پنجاب اور کے پی میں فوری الیکشن کا انعقاد ممکن کیوں نہی؟

پنجاب اور کے پی میں الیکشن کے فوری انعقاد کے امکانات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔ وزرات خزانہ نے جہاں دونوں صوبوں میں الیکشن کے انعقاد کیلئے فوری 15ارب روپے فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے وہیں خفیہ سیکیورٹی ایجنسیوں آئی ایس آئی، آئی بی اور سی ٹی ڈی نے متفقہ طور پر دہشتگردانہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات نہ کرانے کا مشورہ دے دیا ہے جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے دونوں صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کا حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 8 مارچ کو الیکشن شیڈول جاری کیا تھا جس کے مطابق پنجاب کی تمام صوبائی نشستوں اور 6 قومی حلقوں میں پولنگ 30 اپریل کو ہونا طے پائی تھی لیکن اب سیکیورٹی اداروں کی اطلاع کی روشنی میں اس حوالہ سے نظر ثانی متوقع ہے۔ خیبر پختونخوا کے لیے الیکشن شیڈول فی الحال جاری نہیں ہوا ہے۔دہشت گردی کے خدشات سے آگاہی جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی جس میں ممبران الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجینس ایجنسیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی پر بات کرتے ہوئے دونوں صوبوں کے انتخابات کے لیے 3 لاکھ 53 ہزار اضافی نفری کا مطالبہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب میں پولیس کے علاوہ 2 لاکھ 97 ہزار دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار درکار ہوں گے جبکہ خیبر پختونخوا میں 56 ہزار مزید نفری درکار ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے الیکشن کمیشن کو تھریٹس کے حوالے سے آگاہ کیا اور سیکورٹی اداروں نے موجودہ سیکیورٹی تھریٹس کی بنیاد پر اس وقت الیکشن نہ کروانے کا مشورہ دیا، دوران اجلاس خفیہ اداروں نے انتخابات کرانے کی متفقہ طور پر مخالفت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے حساس اداروں کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکیورٹی تھریٹ الرٹ گزشتہ سال کی نسبت بہت زیادہ ہے، سکیورٹی تھریٹس بہت زیادہ اور شدت کے ہیں۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ عمران خان، بلاول بھٹو اور مولانافضل الرحمان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے انٹیلی جنس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ انتخابات کے نتائج کسی ایک جماعت نے ماننے سے انکار کیا تو نیا تنازع بھی پیدا ہو سکتا ہے۔جس کے بعد الیکشن کمیشن نے طے کیا کہ دونوں صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ سیکیورٹی اداروں کی بریفنگ کی روشنی میں آئندہ ہفتہ کیا جائے گا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا تھا جس کے مطابق کمیشن کو صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال اور دیگرمتعلقہ امور پر مفصل بریفنگ دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق بریفنگ کا مقصد صوبوں میں پرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا تھا۔الیکشن کمیشن نے الیکشن سکیورٹی سے متعلق آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ، اجلاس میں وزرات دفاع اور وفاقی حساس اداروں کے حکام بریفنگ دیں گے۔جس کے بعد الیکشن کے انعقاد بارے حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں انتخابات کے لیے 30 اپریل کی تاریخ کا اعلان کر چکا ہے اور الیکشن شیڈول بھی جاری ہو چکا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخوا غلام علی کو حتمی مشاورت کے لیے 14 مارچ کو اسلام آباد طلب کیا ہے۔

نواز شریف کی وطن واپسی کا فیصلہ، اعلان جلد متوقع

Back to top button