عمران کی محسن نقوی مخالف سازش کیسے بے نقاب ہوئی؟

آٹھ مارچ کو پی ٹی آئی کے کارکن علی بلال عرف ظل شاہ کی ہلاکت کے اصل شواہد سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے سفید جھوٹ ،سازشی ذہنیت اور انتشار پھیلا کر ملک کو مستقل بحران کا شکار رکھنے کی پالیسی پر ایک مرتبہ پھر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے، پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ سید محسن نقوی نے نگران وزیر اطلاعات عامر میر اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مظلوم علی بلال کی ہلاکت کی واقعہ کے حوالے سے وڈیو ثبوتوں کے ساتھ جو سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، وہ معاملے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
اس سارے معاملے کو تفتیش کے اس زاوئیے سے بھی دیکھا گیا کہ کہیں پی ٹی آئی کے ایک متحرک کارکن کو جان بوجھ کر ہلاک تو نہیں کروایا گیا تاہم پولیس اب تک یہ ہی کہہ رہی ہے کہ یہ ایک حادثہ ہی ہے اگر یہ ایک حادثہ تھا بھی تو اسے پولیس تشدد کا رنگ دے دیا گیا، دونوں صورتوں میں مقصد یہ ہی تھا کہ سازش اور بدنیتی کی بنا پر ایک ” لاش ” حاصل کر کے اس پر تحریک انصاف کی انتشار کی سیاست کو مزید آگے بڑھایا جا سکے، اس ضمن میں مقتول کے والد کو بھاری رقم کی پیشکش اور یاسمین راشد کے کردار کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
گیارہ مارچ کو مقتول پی ٹی آئی کارکن علی بلال کی ہلاکت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے آئی جی پنجاب عثمان انور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس یہ معلومات آئی تھیں کہ متوفی تشدد سے ہلاک نہیں ہوا، بندہ مرنا کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے، لوگوں پر تشدد کرنے کی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ہم آپس میں بیٹھے اور اسی وقت ہمارے پاس یہ اطلاعات آئیں کہ وہ بندہ تشدد سے نہیں مرا، اس پر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے اسی وقت کام شروع کر دیا۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کل مقتول علی بلال کے والد لیاقت علی نے ویڈیو پیغام میں مجھ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کے بارے میں مکمل معلومات دی جائے، تفتیش کی جائے اور انصاف دیا جائے، ہماری یہ ذمہ داری 3 روز قبل ہی شروع ہوگئی تھی جب 6 بج کر 52 منٹ پر ایک کالے رنگ کی ویگو نے علی بلال کی لاش سروسز ہسپتال پہنچائی، فوری طور پر یہ اطلاع ہمارے پاس پہنچی اور ہم نے اسے ٹریک کرنا شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر یہ شخص پولیس تشدد سے ہلاک ہوا یا اس کے بارے میں ایسی کوئی چیز سامنے آئی جس میں پولیس کی زیادتی ثابت ہو تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وارث شاہ روڈ پر گلبہار سیکیورٹیز کی بیسمنٹ سے یہ گارڑی برآمد ہوئی، گاڑی میں علی بلال کا خون بھی موجود تھا، فارنزک جانچ کروادی گئی ہے۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ 6 بج کر 24 منٹ پر یہ گاڑی فورٹریس سٹیڈیم کے پل پر علی بلال سے ٹکرا گئی تھی، گاڑی چلانے والوں کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں تھا، ان کی علی بلال کو مارنے کی کوئی سازش نہیں تھی، انہوں نے اس کو فوری طورپر گاڑی میں ڈالا اور 6 بج کر 31 منٹ پر سی ایم ایچ ہسپتال پہنچایا لیکن گیٹ بند تھا، بعدازاں وہ اسے مختلف چوکوں سے لے کر 6 بج کر 52 منٹ پر سروسز ہسپتال پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ گرفتار کیے جاچکے ہیں جنہیں جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا، اس گاڑی کے مالک کا نام راجا شکیل ہے جن کی علی بلال کو قتل کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی، یہ پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے وائس پریزیڈینٹ ہیں۔آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا اس بدقسمت واقعے کو پولیس اور نظام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن ہماری ٹیکنکل ٹیم نے یہ سازش ناکام بنادی، انہوں نے اس پر کام کیا اور انہیں وہ موبائل میسجز مل گئے جس میں اس کا ذکر ہے، یہ تمام معلومات آپ کو فراہم کردی جائے گی کہ کس سیاسی لیڈر سے کس وقت کیا بات کی گئی۔
اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے دوبارہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ساڑھے 8 بجے گاری کے مالک راجا شکیل نے پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد کو اس حادثے کی تفصیلات دیں، یاسمین راشد نے اگلے روز صبح 9 مارچ کو انہیں زمان پارک بلایا۔انہوں نے کہا کہ اگلے روز وہ لوگ ایک سے 3 بجے کے درمیان زمان پارک پہنچ گئے تھے، یاسمین راشد کے ہمراہ راجا شکیل زمان پارک کے اندر پہنچے اور تمام رہنماؤں کو تفصیلات سے آگاہ کیا، پھر یاسمین راشد نے باہر آکر راجا شکیل کو کہا کہ آپ کی ملاقات کی ضرورت نہیں ہے میں نے سب کو آگاہ کردیا ہے، آپ جائیں اور آرام کریں، اس واقعہ کے بعد یہ لوگ روپوش ہوگئے تھے، گاری کے ڈرائیور نے اپنی داڑھی صاف کروالی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنما پریس کانفرنسز کرتے رہے کہ علی بلال کو تشدد کرکے قتل کیا گیا، علی بلال کے والد کے پاس جا کر یہ لوگ کہتے رہے کہ یہ قتل ہوا ہے، آپ کو ڈٹے رہنا ہے، ہم آپ کو پیسے دیں گے۔ محسن نقوی نے کہا کہ آپ کو جتنی سیاست کرنی ہے کریں لیکن ہمارے بارے میں جھوٹ نہ بولیں، میں اگر اس منصب پر نہ ہوتا تو کسی اور طرح جواب دیتا۔ان کا کہنا تھا کہ 30 اپریل کو انتخابات ہیں، حساس صورتحال میں ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں اپنا کام کرنے دیں، اس طرح کرنے سے میں دباؤ میں نہیں آؤں گا، دھمکی، گالم گلوچ اور ٹوئٹس سے میں سرینڈر کرنے والا نہیں ہوں، بہتر ہے گھر چلا جاؤں گا لیکن اس طرح دباؤ میں نہیں آؤں گا۔
پریس کانفرنس کے دوران گاڑی کے ڈرائیور جہانزیب کے اعترافی بیان کی ویڈیو سنائی گئی جس میں اس نے تسلیم کیا کہ اس کی گاڑی سے علی بلال کو ٹکر لگی تھی۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ ان گرفتار ملزمان کو عدالت میں بھی پیش کیا جائے گا، آج یہ تمام ثبوت علی بلال کے والد کے سامنے پیش کیے جائیں گے جس کے بعد ان شا اللہ قانونی کارروائی بھی مکمل کی جائے گی۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بتایا کہ میں نے آئی جی صاحب کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام شواہد علی بلال کے والد کے پاس لے کر جائیں گے، میں ان کے والد کو بھی داد دیتا ہوں جنہیں ہمارے خلاف کھڑے ہونے کے لیے کروڑوں روپے کی آفر کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی، مقتول کے اہل خانہ کی مالی معاونت کی جائے گی۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ متوفی علی بلال کو دیگر کارکنوں کے ہمراہ گرفتار کر کے پولیس وین میں بٹھایا گیا تھا تاہم مال روڈ پل پر مسجد کے قریب انہیں چھوڑ دیا گیا تھا جس کے ویڈیو بھی پولیس کے پاس موجود ہے۔
