوائے؟
معلوم ہوا ہے کہ جن پانچ بھارتی تاجروں نے عمران خان کی تحریک انصاف کو متحدہ عرب امارات کے شیخ النہیان کے ذریعے کروڑوں روپے کی فنڈنگ کی تھی ان میں سے وجے بھونت نامی شخص بھارت کا سابق سیکرٹری خارجہ رہا ہے۔ وجے بھونت یو اے ای کے شیخ النہیان کے کافی قریب تھا اور اسی کی پر زور سفارش پر ہی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کو ریٹائرمنٹ کے بعد 2013 میں متحدہ عرب امارات کا نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ احمد شجاع پاشا کو پروجیکٹ عمران خان کا بانی قرار دیا جاتا ہے جنکی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ پروجیکٹ آئی ایس آئی کے اگلے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے آگے بڑھایا اور 2014 میں عمران خان سے نواز حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دلوایا۔ لیکن پروجیکٹ عمران خان کی تکمیل 2018 کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے ذریعے کی گئی۔ اس مشن کی ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو سونپی گئی تھی جو تب آئی ایس آئی میں بطور ڈپٹی چیف کام کر رہے تھے۔ اس دھاندلی کے نتیجے میں برسراقتدار آتے ہی وزیراعظم عمران خان نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیا اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا ڈی جی مقرر کر دیا۔ بطور آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید نے عمران کے لیے جو کچھ کیا اور اب بطور کور کمانڈر پشاور کر رہے ہیں، وہ سب جانتے ہیں۔ اب بھی احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام ان ریٹائرڈ فوجی افسران میں شامل ہیں جو کھل کر عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پرو تحریک انصاف دھڑے کا حصہ ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مانیٹری فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر لندن میں پچھلے ایک برس سے اپنے گھر پر زیر حراست ابراج گروپ کے پاکستانی مالک عارف نقوی نے تصدیق کی ہے کہ یہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا تھے جنہوں نے ان سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے فنڈز کا بندوبست کرنے کو کہا تھا۔ احمد شجاع پاشا نے 2011 سے 2014 کے دوران دبئی میں عمران خان کی عارف نقوی اور دبئی کے بزنس مین عمران چوہدری سے بھی کئی ملاقاتیں کروائیں جن کا بنیادی مقصد تحریک انصاف کے لئے پیسے اکٹھے کرنا تھا۔ عارف نقوی، شجاع پاشا اور عمران کی ملاقاتیں دبئی کے مہنگے ترین علاقے ایمریٹس ہل میں ہوئیں جہاں عارف ایک بڑی حویلی میں رہتے تھے۔ عمران چودھری نامی بزنس مین پی ٹی آئی کے ڈونر ہیں اور انکا گھر بھی ایمرٹس ہل کے علاقے میں عارف نقوی کے بنگلے سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔
تاریخی اقدام، اسلام آباد ہائیکورٹ کی لائیو سٹریمنگ کا فیصلہ
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ النہیان کے قریب سمجھے جانے والے سابق بھارتی سفارت کار وجے بھونت کا بھی عارف نقوی سے گہرا تعلق تھا جس کے ذریعے ان کی احمد شجاع پاشا سے بھی دوستی ہوگی۔ یہ عارف نقوی کی ایمرٹس ہل والے بنگلے میں ہوئی دعوت تھی جس میں شیخ النہیان کے علاوہ وجے بھونت اور چار ارب پتی بھارتی تاجر بھی شریک ہوئے تھے اور تحریک انصاف کے لیے چندے کے بھاری چیک دیے تھے۔ یعنی عارف نقوی نے خود عمران خان کو 3 ملین ڈالرز کی فنڈنگ کرنے کے علاوہ بھارتی تاجروں سے بھی کئی ملین پاؤنڈز کی ڈونیشن دلوائی جو کہ غیر قانونی فارن فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران نے شجاع پاشا، عارف نقوی اور عمران چودھری کی موجودگی میں ان ارب پتی بھارتی تاجروں سے ملاقاتیں کیں۔
بتایا جاتا ہے کہ عمران خان جب بھی دوبئی جاتے عارف نقوی اور احمد شجاع پاشا ان کے اعزاز میں عشائیے منعقد کرواتے جن میں ملکی اور غیر ملکی مالدار شخصیات بڑی تعداد میں شریک ہوتیں اور تحریک انصاف کے لیے چندہ دیتیں۔ ایسے عشائیوں میں احمد شجاع پاشا اکثر خطاب کرتے اور یہ درمندانہ اپیل کیا کرتے کہ پاکستان کی بقا اب صرف تبدیلی میں ہے اور وی تبدیلی صرف عمران خان لا سکتے ہیں لہٰذا ان کو اقتدار میں لانے کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق پی ٹی آئی کو بیرون ملک سے اب تک 62 ارب روپے کی فنڈنگ ہو چکی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے دنیا بھر کا سفر کیا اور اسی لئے مانیٹری فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں گرفتاری کے باوجود عمران اب بھی ان کا دفاع کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ خان صاحب نے اگلے روز اے آر وائی پر ایک انٹرویو میں یہ فتویٰ دیا کہ عارف نقوی ایک بہت وژنری اور ٹیلنٹڈ آدمی ہے لہذا اگر اس نے کوئی چھوٹا موٹا منی لانڈرنگ کا فراڈ کر بھی لیا تو اس میں برا کیا ہے۔
لوگوں کی یادداشت کے لیے بتانا ضروری ہے کہ عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے لیے فنڈنگ کرنے اور کروانے کا فریضہ بغیر وجہ سے انجام نہیں دیا تھا بلکہ وہ اس کے عوض عمران کے برسراقتدار آتے ہی ذاتی فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عمران کے وزیر اعظم بننے کے بعد عارف نقوی نے کراچی الیکٹرک کے شئیر بیچنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس سلسلے میں عمران خان سے یقین دہانی بھی حاصل کر لی تھی کیونکہ ایسا کرنے کے لئے حکومتی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عارف نقوی کی لندن میں فراڈ کے الزامات پر گرفتاری سے کچھ ہی عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان اور شہنگائی الیکٹرک کمپنی کے سربراہ میں ملاقات ہو چکی تھی جس میں عارف نقوی بھی شریک تھے۔ کے الیکٹرک کی فروخت سے قبل کمپنی کو نجکاری کمیشن سے نیشنل سکیورٹی سرٹیفکیٹ مطلوب تھے جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے کمپنی پر واجبات بھی قابل ادائیگی تھے اور عمران حکومت اس معاملے میں کھل کر انکا ساتھ دے رہی تھی۔
اب عمران خان کی جانب سے عطیات کے نام پر ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی اور متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان سے کروڑوں روپے وصول کرنےکا سکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد اب تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ باہر کے ممالک سے آنے والی فنڈنگ قانونی تھی۔ یعنی پی ٹی آئی کی قیادت نے پہلی مرتبہ اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے فارن فنڈنگ کے الزام کو قبول کرلیا ہے۔برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز میں تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ بارے تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد فواد چوہدری نے کہا ہے کہ برطانیہ سے ہونے والی فنڈنگ غیر قانونی نہیں بلکہ قانونی ہے۔ تاہم وہ یہ دعویٰ کرتے ہوئے بھول گئے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت کوئی بھی سیاسی جماعت کسی غیر ملکی شخص یا ادارے سے ایک پیسے کی فنڈنگ بھی نہیں لے سکتی اور ایسا کرنے والی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے جیسا کہ ماضی میں نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ ہوا تھا۔
