عارف نقوی کے خلاف امریکی فردِ جرم میں عمران بھی شامل
عمران خان کے دوست اور ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کے خلاف زیر سماعت سنگین مالی فراڈ کے کیس میں امریکی استغاثہ نے ان کے خلاف دائر کردہ فوجداری فرد جرم میں چار پاکستانی سیاست دانوں کی شناخت کیے بغیر انکا ذکر کیا تھا جنہیں نقوی نے فنڈنگ کے نام پر رشوت دی تاکہ ذاتی فوائد حاصل کر سکیں۔ اب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک چشم کش تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان چار پاکستانی سیاستدانوں میں سے عمران خان کا نام کنفرم ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ سال 2019 میں امریکی پراسیکیوٹرز نے عارف نقوی کے خلاف اپنی فرد جرم میں یہ الزام لگایا تھا کہ 2013 سے 2016 کے درمیان پاکستانی ’’سیاستدان نمبر 4‘‘ کو نقوی نے رشوت دی تھی۔ امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے دائر کردہ 77 صفحات پر مشتمل فرد جرم کی دستاویز میں صفحہ 25 پر الزام لگایا گیا کہ 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی نے مدعا علیہان رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی کی مدد سے ابراج گروپ کے فنڈز کا استعمال ایک اور پاکستانی ’سیاستدان نمبر 4‘ کو رشوت دینے اور انکے کھانے اور سفر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ سیاست دان نمبر 4 عمران خان تھے۔ فرد جرم کے صفحہ 23 پر بحث کی گئی ہے کہ کس طرح عارف نقوی کی ہدایت پر ابراج انٹرپرائز کے اراکین نے بھی گروپ کے فائدے کے لیے پاکستانی سیاستدانوں کو رشوت دی۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق فرد جرم کے پیرا 54 میں امریکی پراسیکیوٹر نے الزام لگایا تھا کہ مثال کے طور پر جون 2016 میں مدعا علیہ عارف نقوی نے پاکستان میں ’سیاستدان نمبر 1‘ کو دو دیگر سیاستدانوں یعنی نمبر 2‘ اور اور نمبر 3‘ کے ساتھ مل کر سیاست دان نمبر 1 کو ’لین دین کے مشیر‘ کے طور پر شامل کرنے اور 20 ملین ڈالرز دے کر مختلف معاہدے کرانے کا اختیار دیا تھا۔ ان معاہدوں میں کراچی الیکٹرک پاور لمیٹڈ بھی شامل تھا جس کے شیئرز عارف نقوی نے ابراج گروپ کے کھاتے سے خریدے تھے۔ کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے الیکٹرک لمیٹڈ کیلئے ایک ہولڈنگ کمپنی ہے، جو پاکستان میں برقی توانائی کی یوٹیلٹی ہے، جس میں مختلف ابراج برانڈڈ اداروں نے تقریباً 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ امریکی فرد جرم میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنی ای میل میں ذاتی طور پر معاہدے اور ادائیگی کی منظوری دیتے ہوئے عارف نقوی نے ابراج کے ایک سینئر ممبر ایگزیکٹو کو معاہدے میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی۔ مزید کہا گیا کہ حقیقت میں اس معاہدے کا مقصد سیاست دان نمبر 1 کے ذریعے کراچی الیکٹرک میں موجود ابراج گروپ کے حصص فروخت کرنے کے لیے سیاست دان نمبر 2 اور سیاست دان نمبر 3 پر اثر انداز ہونا تھا۔ فرد جرم کے مطابق معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے سیاست دان نمبر 1 نے ممبر ایگزیکٹو کو اطلاع دی کہ سیاست دان نمبر 2 اور سیاست دان نمبر 3 کو یہ کام کروانے کے لئے انعامی رقم بھی دینا پڑے گی۔
فواد چودھری کو حنا ربانی کھر پر تنقید مہنگی کیسے پڑی؟
امریکی فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ 2013 اور 2016 کے درمیان مدعا علیہ عارف نقوی کو رفیق لاکھانی اور وقار صدیقی نے مدد فراہم کی۔ ان دونوں مدعا علیہان نے ابراج گروپ کے فنڈز کا استعمال پاکستانی سیاستدان نمبر 4 کو رشوت دینے اور اس کے کھانے اور سفر کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کیا۔ اگرچہ فرد جرم میں سیاستدان نمبر 4 سمیت چاروں سیاستدانوں میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن اب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ ابراج گروپ کے عارف نقوی کے خلاف دائر کردہ امریکی فرد جرم میں جس سیاستدان نمبر 4 کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ عمران خان ہیں۔
