نواز کے مشورے کے برعکس شہباز کا حکومت میں رہنے کا فیصلہ
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے حکومت چھوڑ دینے کے مشورے پر بحث و تمحیص کے بعد اب وزیر اعظم اور انکے اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کو برقرار رکھا جائے گا اور اگلے الیکشن وقت پر کروائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز شریف نے مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیاسی مسائل کے پیش نظر قومی اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کا اعلان کردیا جائے اور نئے انتخابات کی تیاری شروع کر دی جائے۔ دوسری جانب نہ تو شہباز شریف ایسا کرنے پر آمادہ تھے اور نہ ہی ان کی اتحادی جماعتیں نئے الیکشن کروانے کا رسک لینے پر آمادہ تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کے بعد ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آچکا ہے اس کے دوران نئے الیکشن میں جانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ لیکن ان توجیہات کے باوجود نواز شریف اور مریم نواز کو حکومت میں رہنے پر آمادہ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ نواز شریف کی جانب سے حکومت چھوڑ دینے کی تجویز کے بعد پی ڈی ایم قیادت اور مسلم لیگی ن کے متعدد مشاورتی اجلاس ہوئے جن میں نواز شریف اور مریم نواز ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔
ان اجلاسوں میں شہباز شریف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، اور رانا تنویر وغیرہ نے حکومت میں رہنے کے حق میں دلائل دیے اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس وقت فوری انتخابات مسلم لیگ (ن) کیلئے بڑی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ نومبر میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ ہے اور نیا آرمی چیف لگانے کا فیصلہ بھی موجودہ حکومت کو ہی کرنا چاہیے تاکہ فیض حمید کو فوج کا سربراہ بننے سے روکا جاسکے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے حکومت برقرار رکھنے کا فیصلہ کر کے بڑا خطرہ مول لیا ہے کیونکہ موجودہ غیریقینی سیاسی صورتحال میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کچھ عرصے پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورت حال کیا ہو گی اور حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کچھ مہینے پہلے جب شہباز حکومت نے اسمبلی نہ توڑنے کا فیصلہ کیا تھا تو تب اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ گارنٹی دی گئی تھی کہ آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے مطابق پٹرول اور بجلی مہنگی کرنے کے بعد عوامی رد عمل سے بچانے کے لیے حکومت کو نئے الیکشن میں نہیں دھکیلا جائے گا اور اسے اگست 2013 تک اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے گی۔ تاہم مسلسل عدالتی مداخلت کے بعد اب پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور ایک ایسا بڑا سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت بھی خطرے میں ہے۔ لیکن پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا اجلاس منعقد کر کے یہ اعلان کیا ہے کہ مرکزی حکومت برقرار رہے گی اور الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔
پی ٹی آئی اپنا جھوٹا بیانیہ سچا کیسے ثابت کرتی ہے؟
مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعلان کرنے سے پہلے نواز شریف سے بھی منظوری لی گئی تھی جنہوں نے حکومت چھوڑنے اور نئے الیکشن کروانے کی تجویز دی تھی، لیکن اب انہیں حکومت برقرار رکھنے پر آمادہ کرلیا گیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دو متحارب دھڑے نئے آرمی چیف کے معاملے پر نبرد آزما ہیں اور فوج کا پرو عمران خان دھڑا چاہتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران مزید گہرا ہو اور مرکزی حکومت گر جائے تاکہ نومبر سے پہلے نئے انتخابات کا انعقاد ہو سکے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف حکومت صرف چند ووٹوں پر کھڑی ہے اور اگر عسکری اشاروں پر چلنے والی ایم کیو ایم یا باپ پارٹی اس کا ساتھ چھوڑ دیں تو حکومت دھڑام سے نیچے آن گرے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ بھی معلوم نہیں کہ گرتی ہوئی معیشت سنبھلتی بھی ہے کہ نہیں؟ ان تمام اندیشوں اور خطرات کے باوجود نواز شریف کی توثیق سے پی ڈی ایم کے اجلاس میں حکومت نے اگست 2023 تک اقتدار میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کی اکثریتی جماعتوں نے حکومت چھوڑنے کی مخالفت کی اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نئے الیکشن میں جانا سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے وقت پورا کیا جائے اور معیشت کو سنبھالنے کی کوشش تیز کی جائے تاکہ اگلے الیکشن تک حکومت اتحاد کی پوزیشن بہتر ہو سکے۔
