ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 51.42 روپے فی یونٹ ہوگئی

حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ درآمد شدہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے سب سے مہنگا ایندھن بن گیا ہے، یہاں تک کہ اس نے فرنس آئل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کی جگہ لینے کے لیے تقریباً ایک دہائی قبل کئی ارب ڈالر کا ایل این جی انفراسٹرکچر قائم کیا گیا تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ہر مہینے کے لیے توانائی کی خریداری کے حوالہ جاتی نرخ مقرر کرنے کے فیصلے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بتایا کہ 6.94 روپے فی یونٹ کی لاگت کے ساتھ پن بجلی نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی کا سب سے سستا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
یہ درآمدی ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی 51.42 روپے فی یونٹ لاگت سے بہت سستی ہے، اس کے بعد فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 48.56 روپے فی یونٹ ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے گزشتہ دور (18-2013) میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے جو معاہدے کیے وہ ری گیسیفائیڈ
گانا فنکاری میں نے تحریر کیا، آئمہ بیگ نے صرف گایا تھا، شیراز اپل
مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) اور کوئلے سے متعلق تھے۔
